امریکہ کے معروف شاعر اور ادیب ایڈگر ایلن پو کی شہرہ آفاق نظم ’’دی ریون‘‘ The Ravenکا اردو ترجمہ۔
EPAPER
Updated: May 15, 2026, 1:41 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai
امریکہ کے معروف شاعر اور ادیب ایڈگر ایلن پو کی شہرہ آفاق نظم ’’دی ریون‘‘ The Ravenکا اردو ترجمہ۔
دسمبر کی راتیں ہمیشہ لمبی ہوتی ہیں، مگر کچھ راتیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو وقت سے نہیں بلکہ انسان کے اندر کے خلا سے لمبی ہو جاتی ہیں۔ وہ رات بھی ایسی ہی تھی۔
پرانا مکان شہر کے باقی گھروں سے ذرا فاصلے پر واقع تھا۔ سردیوں میں یہاں خاموشی جلد اتر آتی تھی۔ شام ڈھلتے ہی اردگرد کی گلیاں سنسان ہو جاتیں، درختوں کی ننگی شاخیں ہوا کے ساتھ آہستہ آہستہ ہلتی رہتیں، اور دور کہیں دریا کے بہاؤ کی مدھم سی آواز رات کے سکوت میں تحلیل ہو جاتی۔ اس مکان کی کھڑکیاں لمبی اور تنگ تھیں، دیواریں پرانی لکڑیوں کی تھیں، اور ہر راہداری میں ایک ایسی خاموشی بسی ہوئی تھی جو وقت کے ساتھ جاندار ہو گئی تھی۔ اوپر والی منزل کے آخری کمرے میں وہ آدمی اکیلا بیٹھا تھا۔ کمرے میں صرف ایک شمع جل رہی تھی۔ اس کی کمزور زرد روشنی کتابوں سے بھری دیواروں پر لرزتے ہوئے سائے بنا رہی تھی۔ کبھی کبھی ہوا کا جھونکا کھڑکیوں سے ٹکراتا تو شمع کی لو کانپ اٹھتی اور کمرہ چند لمحوں کیلئے یوں محسوس ہوتا جیسے اندھیرے نے روشنی کو نگل لیا ہو۔ وہ میز پر جھکا بیٹھا تھا۔
اس کے سامنے کھلی ہوئی کتاب کسی پراسرار علم کے بارے میں تھی، مگر وہ کئی منٹوں سے ایک ہی صفحے پر رکا ہوا تھا۔ اس کی آنکھیں لفظوں پر تھیں، مگر ذہن کہیں اور بھٹک رہا تھا۔ اس نے تھکے ہوئے انداز میں آنکھیں ملیں۔ کمرے میں سردی بڑھ رہی تھی مگر اسے احساس نہیں ہو رہا تھا۔ کچھ غم ایسے ہوتے ہیں جو انسان کے اندر کی تمام دوسری حسوں کو آہستہ آہستہ خاموش کر دیتے ہیں۔ بھوک، نیند، وقت، موسم، سب اہمیت کھو دیتے ہیں۔ صرف ایک چیز باقی رہ جاتی ہے۔ یاد۔
اور اس آدمی کی زندگی میں اب صرف یاد باقی رہ گئی تھی۔ لینور۔ یہ نام اس کے ذہن میں اس طرح آباد تھا جیسے کسی سنسان گرجا گھر میں آخری بجتی ہوئی گھنٹی کی آواز۔ وہ جتنا اسے بھولنے کی کوشش کرتا، یہ نام اتنا ہی گہرا اس کے اندر اترتا جاتا۔ کمرے کے ایک کونے میں ایک پیانو رکھا تھا جس پر کئی دنوں سے گرد جمی ہوئی تھی۔ کھڑکی کے قریب رکھی آرام کرسی خالی تھی مگر وہ خالی ہونے کے باوجود زندہ محسوس ہوتی تھی کیونکہ کبھی اس پر لینور بیٹھا کرتی تھی۔ وہیں، اسی کھڑکی کے پاس، جہاں بیٹھ کر وہ کتاب پڑھتے پڑھتے اچانک باہر گرنے والی برف کو دیکھنے لگتی تھی اور پھر مسکرا کر اسے آواز دیتی تھی۔ وہ آنکھیں بند کرتا تو اسے اب بھی لینور کی آواز سنائی دیتی۔ اور پھر وہ فوراً آنکھیں کھول دیتا کیونکہ حقیقت اس سے زیادہ بے رحم تھی۔ لینور مر چکی تھی۔
یہ جملہ وہ اپنے ذہن میں بے شمار مرتبہ دہرا چکا تھا، مگر ہر بار اسے ایسا لگتا جیسے پہلی بار سن رہا ہو۔ کچھ حقیقتیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں عقل قبول کر لیتی ہے مگر دل نہیں۔ اس نے اپنی کرسی پر سر پیچھے ٹکا دیا۔ چھت کی لکڑیوں پر سائے ہل رہے تھے۔ اسے وہ آخری دن یاد آنے لگا۔ لینور کئی ہفتوں سے بیمار تھی۔ پہلے پہل سب کو لگا تھا کہ یہ عام بخار ہے، مگر پھر اس کی کمزوری بڑھنے لگی۔ اس کی ہنسی آہستہ آہستہ کم ہوتی گئی، اس کے قدم ہلکے پڑتے گئے، اور اس کی آنکھوں میں ایک ایسی تھکن اتر آئی جسے دیکھ کر وہ اندر ہی اندر خوفزدہ ہونے لگا تھا۔ وہ ہر روز اس کے بستر کے قریب بیٹھتا، کتابیں پڑھ کر سناتا، اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لئے رہتا، اور دل ہی دل میں کسی معجزے کی دعا کرتا۔ مگر موت اکثر خاموشی سے آتی ہے۔ اس رات بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ لینور بہت دیر تک خاموش لیٹی رہی۔ پھر اس نے آہستہ سے آنکھیں کھولیں اور اسے دیکھا۔ اس نظر میں خوف نہیں، صرف اداسی تھی، اور محبت۔
’’تم مجھے بھول تو نہیں جاؤ گے؟‘‘ یہ اس کے آخری الفاظ تھے۔ وہ فوراً جھک گیا تھا۔
’’کبھی نہیں۔ ‘‘ اس نے جواب دیا تھا، اور اس لمحے اسے واقعی یقین تھا کہ وہ سچ کہہ رہا ہے۔ پھر لینور نے بہت ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ آنکھیں بند کر لی تھیں، اور دوبارہ کبھی نہیں کھولیں۔ کمرے میں بیٹھا وہ آدمی اچانک سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ اس کے سینے میں درد سا اٹھا تھا۔ اس نے گہری سانس لی اور خود کو حال میں واپس لانے کی کوشش کی۔
باہر ہوا اب پہلے سے زیادہ تیز ہو چکی تھی۔ کھڑکیوں کے شیشے ہلکے ہلکے کانپ رہے تھے۔ کہیں دور گھڑیال نے رات کے بارہ بجنے کا اعلان کیا۔ اس نے دوبارہ کتاب اٹھائی۔ یہ ان کتابوں میں سے تھی جنہیں لوگ عام طور پر چھپا کر رکھتے ہیں۔ پرانے علوم، روحوں، خوابوں، اور موت کے بعد کی دنیا کے بارے میں لکھی گئی تحریریں۔ پہلے وہ ایسی چیزوں پر یقین نہیں رکھتا تھا، مگر غم انسان سے وہ سب کچھ کروا لیتا ہے جس پر وہ کبھی ہنسا کرتا تھا۔ وہ کئی راتوں سے ان کتابوں میں صرف ایک چیز ڈھونڈ رہا تھا۔ امید۔ کوئی ایسا جملہ، کوئی ایسی سطر، جو یہ ثابت کر دے کہ موت آخری جدائی نہیں مگر ہر کتاب آخرکار خاموش ہو جاتی تھی۔ بالکل اس قبر کی طرح جہاں لینور سو رہی تھی۔ اسی لمحے اسے ایک آواز سنائی دی۔ بہت ہلکی۔ جیسے کسی نے دروازے کو انگلیوں سے چھوا ہو۔ وہ ساکت ہو گیا۔ پھر اسے لگا کہ یہ سچ نہیں ہے۔ تبھی ایک نئی آواز سنائی دی۔ اس بار دروازے سے نہیں۔ کھڑکی سے۔ ایک تیز، بے ترتیب سی کھٹکھٹاہٹ۔ جیسے کسی کے پروں نے شیشے کو چھوا ہو۔ وہ چونک کر کھڑا ہو گیا۔ آواز دوبارہ آئی۔ ٹک ٹک ٹک۔ وہ آہستہ آہستہ کھڑکی کی طرف بڑھا۔ ہر قدم کے ساتھ اس کے اندر دو متضاد احساسات بڑھ رہے تھے۔ خوف اور امید۔ وہ کھڑکی کے سامنے پہنچا۔
باہر تاریکی تھی۔ کھٹکھٹاہٹ دوبارہ ہوئی۔ اس بار بالکل قریب۔ اس نے ایک لمحے کیلئے آنکھیں بند کیں، جیسے خود کو تیار کر رہا ہو۔ پھر اس نے کھڑکی کھول دی۔ سرد ہوا ایک دم کمرے میں داخل ہوئی۔ شمع کی لو خطرناک حد تک جھک گئی۔ اور اسی لمحے ایک سیاہ سایہ تیزی سے اندر آیا۔ بڑے پروں کی آواز کمرے میں گونجی۔ وہ آدمی فوراً پیچھے ہٹ گیا۔ وہ چیز ایک چکر کاٹتی ہوئی سیدھا کمرے کے اوپر والے حصے کی طرف گئی اور دروازے کے قریب نصب قدیم مجسمے پر جا بیٹھی۔
شمع کی لرزتی روشنی میں اب وہ واضح نظر آ رہا تھا۔ ایک بڑا سیاہ کوّا۔ غیر معمولی حد تک بڑا۔ اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔ اور وہ اس آدمی کو اس طرح دیکھ رہا تھا جیسے وہ کوئی عام پرندہ نہ ہو۔ اس کے پر غیر معمولی حد تک سیاہ تھے، ایسے سیاہ کہ شمع کی روشنی بھی ان پر ٹھہر نہیں پا رہی تھی۔ اس کی گردن کے پر ہلکے سے پھولے ہوئے تھے، اور آنکھیں، وہ عجیب تھیں۔ ان میں جانوروں والی بے سمتی نہیں تھی بلکہ ایک ایسی ٹھہری ہوئی توجہ تھی جو انسان کو بے آرام کر دے۔
کوّا جس مجسمے پر بیٹھا تھا، وہ قدیم یونانی دیوی ایتھینا کا تھا، دانائی کی علامت۔ لینور کو یہ مجسمہ بہت پسند تھا۔ کبھی کبھی وہ مذاق میں کہا کرتی تھی کہ یہ مجسمہ اس کمرے کا سب سے خاموش مگر سب سے سمجھدار مکین ہے۔ یہ یاد اچانک اس کے ذہن میں ابھری، اور اس کے ساتھ ہی ایک مانوس درد بھی۔ اس نے فوراً نظریں ہٹا لیں۔ ’’یہ صرف ایک پرندہ ہے‘‘ اس نے خود سے کہا۔ مگر وہ جملہ اس کے اپنے دل کو مطمئن نہ کر سکا۔
وہ اپنی کرسی پر آیا، مگر بیٹھا نہیں۔ اس کی نظریں کوّے پر تھیں، جیسے وہ ڈر رہا ہو کہ اگر اس نے ایک لمحے کیلئے بھی اسے نظرانداز کیا تو وہ غائب ہو جائے گا۔ کوّا بالکل ساکت بیٹھا رہا۔ صرف اس کی آنکھیں زندہ تھیں۔ اور وہ آنکھیں اسی کو دیکھ رہی تھیں۔ چند لمحوں بعد اس کے اندر کی گھبراہٹ میں ہلکی سی دلچسپی شامل ہونے لگی۔ انسان کا ذہن عجیب ہے؛ وہ خوف کے اندر بھی معنی تلاش کرنا شروع کر دیتا ہے۔ ’’تو جناب!‘‘ اس نے خشک ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے کہا، ’’آپ یقیناً کسی طوفان سے بچتے ہوئے یہاں پہنچے ہیں۔ ‘‘
کوّے نے کوئی حرکت نہ کی۔ وہ آدمی اب خود کو سنبھالنے کیلئے گفتگو جاری رکھنا چاہتا تھا۔ خاموشی اب اسے خوفزدہ کرنے لگی تھی۔
’’اور تمہارا نام؟‘‘
یہ سوال اس نے آدھی ہنسی کے ساتھ پوچھا، جیسے اسے خود بھی یقین نہ ہو کہ وہ واقعی ایک پرندے سے بات کر رہا ہے۔ مگر اگلے ہی لمحے کوّے نے اپنی چونچ کھولی۔
Nevermore
(نیور مور)
کمرے کی فضا جیسے ایک لمحے کیلئے رک گئی۔ وہ آدمی ساکت رہ گیا۔ آواز گہری تھی۔ خشک۔ اور عجیب طرح سے واضح۔ یہ کسی عام پرندے کی کائیں کائیں نہیں تھی بلکہ ایک ایسا لفظ تھا جو مکمل شکل میں ادا کیا گیا تھا جس کا معنی تھا ’’کبھی نہیں ‘‘، ’’دوبارہ نہیں۔ ‘‘
وہ آدمی چند لمحوں تک اسے دیکھتا رہا، پھر کمزور سی ہنسی اس کے ہونٹوں سے نکلی۔
’’تو تم بول سکتے ہو!‘‘ اس نے سرگوشی کی۔ اس کے اندر کی گھبراہٹ اب حیرت میں بدل رہی تھی۔ اس نے فوراً اپنے ذہن کو ایک منطقی وضاحت دی۔ یقیناً یہ پرندہ کسی ایسے شخص کے پاس رہا ہوگا جس نے اسے یہی ایک لفظ سکھایا ہوگا۔ شاید کسی بوڑھے ملاح کے پاس، یا کسی تنہا آدمی کے ساتھ جس کی زبان پر یہی لفظ رہتا ہو۔ مگر اس وضاحت کے باوجود اس کے اندر بے چینی کم نہ ہوئی۔
پھر اس نے آہستہ سے کہا، ’’صبح ہوتے ہی تم بھی باقی لوگوں کی طرح مجھے چھوڑ جاؤ گے۔ ‘‘ کوّے نے فوراً جواب دیا ’’نیور مور۔‘‘
اسی لمحے اسے ایک خوشبو محسوس ہوئی۔ بہت ہلکی اور مانوس۔ یہ لینور کی خوشبو تھی۔ وہی ہلکی سی خوشبو جو اس کے کپڑوں اور بالوں میں رہتی تھی، جو کبھی اس کمرے کی فضا کا حصہ ہوا کرتی تھی۔ ایک لمحے کیلئے اس آدمی کے اندر امید اس شدت سے ابھری کہ اس کے جسم میں کپکپی دوڑ گئی۔ اس نے بے اختیار سر اٹھایا۔
’’لینور؟‘‘ اس کے ہونٹوں سے سرگوشی نکلی۔
اب اسے واقعی محسوس ہو رہا تھا کہ وہ اکیلا نہیں ہے۔ اس کی سانسیں تیز ہو گئیں۔ وہ آہستہ آہستہ اپنی کرسی سے اٹھا اور کمرے میں اِدھر اُدھر دیکھنے لگا۔ پردے ہل رہے تھے۔ پھر اچانک اسے لگا جیسے کھڑکی کے قریب کوئی کھڑا ہے۔ سفید۔ دھندلا۔ ایک لمحے کیلئے اس کا دل زور سے دھڑکا۔ وہ فوراً آگے بڑھا، مگر وہاں کچھ نہیں تھا۔ صرف برف سے ڈھکا ہوا شیشہ۔ اور اس میں اس کا اپنا تھکا ہوا عکس۔ وہ آہستہ سے پیچھے ہٹ گیا۔ اس نے محسوس کیا کہ اس کے اندر کچھ ٹوٹ گیا ہے۔
شمع آخرکار بجھ گئی۔ کمرہ اندھیرے میں ڈوب گیا۔ اسے معلوم نہیں ہوا کہ رات کب ختم ہوئی۔ یا شاید ختم ہوئی ہی نہیں۔ کمرے میں صرف دو زندہ چیزیں تھیں۔ وہ، اور کوّا۔
پھر کہیں دور صبح کی پہلی مدھم روشنی نمودار ہوئی مگر وہ روشنی بھی بیمار محسوس ہو رہی تھی، جیسے سورج خود اس مکان کے قریب آنے سے ہچکچا رہا ہو۔ وہ آدمی اب بھی کرسی پر بیٹھا تھا۔ اس کی آنکھیں جل رہی تھیں۔ سارا جسم درد سے بھرا ہوا تھا۔ اس نے آہستہ سے سر اٹھایا۔ کوّا اب بھی وہیں بیٹھا تھا۔ بالکل اسی طرح، مجسمے پر غیر متحرک۔ اسے اچانک خوف محسوس ہوا۔
رات کے اندھیرے میں وہ سب کچھ خواب، وہم، یا غم کا فریب لگ سکتا تھا، مگر صبح کی روشنی میں چیزوں کو حقیقت بن جانا چاہئے تھا۔ مگر کوّا غائب نہیں ہوا تھا۔ وہ اب بھی موجود تھا اور یہی بات سب سے زیادہ خوفناک تھی۔ اس آدمی نے خود کو کرسی سے اٹھانے کی کوشش کی۔ اس کے گھٹنوں میں کمزوری تھی۔ وہ آہستہ آہستہ کھڑا ہوا اور چند لمحے وہیں کھڑا سانس لیتا رہا۔ پھر اس نے پیشانی کھڑکی کے ٹھنڈے شیشے سے لگا دی۔ اسے احساس ہوا کہ وہ کئی دنوں سے واقعی سویا نہیں تھا۔
اسی لمحے دروازے پر دستک ہوئی۔ اس نے دروازہ کھولا۔ بوڑھی ملازمہ کھڑی تھی۔ وہ برسوں سے یہاں کام کر رہی تھی۔ اس کے ہاتھ میں ناشتے کی ٹرے تھی۔
’’جناب؟‘‘ اس نے حیرانی سے پوچھا۔
وہ آدمی چند لمحوں تک اسے دیکھتا رہا، جیسے وہ یہ یقین کرنے کی کوشش کر رہا ہو کہ وہ واقعی حقیقی ہے۔ پھر اس کی نظریں فوراً کوّے کی طرف اٹھیں مگر بوڑھی عورت کے چہرے پر کوئی ردِعمل نہیں تھا۔ وہ خوفزدہ ہوئی نہ حیران، جیسے اسے کوّا نظر ہی نہ آیا ہو۔
اس آدمی کے جسم میں سرد لہر دوڑ گئی۔
’’تم...‘‘ اس کی آواز خشک ہو گئی، ’’تمہیں وہاں کچھ نظر نہیں آ رہا؟‘‘ بوڑھی عورت نے الجھن سے اس کی طرف دیکھا۔
’’کہاں، جناب؟‘‘
اس نے آہستہ سے ہاتھ اٹھا کر مجسمے کی طرف اشارہ کیا۔ ’’وہ...‘‘ بوڑھی عورت نے نظریں اٹھا کر دیکھا۔ پھر دوبارہ اس کی طرف۔ ’’وہاں کچھ نہیں ہے۔ ‘‘
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ اس آدمی کو یوں محسوس ہوا جیسے اس کے پیروں کے نیچے سے زمین کھسک گئی ہو۔ اس نے فوراً دوبارہ مجسمے کی طرف دیکھا۔ کوّا اب بھی وہاں بیٹھا تھا۔ بالکل واضح۔ اس کی سیاہ آنکھیں اسی پر جمی ہوئی تھیں۔ پھر...
کوّے نے اپنی چونچ کھولی، ’’نیور مور۔ ‘‘
اس آدمی کے ہاتھ سے دروازہ کی کنڈی چھوٹ گئی۔ بوڑھی عورت چونک گئی۔
’’جناب؟ آپ خیریت سے ہیں ؟‘‘
مگر وہ اس کی آواز سن ہی نہیں رہا تھا۔
کیونکہ اب پہلی بار اسے واقعی محسوس ہوا کہ شاید یہ سب صرف غم نہیں۔ شاید اس کے ذہن کے اندر واقعی کچھ ٹوٹ چکا ہے۔ ملازمہ کے جانے کے بعد کمرے میں ایک ایسی خاموشی اتر آئی جو پہلے سے مختلف تھی۔ اب اس خاموشی میں صرف تنہائی نہیں تھی بلکہ خوف بھی شامل ہو چکا تھا۔ وہ آدمی دروازے کے قریب کھڑا رہا، جیسے اس کے جسم نے حرکت کرنا چھوڑ دی ہو۔ وہ جلدی سے کمرے سے نکل آیا۔
راہداری سرد تھی، اور صبح کی مدھم روشنی کھڑکیوں سے اندر آ رہی تھی۔ اس نے کئی گہری سانسیں لیں، جیسے وہ خود کو یقین دلانا چاہتا ہو کہ وہ ابھی بھی حقیقت میں موجود ہے۔ مگر پورا مکان بدل چکا تھا۔ یا شاید وہ خود بدل چکا تھا۔ پہلے یہ گھر صرف خاموش محسوس ہوتا تھا، اب یہ زندہ لگنے لگا تھا۔ ہر راہداری میں اسے سرگوشیوں کا احساس ہوتا۔ ہر بند دروازہ ایسا لگتا جیسے اس کے پیچھے کوئی کھڑا سانس لے رہا ہو۔ سیڑھیوں پر قدم رکھتے ہوئے اسے بار بار محسوس ہوتا کہ کوئی اس کے پیچھے آ رہا ہے، مگر جب وہ مڑتا تو وہاں صرف خالی راہداری ہوتی۔ نیند نہ ہونے سے انسان کا ذہن آہستہ آہستہ اپنی شکل کھونے لگتا ہے۔ اور وہ کئی راتوں سے نہیں سویا تھا۔ شام تک اس کی حالت مزید خراب ہو چکی تھی۔ اس نے کئی مرتبہ خود کو سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ سب غم اور تھکن کا نتیجہ ہے، مگر انسان جب کسی ایک خیال سے ڈرنے لگے تو پورا ذہن اسی خیال کے گرد گھومنے لگتا ہے۔ رات دوبارہ اترنے لگی۔ اور اسے پہلی بار اندھیرے سے خوف محسوس ہوا۔ وہ اوپر اپنے کمرے میں واپس آیا۔ کوّا اب بھی وہیں بیٹھا تھا۔ وہ کوّے کو گھورتا رہا۔
’’تم چاہتے کیا ہو؟‘‘ اس نے اچانک بلند آواز میں کہا۔ کوئی جواب نہیں۔ صرف وہ سیاہ آنکھیں۔
’’کیوں آئے ہو یہاں ؟‘‘
خاموشی۔ اس کے اندر غصہ بڑھنے لگا، مگر وہ غصہ دراصل خوف تھا۔ ’’کیا تم موت ہو؟‘‘
اس نے سرگوشی کی۔ شمع کی لو ہلکی سی لرزی۔
اور پھر کوّے نے اپنی چونچ کھولی۔
’’نیور مور۔ ‘‘
وہ پیچھے ہٹتا گیا، پھر اچانک اپنے سر کو دونوں ہاتھوں میں پکڑ کر زمین پر بیٹھ گیا۔ اس کے ذہن میں آوازیں گونجنے لگیں۔ لینور کی آواز۔ ہوا کی آواز۔ گھڑی کی آواز۔ اور ان سب کے درمیان مسلسل ایک لفظ۔ ’’نیور مور۔ ‘‘ وہ آہستہ آہستہ حقیقت پر سے اپنا یقین کھوتا جا رہا تھا۔ پھر اچانک اسے قدموں کی آواز سنائی دی۔ آواز قریب آتی گئی۔ بالکل ویسی ہی آواز جیسے لینور چلتی تھی۔ اس کے جسم میں کپکپی دوڑ گئی۔ وہ آہستہ آہستہ دروازے کی طرف مڑا۔ راہداری اندھیرے میں ڈوبی ہوئی تھی مگر وہاں واقعی کوئی کھڑا تھا۔ ایک سفید دھندلا سا وجود۔ لمبے بال۔ خاموش چہرہ۔ لینور۔ اس آدمی کی سانس رک گئی۔ وہ ایک قدم آگے بڑھا، ’’لینور؟‘‘ وہ سایہ چند لمحوں تک ساکت رہا۔ پھر آہستہ آہستہ پیچھے ہٹنے لگا۔ اور اندھیرے میں گم ہو گیا۔ وہ فوراً اس کے پیچھے بھاگا۔ راہداری خالی تھی۔ اور پھر، اوپر کمرے کے اندر سے، کوّے کی آواز گونجی، ’’نیور مور۔ ‘‘
اس لمحے اسے محسوس ہوا کہ شاید وہ اب کبھی اس مکان سے باہر نہیں جا سکے گا۔ کیونکہ اصل قید دیواریں نہیں ہوتیں۔ اصل قید انسان کا اپنا ذہن ہوتا ہے۔ اب اس کے ذہن کے اندر دو حقیقتیں ایک دوسرے سے ٹکرا رہی تھیں۔ ایک وہ جو دنیا مانتی تھی، جہاں لینور مر چکی تھی اور قبر کے نیچے سو رہی تھی۔ اور ایک وہ جو اس کا غم تخلیق کر چکا تھا، جہاں لینور ابھی بھی انہی دیواروں کے درمیان موجود تھی، کہیں نہ کہیں، بس اس کی پہنچ سے ذرا دور۔ اور انسان کیلئے سب سے خطرناک لمحہ وہ ہوتا ہے جب وہ دونوں حقیقتوں میں فرق کرنا چھوڑ دے۔ وہ واپس اپنے کمرے کی طرف چلا۔ کمرے کی نیم تاریکی میں، دروازے کے اوپر، ایتھینا کے مجسمے پر، وہ کوّا اب بھی بیٹھا تھا۔ وہ اسے دیکھتا رہا۔ صبح ہوئی، شام آئی۔ اگلی صبح آئی اور پھر شام۔ اور پھر کئی صبحیں اور شامیں گزر گئیں۔ مگر اوپر والا کمرہ کبھی پہلے جیسا نہ ہو سکا۔
بوڑھی ملازمہ اکثر کہتی تھی کہ رات کے وقت وہاں سے کبھی کبھی آہستہ سرگوشیوں کی آواز آتی ہے۔ بعض دفعہ کسی مرد کی مدھم آواز، جیسے وہ کسی سے بات کر رہا ہو۔ اور کبھی کبھی ایک عجیب سی کائیں کائیں، جو پورے مکان میں گونجتی محسوس ہوتی۔ مگر جب لوگ دروازہ کھولتے، تو اندر صرف خاموشی ہوتی۔ ایک پرانی کرسی، کتابیں، بند کھڑکیاں، اور دروازے کے اوپر نصب ایتھینا کے مجسمے پر ایک سیاہ سایہ، جو اندھیرے میں مکمل واضح نظر نہیں آتا تھا۔ کچھ لوگ کہتے تھے وہاں واقعی ایک کوّا بیٹھا ہے۔ کچھ کہتے تھے کہ یہ صرف پرانے مکان کی کہانیاں ہیں۔ مگر سچ شاید اس سے زیادہ خوفناک تھا۔ کیونکہ بعض اوقات انسان کسی سایے سے نہیں ہارتا۔ وہ اپنی ہی یادوں سے ہار جاتا ہے۔
اور پھر وہ یادیں اس کی پوری زندگی پر ایسے چھا جاتی ہیں جیسے ایک سیاہ پرندہ۔ جو کبھی پرواز نہیں کرتا۔