Inquilab Logo

ایک طبع زاد کہانی: بدروح اور رومی شہزادہ

Updated: May 31, 2024, 4:21 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

ہزاروں صدیوں پہلے یونان پر ’’پولی فارِن‘‘ نامی بادشاہ کی حکومت تھی۔ یہاں کی رعایا خوشحال زندگی بسر کر رہی تھی مگر گزشتہ چند مہینوں سے قریب کے ایک سنسان جزیرے پر کوئی بدروح آباد ہوگئی تھی جو سورج ڈھلتے ہی شہر میں آجاتی اور کھانے پینے کی اشیاء لے کر غائب ہوجاتی۔

Photo: INN
تصویر : آئی این این

دیگر طبع زاد کہانیاں

یہ بھی پڑھئے: نشوبا اور چاند

یہ بھی پڑھئے: یونانی موسیقار

یہ بھی پڑھئے: عظیم فنکار

یہ بھی پڑھئے: عظیم تباہی

یہ بھی پڑھئے: شہزادی البا

یہ بھی پڑھئے: پراسرار صندوق

ہزاروں صدیوں پہلے یونان پر ’’پولی فارِن‘‘ نامی بادشاہ کی حکومت تھی۔ یہاں کی رعایا خوشحال زندگی بسر کر رہی تھی مگر گزشتہ چند مہینوں سے قریب کے ایک سنسان جزیرے پر کوئی بدروح آباد ہوگئی تھی جو سورج ڈھلتے ہی شہر میں آجاتی اور کھانے پینے کی اشیاء لے کر غائب ہوجاتی۔ اس کے خوف سے غروب آفتاب کے بعد لوگوں نے گھروں سے باہر نکلنا بند کردیا تھا۔ آج تک کسی نے بدروح کو دیکھا نہیں تھا۔ اس کی رفتار اس قدر تیز ہوتی کہ لگتا کوئی چیز گردش کررہی ہے۔ 
بادشاہ کا نوجوان اور بہادر بیٹا ’’فارس‘‘ چند دنوں پہلے ہی ایک جنگ میں فتح حاصل کرکے لوٹا تھا۔ چند دنوں بعد جب وہ رعایا کا حال جاننے کیلئے بازار میں آیا تو عوام نے اس سے بدروح کی شکایت کی۔ فارس اپنے لوگوں کو پریشان نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اس نے فوراً ہی غیر آباد جزیرہ پر جانے کا منصوبہ بنایا۔ بادشاہ کے لاکھ منع کرنے کے باوجود فارس نے جزیرہ کا رُخ کیا۔ 
اپنی کشتی میں سوار میں جب وہ جزیرے کی طرف بڑھ رہا تھا تو اس کے ساتھ پچاس جانباز سپاہی تھے۔ جزیرے کے قریب پہنچتے ہی سب اپنی اپنی تلواریں اور ڈھالیں مضبوطی سے پکڑے آگے بڑھنے لگے۔ فارس ان کی قیادت کررہا تھا۔ چند کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے وہ ایک غار کے پاس پہنچے۔ اندر سے عجیب سی آوازیں آرہی تھیں جیسے سیکڑوں سانپ پھنکار رہے ہوں۔ 
فارس نے سپاہیوں کو وہیں ٹھہرنے کا اشارہ کیا اور خود غار میں داخل ہوگیا۔ اندر گہرا اندھیرا تھا۔ کچھ دیر بعد وہ غار کے بڑے حصے میں آگیا جہاں اوپر ایک سوراخ سے سورج کی روشنی اندر آرہی تھی۔ تبھی اسے احساس ہوا کہ کوئی چیز اس کے آس پاس تیزی سے گردش کررہی ہے۔ فارس سمجھ گیا ہے کہ یہی وہ بدروح ہے جس نے لوگوں کا جینا حرام کر رکھا ہے۔ اس نے غور کیا کہ وہ شے اس کے گرد ایک خاص انداز میں چکر لگارہی ہے۔ تلوار کے دستے پر اس کی دونوں مٹھیاں جم گئیں اور پھر اس نے ہاتھ گھمایا، اور وہ شے زمین پر گرپڑی۔شہزادہ تیزی سے اس کے قریب پہنچا۔ زمین پر گری مخلوق نے جونہی فارس کو پلٹ کر دیکھا، فارس پتھر کا مجسمہ بن گیا۔ فار س نے کیا دیکھا؟ اب یہ بتانے والا کوئی نہیں تھا۔ 
کافی دیر تک جب شہزادہ باہر نہیں آیا تو سپاہیوں نے غار کے اندر جانے کا منصوبہ بنایا۔ وہ ابھی چند قدم ہی چلے ہوں گے کہ سب سے آگے موجود سپاہی پتھر بن گیا۔ اور پھر ایک کے بعد ایک سبھی سپاہی پتھر کے مجسمے میں تبدیل ہونے لگے۔ پیچھے کھڑے سپاہیوں نے جب یہ حال دیکھا تو وہ تیزی سے کشتی کی طرف بھاگے مگر تب تک ان میں سے کئی پتھر کے مجسمے بن چکے تھے۔ درخت کے پیچھے چھپ جانے والا صرف ایک سپاہی اپنی جان بچانے میں کامیاب ہوسکا۔ جب اسے یقین ہوگیا کہ بدروح اب آس پاس نہیں ہے تو وہ تیزی سے کشتی کی طرف بھاگا اور پھر اپنے شہر پہنچ کر ہی سانس لیا۔ جب بادشاہ کو معلوم ہوا کہ اس کے اکلوتے بیٹے فارس اور سپاہیوں کے ساتھ کیا ہوا ہے تو اسے سخت صدمہ لگا لیکن رعایا کو اس بدروح سے محفوظ بھی رکھنا تھا۔ بادشاہ نے تین دن کے سوگ کے اعلان کے ساتھ یہ منادی بھی کروادی کہ جو کوئی اس بدروح سے چھٹکارا دلوائے گا، اس پر انعامات کی بارش کردی جائےگی۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: ڈریکولا کا مہمان

وہ تین بہنوں میں سب سے چھوٹی تھی۔ اتنی خوبصورت تھی کہ اسے دیکھنے والا دیکھتا ہی رہ جاتا۔ سب سے بڑی بہن کا نام ’’استھینو‘‘ تھا۔ منجھلی بہن کا نام ’’یوریل‘‘ جبکہ چھوٹی بہن کا نام ’’میڈوسا‘‘ تھا۔ ان کے ماں باپ یونان کے سب سے بڑے مندر کے پجاری تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی دیوی دیوتاؤں کی عبادت میں صرف کر دی تھی۔ دیوتاؤں نے انکی خدمت سے خوش ہوکر بڑی بیٹیوں کو وہ طاقت دی جو صرف دیوتاؤں کو حاصل تھی یعنی کبھی نہ مرنے کی طاقت۔ ۱۸؍ برس کی ہوجانے کے بعد استھینو اور پھر یوریل کی عمریں ٹھہر گئیں۔ دونوں بہنوں نے اپنی پوری زندگی دیوتاؤں کی نذر کردی البتہ میڈوسا ہر وقت کہتی کہ مجھے کوئی طاقت نہیں ملی ہے اس لئے میں دیوتاؤں کی خدمت نہیں کروں گی مگر والدین نے سمجھایا کہ اگر وہ یونہی خدمت کرتی رہی تو ایک دن اس پر بھی عنایت ہوگی۔
میڈوسا، ایتھینا (یونانی دیوی) کی پجارن تھی۔ اسے ایتھینا سے کافی لگاؤ تھا۔ تینوں بہنیں یونان کے بڑے مندر میں دن رات پوجا میں مصروف رہتیں لیکن میڈوسا صرف ایتھینا کی پوجا کرتی تھی۔ ایک دن ایتھینا کو میڈوسا کی عبادت کا انداز اتنا پسند آیا کہ اس نے میڈوسا کو مزید خوبصورتی عطا کی۔ اتنی خوبصورتی آج سے پہلے صرف دیوی دیوتاؤں کے پاس تھی مگر اب میڈوسا سب سے زیادہ خوبصورت تھی۔ اس انعام سے خوش ہوکر میڈوسا نے ایتھینا سے وعدہ کیا کہ وہ ساری عمر اس کی عبادت کرے گی اور صرف اسی سے محبت کرے گی۔ یوں اس نے اپنی پوری زندگی ایتھینا کے نام کر دی۔ انسان کیا، دیوی دیوتا بھی میڈوسا کو دیکھ کر دنگ رہ جاتے۔ ان کے دلوں میں میڈوسا کیلئے رشک کم حسد زیادہ تھا۔وہ چاہتے تھے کہ کسی طرح میڈوسا کی خوبصورتی کو ختم کردیا جائے۔ 
ایک مرتبہ شہر میں ’’اووید‘‘ نامی ایک نوجوان رومی شاعر آیا۔ وہ ایک سیاح تھا جس کا مقصد شہر شہر گھوم کر وہاں کے حالات شاعری میں بیان کرنا تھا۔ وہ ہر شہر کی سب سے خوبصورت اور سب سے بدصورت چیز پر نظمیں لکھتا تھا۔ جب اس نے یونان کی سب سے خوبصورت شے کے بارے میں سوال کیا تو باشندوں نے بڑے مندر کی طرف اشارہ کردیا۔ رومی شاعر جب وہاں پہنچا تو اسے مندر میں خوبصورتی جیسی کوئی بات نظر نہیں آئی۔ وہ پلٹنے ہی لگا تھا کہ اسے رنگ برنگے پھولوں کی ٹوکری لئے میڈوسا نظر آئی جس کے سر پر پھولوں کا تاج تھا۔ سفید رنگ کے لبا س میں وہ کسی دوسری دنیا کی مخلوق نظر آرہی تھی۔ اووید اسے تب تک دیکھتا رہا جب تک وہ مندر میں نہیں چلی گئی۔ رومی شاعر قریب ایستادہ چنار کے درخت کی جڑوں پر بیٹھ گیا اور میڈوسا کے حسن پر نظم لکھنے لگا۔ پوری دنیا گھومنے کے بعد بھی اس نے اتنی حسین شے نہیں دیکھی تھی۔ دوسری جانب، میڈوسا نے رومی شاعر کو پہلے ہی دیکھ لیا تھا۔ جب وہ مندر سے باہر آئی تو اووید وہیں بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے جونہی میڈوسا کو قریب سے دیکھا، گنگ رہ گیا۔
’’تم اجنبی ہو؟‘‘ میڈوسا نے دلچسپ نظروں سے دیکھتے ہوئے سوال کیا۔
’’ہاں! آج ہی یہاںآیا ہوں۔‘‘ اووید، میڈوسا کی بڑی بڑی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔ 
’’یہ مندر سے لائی ہوں۔ تم کھالو۔‘‘ میڈوسا نے کچھ کھانے پینے کی اشیاء اووید کی طرف بڑھائی اور آگے بڑھ گئی۔’’تم سے پھر کب ملاقات ہوگی؟‘‘ اووید نے سوال پوچھا۔’’مندر ہی میرا گھر ہے۔ یہیں ملوں گی۔‘‘ میڈوسا نے یہ کہتے ہوئے اپنے قدم بڑھادیئے۔ 
اب میڈوسا اور اووید روزانہ ملنے لگے تھے۔ وہ اسے اپنے اشعار سناتا اور میڈوسا اس کیلئے مندر سے کھانے پینے کی اشیاء لے کر آتی۔ میڈوسا کا وقت ایتھینا کیلئے کم ہوگیا تھا، وہ اووید کی زبان سے اپنے حسن کی داستان سننے میں زیادہ وقت صرف کرنے لگی تھی۔ اسی طرح کئی مہینے گزر گئے۔ اووید نے اس شہر میں سب سے زیادہ وقت گزارا تھا۔ اب اس کے جانے کا وقت آگیا تھا۔ مگر ایک اہم کام رہ گیا تھا۔ شہر کی سب سے بدصورت چیز پر نظم لکھنا باقی تھا۔ وہ میڈوسا سے اکثر پوچھتا کہ یہاں سب سے بدصورت کیا ہے مگر میڈوسا اسے کوئی جواب نہیں دے پاتی تھی۔ 
دریں اثناء، دیوی دیوتاؤں نے ایتھینا کو بتایا کہ اب میڈوسا صرف اس کی داسی نہیں رہ گئی ہے بلکہ اس کے دل میں ایک انسان کی محبت بھی پیدا ہوگئی ہے۔ ایتھینا کو اس بات کا احساس تھا کیونکہ اب میڈوسا کی عبادت میں وہ شدت اور عقیدت نہیں رہ گئی تھی۔ دیوی دیوتاؤں نے جب اسے احساس دلایا کہ کسی انسان کو اتنا حسن دینا اچھی بات نہیں ہے تو ایتھینا نے میڈوسا سے اس کا حسن چھیننے کا فیصلہ کیا۔
آج صبح سے شہر پر سیاہ بادل چھائے ہوئے تھے۔ اووید نے فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ آج شام میں میڈوسا کو لے کر یہاں سے نکل جائے گا۔ میڈوسا بھی جانے کیلئے تیار تھی۔ غروب آفتاب سے چند منٹ قبل وہ بڑے مندر کے پاس پہنچ گئی۔ ابھی اس نے پہلی ہی سیڑھی پر قدم رکھا تھا کہ اس کے پاؤں میں اکڑن پیدا ہوگئی اور وہ منہ کے بل سیڑھیوں پر گرگئی۔ اٹھنے کی کوشش کی مگر ناکام رہی۔ پھر ہاتھوں کے بل ہی سیڑھیاں عبور کرنے لگی۔ چند سیڑھیاں ہی طے کی تھیں کہ تیز ہوائیں چلنے لگیں۔ چنار کے کمزور پتے مٹی کے ساتھ اس کے اطراف گھومنے لگے۔ اور پھر موسلادھار بارش شروع ہوگئی۔ میڈوسا مکمل طور پر بھیگ چکی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے کوئی طاقت اس پر قابض ہونے کی کوشش کررہی ہے۔ شہر کے لوگ خراب موسم کو دیوتاؤں کا عذاب سمجھ کر گھروں سے نکل آئے اور مندر کی طرف بھاگنے لگے۔ قریب پہنچنے پر انہوں نے سیڑھیوں پر میڈوسا کو دیکھا جو مندر کے دروازے تک پہنچنے کی کوشش کررہی تھی۔ ایک شخص اس کی مدد کیلئے آگے بڑھا، تبھی میڈوسا نے اس کی طرف دیکھا۔ وہ شخص جھٹکے سے پیچھے ہٹ گیا، اور چند لمحوں میں پتھر کے مجسمہ میں تبدیل ہوگیا۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: شاندار راکٹ

مجمع نے جب اس کی یہ حالت دیکھی تو گھبرا گئے۔ طوفان اور بارش کا عذاب تو جاری ہی تھا مگر اب یہ کیا معاملہ تھا کہ وہ پناہ کیلئے مندر میں بھی نہیں جاسکتے کیونکہ سیڑھیوں پر میڈوسا تھی جس نے ایک شخص کو پتھر بنادیا تھا۔ کچھ لوگ ہمت کرکے آگے آئے مگر جب ان کی آنکھیں میڈوسا سے ملیں تو وہ بھی پتھر کے بن گئے۔ میڈوسا اب اٹھ کھڑی ہوئی تھی، اور پھر اس کا جسم اتنا ہلکا ہوگیا کہ وہ ہوا میں تیرنے لگی۔ وہ مندر کی سیڑھیوں سے چند فٹ اوپر ہوا میں معلق تھی، اور کسی بدصورت عفریت کی طرح نظر آرہی تھی۔ اس کے خوبصورت بال جس پر اووید نے ہزاروں اشعار لکھ دیئے تھے لمبے لمبے سیاہ سانپوں میں تبدیل ہوگئے تھے۔ اس کی آنکھیں اس قدر نیلی ہوگئی تھیں کہ جو اِن میں دیکھتا پتھر کا بن جاتا۔ اس کے پورے چہرے پر ہڈیاں ابھر آئی تھیں۔ وہ کسی ڈھانچے کی طرح نظر آرہی تھی۔ لوگوں نے خوف کے مارے اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لئے اور تیزی سے اپنے گھروں کی طرف بھاگے۔ ادھر، اووید، میڈوسا کو لینے کیلئے مندر کی طرف آرہا تھا، جب اس نے لوگوں کو یوں بھاگتا دیکھا تو وجہ دریافت کی۔
’’تم ہمارے شہر کی سب سے بدصورت چیز تلاش کررہے تھے، ہے نا؟ تمہاری خوش قسمتی ہے کہ آج وہ شے مندر کی سیڑھیوں پر کھڑی ہے۔ جاؤ اسے دیکھو اور اپنی نظم لکھ لو۔‘‘ ایک بوڑھی عورت یہ کہتے ہوئے تیزی سے اپنے گھر میں گھس گئی۔ 
اووید جب مندر کی سیڑھیوں پر پہنچا تو اسے ایک سیاہ ہیولہ نظر آیا۔ اسے احساس ہوا کوئی چیز تیزی سے اس کے اطراف گردش کررہی ہے۔ سانپوں کی پھنکارنے کی آوازیں بھی کانوں میں پڑ رہی تھیں۔ پھر وہ عفریت اس کے سامنے آکھڑی ہوئی جس کی آنکھیں جھکی ہوئی تھی۔ اووید نے اسے دیکھا تو خوف کے مارے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر زمین پر بیٹھ گیا۔ اس قدر بدصورتی اس نے آج تک نہیں دیکھی تھی۔’’مَیں ساتھ چلنے کیلئے تیار ہوں۔‘‘ عفریت کی پھنکار جیسی آواز اووید کے کانوں میں پڑی۔
’’تم؟ تم کون ہو؟‘‘ اووید نے الجھتے ہوئے سوال کیا۔’’تمہاری میڈوسا!‘‘ عفریت نے جواب دیا۔
’’تم میڈوسا ہرگز نہیں ہوسکتی۔ میڈوسا ایک حسین لڑکی ہے اور تم اس قدر بدصورت ہو کہ تمہاری طرف کبھی کوئی نہیں دیکھے گا۔‘‘ اووید نے بے یقینی کےانداز میں کہا۔
’’رومی شاعر! مَیں ہی میڈوسا ہوں۔ ایتھینا نے مجھے وعدہ خلافی کی سزا دی ہے۔ اس نے میرا حسن چھین کر مجھے دنیا کی بدصورت ترین مخلوق بنادیا ہے۔ اس نے مجھے تم سے محبت کرنے کی سزا دی ہے۔‘‘
’’اگر تم میڈوسا ہو تو میری طرف دیکھو۔ اپنے اووید سے نظریں ملاؤ۔‘‘ اووید نے کہا۔
’’اووید! اس کا انجام بھیانک ہوگا۔‘‘ میڈوسا کی آواز میں خوف تھا۔’’مجھے انجام کی پروا نہیں۔ مَیں اسی وقت تمہیں ساتھ لےجاؤں گا جب تم میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اقرار کروگی کہ تم ہی میری میڈوسا ہو۔‘‘ رومی شاعر بضد تھا۔
میڈوسا خاموش رہی۔ کچھ پل یونہی گزرگئے۔ شاید وہ فیصلہ نہیں کرپارہی تھی کہ کیا کرنا ہے۔ اووید پلٹنے ہی لگا تھا کہ میڈوسا اس کے سامنے آگئی۔ اس کی بھیانک نیلی آنکھوں میں اووید نے جونہی جھانکا، وہ پتھر کا بن گیا۔ اس کا یہ انجام دیکھ کر میڈوسا کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اس کے حلق سے ایک دلخراش چیخ نکلی اور وہ ہوا میں تیرتی ہوئی جنگل کی جانب نکل گئی۔ ایتھینا کی بددعا کے سبب اب میڈوسا انتہائی بدصورت ہوگئی تھی اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کی بدصورتی میں اضافہ ہوتا تھا۔ اسے ہر جگہ سے ٹھکرا دیا گیا۔ وہ اب لوگوں کیلئے بدروح تھی۔ جو انسان اس کی آنکھوں میں دیکھتا، پتھر بن جاتا۔ اووید کی موت کے بعد میڈوسا کا دل بھی پتھر ہوگیا تھا۔ اسے انسانوں سے نفرت ہوگئی تھی۔ اسے اب انہیں پتھر کے مجسموں میں تبدیل کرنے میں لطف آنے لگا تھا۔ وہ اب شہر شہر گھوم کر لوگوں کو پریشان کرتی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: دیوار کے پار

روم کے بادشاہ کا نوجوان بیٹا ’’پولیڈکس‘‘ بہادر اور انتہائی ذہین تھا۔ ’’پولی فارِن‘‘کا اعلان سننے کے بعد اس نے بدروح کو ختم کرنے کا منصوبہ بنایا۔ بادشاہ نے اپنے اکلوتے بیٹے کو موت کے منہ میں جانے سے روکنے کی لاکھ کوششیں کیں مگر پولیڈکس ضدی ہونے کے ساتھ مہم جو طبیعت بھی رکھتا تھا۔ وہ یونان کے سفر پر روانہ ہوگیا۔پولی فارِن کو جب خبر ملی کہ رومی شہزادہ اس کے ملک کی حفاظت کیلئے آرہا ہے تو وہ اس کے استقبال کیلئے شہر کے صدر دروازے تک آیا اور انتہائی احترام سے محل تک لے گیا۔ مقررہ دن شہزادہ صرف دس سپاہیوں کے ساتھ سنسان جزیرے پر پہنچ گیا۔
دھوپ پھیلی ہوئی تھی۔ سخت گرمی تھی۔ شہزادے نے سپاہیوں کو وہیں ٹھہرنے کا حکم دیا۔ گزشتہ مہم میں زندہ بچ جانے والے سپاہی نے پولیڈکس کو بتایا تھا کہ اس بدروح کی آنکھوں میں جو دیکھتا ہے، وہ پتھر بن جاتا ہے۔ شہزادے کے ذہن میں ایک ترکیب تھی۔ اس نے سبھی کو غا رکے باہر ٹھہرنے کا اشارہ کیا اور خود اس میں داخل ہوگیا۔ اس کے ہاتھ میں صرف ایک عربی تلوار اور ڈھال تھی۔
پولیڈکس اندر پہنچا تو اسے سانپوں کی پھنکار سنائی دی۔ آواز کی جانب قدم بڑھائے تو غار کے ایک حصے میں میڈوسا نظر آئی جو اس وقت سورہی تھی۔ پولیڈکس کیلئے اچھا موقع تھا۔ وہ سوتے میں اس بدروح کا سر قلم کرسکتا تھا۔ اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے وہ جیسے ہی میڈوسا کے قریب پہنچا، وہ جاگ گئی۔ اس سے قبل کی وہ پولیڈکس کی آنکھوں میں دیکھ کر اسے پتھر بنادیتی، پولیڈکس نے اپنی نگاہیں پھیر لیں اور اپنی چمکتی ہوئی ڈھال کا رُخ میڈوسا کی جانب کر دیا۔ شیشے کی طرح چمکتی ڈھال میں میڈوسا نے پہلی بار اپنا عکس دیکھا تھا۔ اپنی خوبصورتی کے چرچے اس نے بہت سنے تھے۔ دریا کے پانی میں گھنٹوں اپنے آپ کو دیکھتے رہنے والی اور اووید کے اشعار میں اپنے حسن کو سنتے رہنے والی میڈوسا نے جب پولیڈکس کی ڈھال میں اپنی بدصورتی دیکھی تو گھبرا اٹھی۔ اس پر آج یہ راز کھلا تھا کہ ایتھینا نے اسے کس قدر بدصورت بنادیا ہے۔ اس نے مایوسی کی عالم میں ایک زور دار چیخ ماری، سارے سانپ بھی پھنکار اٹھے اور ان کے پھن اُٹھ گئے۔ یہ سب چند لمحوں کا کھیل تھا، میڈوسا نے اپنی ہی بھیانک آنکھوں میں دیکھ لیا تھا، اور پھر وہ خود پتھر کے مجسمے میں تبدیل ہونے لگی۔ 
پولیڈکس نے موقع کا فائدہ اٹھایا، اور اپنی تلوار سے میڈوسا کا سر تن سے جدا کردیا۔

نوٹ: یونان کی اساطیری کہانیوں میں میڈوسا کا ذکر ملتا ہے۔ ان تین بہنوں کو ’’گروگون سسٹرز‘‘ کہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ پولیڈکس نے میڈوسا کا سر اپنے پاس رکھا تھا اور جنگوں میں دشمنوں کے خلاف اسے استعمال کرتا تھا۔ وہ دشمنوں کے سامنے میڈوسا کا سر کردیتا اور اس کی آنکھوں میں دیکھنے والا پتھر کا بن جاتا تھا۔ تاہم، بعد میں یونانی بادشاہوں نے میڈوسا کا سر ایتھینا کے حوالے کردیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK