اچانک دستک ہوئی۔ ابنِ صفی چونک گئے اور بولے، ’’لگتا ہے کوئی ایڈیٹر ہے۔ ناول مانگنے آیا ہوگا۔ ‘‘ مَیں کچھ کہنے ہی والا تھا کہ باہر کی روشنی سے میری آنکھیں چندھیا گئیں۔
EPAPER
Updated: October 23, 2026, 8:59 PM IST | Usaid Ashhar | Mumbai
اچانک دستک ہوئی۔ ابنِ صفی چونک گئے اور بولے، ’’لگتا ہے کوئی ایڈیٹر ہے۔ ناول مانگنے آیا ہوگا۔ ‘‘ مَیں کچھ کہنے ہی والا تھا کہ باہر کی روشنی سے میری آنکھیں چندھیا گئیں۔
راتکے گیارہ بجے تھے۔ امی سمجھ رہی تھیں کہ مَیں کل کے ٹیسٹ کی تیاری کر رہا ہوں۔ مَیں واقعی اسٹڈی کر رہا تھا، مگر ٹیسٹ کی نہیں، علی عمران کی۔ مَیں نے چند لمحوں پہلے ’خوفناک عمارت‘ کا مطالعہ مکمل کیا تھا اور اب سوچ رہا تھا کہ عمران بھی عجیب جاسوس ہے۔ سب اسے احمق سمجھتے ہیں۔ پھر ناول کے آخری باب میں پتا چلتا ہے کہ مجرموں کے سارے منصوبے اسی احمق نے الٹ دیئے۔ مجھے عمران کا کردار بہت پسند آیا، مگر ایک سوال ستانے لگا۔ ابنِ صفی کے پاس تو پہلے ہی کرنل فریدی کی شکل میں ایک زبردست جاسوس تھا۔ پھر انہوں نے ایک بیوقوف جاسوس کیوں تخلیق کیا؟
مَیں نے کتاب سینے پر رکھی اور چھت کو گھورنے لگا۔ ’’ابنِ صفی نے بھی کچھ سوچ کر ہی ایسا کیا ہوگا۔ ‘‘ مَیں نے ناول دوبارہ اٹھایا کہ شاید کوئی سراغ ملے۔ تبھی ایک عجیب بات ہوئی۔ کتاب کے صفحات سے اتنی تیز روشنی نکلی کہ میری آنکھیں چندھیا گئیں۔
کچھ دیر بعد میں نے آنکھیں ملتے ہوئے اپنے آس پاس دیکھا تو خود کو ایک چھوٹے سے کمرے میں پایا۔ دیوار گھڑی ساڑھے دس بجا رہی تھی۔ بوسیدہ کیلنڈر نے بتایا کہ جولائی ۱۹۵۵ء کا مہینہ چل رہا ہے۔ چھت کا پنکھا ہانپتا ہوا گھوم رہا تھا، میز پر کاغذوں کا ڈھیر تھا۔
اچانک ایک صاحب کمرے میں داخل ہوئے۔ یہ ابنِ صفی تھے۔ ان کے چہرے پر وہی خفیف شرارتی مسکراہٹ تھی جو مَیں نے کتابوں کے پیچھے چھپی تصویر میں دیکھی تھی۔ مجھے دیکھ کر وہ گھبرائے نہیں بلکہ پاس آئے اور مجھے غور سے دیکھنے لگے۔
’’آپ ابنِ صفی ہیں ؟‘‘ مَیں نے ہکلا کر پوچھا۔
یہ بھی پڑھئے: پیکابو: مجھے یقین ہی نہیں ہورہا تھا کہ یہ دُبلا پتلا لڑکا ڈاکٹر عبدالکلام ہے
’’جی ہاں، مجھے خاکسار بھی کہتے ہیں۔ ‘‘ انہوں نے اطمینان کے ساتھ جواب دیا۔ ’’اب آپ بتائیے، دروازہ بند تھا، کھڑکی بند تھی، آپ اندر کیسے آئے؟‘‘
’’مَیں ... آپ کے ناول کی روشنی میں کھو کر یہاں پہنچا ہوں۔ ‘‘ وہ سکون سے بولے ’’شاباش! آج پہلی بار کسی نے سیدھا جواب دیا۔ ‘‘ وہ اپنی میز کی طرف بڑھ گئے۔ مَیں نے ہمت یکجا کی اور پوچھا، ’’ابنِ صفی صاحب! مَیں ایک سوال کے ساتھ حاضر ہوا ہوں۔ جب آپ کے پاس فریدی جیسا ذہین جاسوس ہے، آپ نے علی عمران جیسا احمق کردار کیوں تخلیق کیا؟‘‘ انہوں نے حیرت سے میز پر رکھا کاغذ دیکھا۔ ’’آپ کو کیسے پتا کہ مَیں احمق کردار کو متعارف کرانے والا ہوں ؟ مَیں نے تو ابھی اس کا نام بھی نہیں رکھا!‘‘
مَیں گھبرا گیا۔ ’’یہ مستقبل کی خبر ہے۔ ‘‘
’’اچھا!‘‘ وہ ہنس پڑے۔ ’’مجھے یقین ہے کہ ہر دَور کے قارئین اسے پسند کریں گے۔ سنئے، فریدی ذہین اور باوقار ہے مگر اتنا سنجیدہ ہے کہ اگر کبھی مسکرا دے تو قاری اسے کتابت کی غلطی سمجھتا ہے۔ حمید مزاح کرتا ہے تو جاسوسی بھول جاتا ہے۔ مجھے ایک ایسا کردار چاہئے جس کی بیوقوفی ہی اس کا سب سے بڑا ہتھیار ہو اور مجرم اس سے بے خبر رہے۔ ‘‘
’’کیا مجرم ہنسانے والوں سے بھی ہوشیار رہتا ہے؟‘‘ میرا اگلا سوال تھا۔
’’بالکل! مجرم ہوشیار آدمی سے ہمیشہ ہوشیار رہتا ہے مگر بتائیے، بےوقوف سے کون ہوشیار رہتا ہے؟‘‘
مَیں نے اثبات میں سر ہلایا۔ وہ کہتے رہے۔ ’’جب سامنے والا آپ کو بے ضرر سمجھتا ہے تو وہ اپنی حفاظتی دیوار خود گرا دیتا ہے۔ میرے نئے کردار کی بےوقوفی دراصل اس کی ڈھال بنے گی جس کے پیچھے چھپ کر وہ آرام سے کام کریگا۔ ‘‘
پھر انہوں نے کچھ یاد کرتے ہوئے پوچھا، ’’آپ نے اس کردار کا نام کیا بتایا؟‘‘
’’علی عمران۔ ‘‘ ابن صفی کچھ دیر سوچتے رہے۔
یہ بھی پڑھئے: پیکابو: سلطان شمس الدین التمش کا مہمان بننے پر مجھے فخر محسوس ہورہا تھا
’’ہاں، یہ سیدھا سادہ، عام سا نام اس کیلئے بالکل مناسب رہے گا۔ کوئی سوچ بھی نہیں پائے گا کہ اس نام کے پیچھے کوئی بڑا جاسوس ہے۔ اور جاسوس کا سب سے بڑا ہتھیار کیا ہے؟‘‘
’’پستول؟‘‘ میرے منہ سے فوراً نکلا۔
’’نہیں ! عام سا نام اور بھولی سی شکل مگر ایک مشکل ہے۔ اصلی بیوقوف بننا آسان ہے، وہ ہر محلے میں مل جاتے ہیں۔ سمجھدار آدمی کا بیوقوف بننا بہت مشکل ہے۔ مجھے ہر جملہ ناپ تول کر لکھنا پڑیگا۔ کچھ اس طرح کہ لوگ ہنسیں بھی اور سراغ بھی ہاتھ سے نہ جائے۔ ‘‘
’’آپ کا کردار بہت مشہور ہوگا۔ لوگ عمران کو پڑھ کر سیکھیں گے کہ کسی کو صرف اس کی شکل یا باتوں سے نہیں پرکھنا چاہئے۔ ‘‘ وہ مسکرا دیئے۔
اچانک دستک ہوئی۔ ابنِ صفی چونک گئے اور بولے، ’’لگتا ہے کوئی ایڈیٹر ہے۔ ناول مانگنے آیا ہوگا۔ ‘‘
مَیں کچھ کہنے ہی والا تھا کہ باہر کی روشنی سے میری آنکھیں چندھیا گئیں۔ میری نظر ابن صفی پر پڑی تو اُن کے ہونٹوں پر وہی شرارتی مسکراہٹ تھی۔ کچھ لمحے بیتے اور مَیں اپنے کمرے میں اور ناول میرے سینے پر تھا۔
دوسرے کمرے سے امی کی آواز آ رہی تھی، ’’اب سو جاؤ، کل صبح ٹیسٹ ہے!‘‘ مَیں نے آنکھیں موند لیں کہ شاید خواب میں عمران سے ملاقات ہو جائے۔
کالم نگار ایم جے کالج، جلگاؤں میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں اور تعلیمی انقلاب کے سابق طالب علم ہیں۔