صاحب بہادر کی تیوری نے بل ڈالے ’’چور! تمہارے پاس اس کا کیا ثبوت ہے؟ کیا کوئی گواہ ہے؟‘‘ چوکیدار تعجب سے بولا ’’حضور! جو شخص آدھی رات گئے چوری چھپے کسی مکان میں گھس آئے وہ چور نہیں تو کیا چوکیدار ہے!‘‘
EPAPER
Updated: April 18, 2026, 11:26 AM IST | Abidah Mahboob | Mumbai
صاحب بہادر کی تیوری نے بل ڈالے ’’چور! تمہارے پاس اس کا کیا ثبوت ہے؟ کیا کوئی گواہ ہے؟‘‘ چوکیدار تعجب سے بولا ’’حضور! جو شخص آدھی رات گئے چوری چھپے کسی مکان میں گھس آئے وہ چور نہیں تو کیا چوکیدار ہے!‘‘
ایک تھے صاحب بہادر۔ باپ دادا نے جو دولت چھوڑی تھی اسی پر عیش کرتے تھے مگر انہیں خواہش تھی کہ لوگ انہیں صاحب بہادر کہیں اور لوگ انہیں صاحب بہادر کہتے تھے۔ اُن میں خوبی تھی تو صرف ایک۔ وہ یہ کہ ہر کام میں بیحد اصول پرست واقع ہوئے تھے۔ ادھر کی دُنیا اُدھر ہو جائے، پروا نہیں، بھلا صاحب بہادر اور اپنے اصول توڑیں کس قدر شان کے خلاف بات تھی۔ ہاں! اس معاملے میں عقل کے کچھ کورے ضرور تھے۔
کہتے ہیں ایک رات ایک چور نے صاحب بہادر کے ہاں نقب لگائی۔ چوکیدار نے بڑی محنت اور کوشش سے چور کو پکڑا اور صاحب بہادر کے سامنے پیش کر دیا۔ صاحب بہادر نے پوچھا ’’کون ہے یہ؟ اس قدر رات گئے ہماری نیند خراب کرنے کی کیا ضرورت تھی؟‘‘
چوکیدار نے کچھ فخر اور کچھ انعام کی لالچ میں کہا ’’حضور! یہ چور ہے مَیں نے پکڑا ہے؟‘‘
صاحب بہادر کی تیوری نے بل ڈالے ’’چور! تمہارے پاس اس کا کیا ثبوت ہے؟ کیا کوئی گواہ ہے؟‘‘ چوکیدار تعجب سے بولا ’’حضور! جو شخص آدھی رات گئے چوری چھپے کسی مکان میں گھس آئے وہ چور نہیں تو کیا چوکیدار ہے!‘‘
صاحب بہادر نے چوکیدار کو بُرا بھلا کہتے ہوئے کہا ’’یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ کوئی شریف انسان اپنی عزت و ناموس کی خاطر پناہ لینے آئے! مَیں نے تمہیں چوکیدار کیا بنا دیا ہے، ہر کوئی تمہیں چور ہی نظر آتا ہے کل کو تم مجھے بھی چور بنا دو گے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: مختصر کہانی: ایک کاہل لڑکا
’’مگر حضور میری بات تو سنئے یہ چور۔‘‘ چوکیدار کچھ کہنا ہی چاہتا تھا کہ صاحب بہادر نے اس کی بات کاٹ دی ’’جاؤ! اس شریف انسان کے آرام کا انتظام کرو۔‘‘
چوکیدار تو بڑبڑاتا چلا گیا۔ مگر چور جو اب تک شریف کی طرح خاموش کھڑا تھا، یہ معاملہ دیکھا تو دل ہی دل میں خوش ہوگیا۔
دوسری ہی رات وہ پھر آیا اور بہت سارا قیمتی مال چرا لے گیا۔
صاحب بہادر کو پتہ چلا تو وہ آگ بگولا ہوگئے۔ چوکیدار کو بلایا اور کڑک کر پوچھا ’’جب چور آیا تھا تو کیا آپ آرام فرما رہے تھے۔‘‘ چوکیدار نے جو اس وقت واقعی آرام کر رہا تھا بات بناتے ہوئے اطمینان سے جواب دیا ’’نہیں حضور! جب چور آیا تھا تو مَیں گواہ کی تلاش میں گیا تھا۔ گواہ کو لے کر واپس آیا تو چور جا چکا تھا۔ آپ ہی انصاف کریں، اس میں میرا کیا قصور!‘‘ صاحب بہادر تو تھے ہی بدھو! انہوں نے چوکیدار کو معاف کر دیا۔ اور انہیں اپنی اصول پرستی کی حماقت پر بالکل رنج نہ ہوا۔