Inquilab Logo Happiest Places to Work

کانگو: ایبولا وبا کی درجہ بندی سنگین برقرار، متاثرین کی تعداد ۹۰۰؍: ڈبلیو ایچ او

Updated: June 20, 2026, 5:01 PM IST | Kinshasa

اقوام متحدہ کی صحت ایجنسی کے مطابق کانگو میں ایبولا وبا کی درجہ بندی سنگین برقرار ہے، جبکہ متاثرین کی تعداد ۹۰۰؍ کے قریب ہے، جبکہ یوگنڈا میں۱۲؍ دنوں سے کوئی نیا انفیکشن درج نہیں ہوا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ایک اہلکار نے جمعہ کو کہا کہ جمہوریہ کانگو میں ایبولا وبا کی درجہ بندی سنگین برقرار ہے اور اس میں مسلسل تبدیلی آ رہی ہے۔ یہ صورتحال اس وبا کے اعلان کے ایک ماہ بعد بھی جاری ہے۔جنیوا میں صحافیوں سے ویڈیو لنک کے ذریعے بات کرتے ہوئے، ڈبلیو ایچ او کے افریقہ دفتر کی ماری-روزیلین بیلیزائر نے بتایا کہ کانگو کے تین صوبوں میں۳۳؍ صحت زون میں ایبولا کے۸۹۶؍ تصدیق شدہ معاملےاور۲۳۲؍ اموات درج ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ’’ متعدد علاقوں میں مسلسل معاملات درج  ہو رہے ہیں، جو وبا پر قابو پانے اور جوابی کارروائیوں کو جاری رکھنے اور تیز کرنے کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: مغربی کنارے میں آبادکاروں کے حملے تیز، مساجد نذرِ آتش، فلسطینیوں میں خوف

بیلیزائر نے مزید کہا  کہ پڑوسی ملک یوگنڈا میں گزشتہ۱۲؍ دنوں کے دوران ایبولا کا کوئی معاملہ درج نہیں ہوا، جو وبا کو سرحدوں کے پار پھیلنے سے روکنے کی کوششوں میں ایک مثبت پیشرفت ہے۔انہوں نے پیشرفت کی دیگر علامات کا بھی ذکر کیا، خاص طور پر یہ کہ اب تک۷۸؍ افراد اس وائرس سے صحتیاب ہو چکے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’’ان کی صحتیابی اس بات کیثبوت  ہے کہ بروقت تشخیص اور معیاری صحت کی سہولت تک رسائی کے ذریعے جانیں بچائی جاسکتی ہیں۔‘‘انہوں نے بتایا کہ ڈبلیو ایچ او نے متاثرہ صوبوں اور صحت زونوں میں۱۱۵؍ سے زائد ماہرین تعینات کیے ہیں اور مدد کے لیے ۱۱۰؍ میٹرک ٹن سے زیادہ ہنگامی سامان فراہم کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’تمہارے گھروں کی حفاظت امریکی ہتھیاروں سے ہوتی ہے‘‘

بعد ازاںان کوششوں کے باوجود، بیلیزائر نے خبردار کیا کہ وبا کی نوعیت بدلنے کے ساتھ آپریشنل ضروریات بڑھتی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض زیادہ خطرے والے علاقوں میں رسائی کی رکاوٹیں، مریضوں سے رابطہ ڈھونڈنے (کونٹیکٹ ٹریسنگ) میں خامیاں، اور سماج میں اموات کی مسلسل رپورٹس بڑے مسائل ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ کچھ ٹرانسمیشن چین اب بھی اقدامات کی رسائی سے باہر ہو سکتی ہیں، خاص طور پر بے گھر ہونے والے سماج میں جہاں ضروریات، دستیاب وسائل سے زیادہ ہیں۔ بیلیزائر نے کہا کہ ’’ہم جانتے ہیں کہ ایبولا کی منتقلی کو روکنے کے لیے کیا کام کرناہے۔ ہماری اجتماعی ذمہ داری یہ ہے کہ ان اقدامات کو مطلوبہ رفتار اور پیمانے پر لاگو کرتے رہیں تاکہ اس وبا کو قابو میں لایا جا سکے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK