Inquilab Logo Happiest Places to Work

مختصر کہانی: شرط

Updated: May 30, 2026, 11:52 AM IST | Athar Parvez | Mumbai

ایک اور گپی بھی تھے وہ کہتے کہ ہمارے نانا کے پاس ایک ایسا جوتا تھا جس کو پہن کر سارا خاندان ایک وقت میں چل سکتا تھا۔ غرض جتنے منہ اتنی باتیں۔ چھٹی کا دن سب اسی طرح اپنے باپ دادا کی کہانیاں کہہ کہہ کر گزار رہے تھے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

ایک دن گاؤں کے مدرسے میں چھٹی تھی آس پاس کے سب آدمی مدرسے کے برآمدے میں بیٹھے ہوئے تھے اور گپیں ہانک رہے تھے۔ کوئی کہتا تھا کہ ہمارے دادا کے پاس اتنا بڑا بانس تھا کہ جب بارش نہیں ہوتی تھی تو وہ آسمان میں سوراخ کر دیتے تھے۔ سوراخ ہوتے ہی وہ موسلا دھار بارش ہوتی کہ سارا شہر پانی سے بھر جاتا۔ آخر شہر کے لوگ پھر ہمارے دادا کے پاس جمع ہوتے اور کہتے کہ کسی طرح آسمان کا سوراخ بند کر دیجئے تو ہمارے دادا کوئی ٹوٹا ہوا تارا لے کر آسمان میں چپکا دیتے۔ تب کہیں جا کر سوراخ بند ہوتا۔ 
ایک اور گپی بھی تھے وہ کہتے کہ ہمارے نانا کے پاس ایک ایسا جوتا تھا جس کو پہن کر سارا خاندان ایک وقت میں چل سکتا تھا۔ غرض جتنے منہ اتنی باتیں۔ چھٹی کا دن سب اسی طرح اپنے باپ دادا کی کہانیاں کہہ کہہ کر گزار رہے تھے۔ اس مجمع میں جگت چچا بھی تھے جن کو سارے گاؤں کے لوگ چچا کہتے تھے۔ چچا بھی اسی طرح کی کہانیاں سنتے رہے جب سب اپنی اپنی کہہ چکے تو ان کو بھی جوش آگیا وہ بڑے مزے میں بولے ’’ واہ بھئی واہ، اماں، باپ دادا جو تھے سو تھے تم تو اپنی کہو۔ ‘‘ یہ سن کر سب کو غصہ آگیا اور انہوں نے کہا ’’چچا کیا تم بڑھ بڑھ کر باتیں مار رہے ہو۔ بھلا تم کیا جانو کہ ہم خاندانی آدمی ہیں۔ ہمارے باپ دادا تمہاری طرح کوئی گھاس تھوڑے ہی کھودتے تھے۔ ‘‘
یہ سننا تھا کہ چچا کو بہت غصہ آیا اور بولے ’’کیوں بیکار کے لئے میرے منہ لگتے ہو۔ تمہارے باپ دادا نے عیش کئے ہوں گے۔ یہاں میں خود عیش کرتا ہوں۔ گاؤں میں کون ہے جس کے ساتھ میرا اٹھنا بیٹھنا نہیں ہے۔ ‘‘ اس پر گاؤں کے بڑے ساہوکار لالہ رام چندر کو بھی تاؤ آگیا اور وہ بولے ’’اچھا چچا! اگر یہ سچ ہے تو پھر ذرا تم اپنے علاقے کے زمیندار کے ساتھ کھانا کھا کر ہی دکھا دو۔ ‘‘ چچا نے کہا ’’واہ یہ بھی کوئی بات ہے لیکن میں کیوں اپنا وقت خراب کروں۔ ‘‘
لالہ جی نے کہا ’’نہیں تم کھا کر دکھاؤ میں ایک ہزار کی شرط لگانے کے لئے تیار ہوں۔ ‘‘
چچا مسکرائے اور بولے ’’اچھی بات ہے یہی سہی لیکن تم اپنی بات پر قائم بھی رہو گے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: مختصر کہانی: چل رے کدو ٹھمک ٹھمک

لالہ جی بات کے دھنی تھے بولے ’’اچھی بات ہے یہی سہی، اتنے آدمی گواہ ہیں، اگر آج تم کھانا کھا لو زمیندار کے ساتھ۔ ‘‘
جب بات پکی ہوگئی تو شام کو چچا زمیندار کے پاس پہنچے اور بولے ’’زمیندار صاحب! ذرا ایک بات تو بتانا۔ مگر بات تو ایسی ہے کہ کانوں کان خبر نہ ہو۔ ‘‘
زمیندار صاحب بولے ’’ایسی کون سی بات ہے۔ ذرا مَیں بھی تو سنوں۔ ‘‘
چچا نے کہا ’’بھائی بات تو بڑی ہے لیکن کسی اور کو نہ معلوم ہو تو مَیں سنا دوں۔ ‘‘
جب زمیندار صاحب نے وعدہ کیا تو چچا نے کہا ’’زمیندار صاحب! مجھے سونے کی اشرفی کے دام بتا دیجئے اور اگر آدھے دام پر خریدنے کے لئے کوئی آدمی مل جائے تو اس کا نام بھی بتا دیجئے۔ ‘‘
زمیندار صاحب بہت خوش ہوئے اور بولے ’’ارے بھائی یہ بھی کوئی بات ہے میں دام بتا دوں گا تم بے فکر رہو۔ ‘‘
زمیندار صاحب نے سوچا کہ اچھا خاصا سودا پٹ رہا ہے کسی طرح دچا کو راضی کر لیں۔ 
چچا نے کہا ’’مَیں رات کو کھانا کھانے کے بعد آؤں گا تو بات ہوگی۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: مختصر کہانی: گواہ کی تلاش

زمیندار صاحب نے کہا ’’بھیا تم کھانا تو میرے ساتھ کھانا اور اب کھانے پر ہی باتیں ہوں گی۔ ‘‘
رات کو چچا زمیندار صاحب کے یہاں پہنچے اور وہاں انہوں نے ڈٹ کر کھانا کھایا۔ 
کھانے کے بعد جب زمیندار صاحب نے کہا ’’بھائی وہ سونے کی اشرفی تو دکھانا۔ ‘‘
چچا نے کہا ’’زمیندار صاحب میں نے یہ کب کہا تھا کہ میرے پاس سونے کی اشرفی ہے میں تو صرف دام پوچھ رہا تھا۔ ‘‘ یہ سن کر زمیندار صاحب کو بہت غصہ آیا اور انہوں نے کہا ’’بیوقوف کہیں کے میرا اتنا وقت خراب کیا نکل جاؤ یہاں سے۔ ‘‘
چچا مسکرائے اور بولے ’’مَیں کیسے بیوقوف ہوں خود سوچئے کہ آپ نے خود مجھے کھانا کھلایا ہے اور گاؤں کے بڑے لالہ رام چندر مجھے آپ کے یہاں کھانا کھانے پر ایک ہزار روپیہ دینے والے ہیں۔ مَیں آپ کے ساتھ کھانا کھا کر ایک شرط جیت چکا ہوں۔ ‘‘ زمیندار صاحب کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا وہ خود کو بہت عقلمند سمجھتے تھے مگر انہیں کیا معلوم تھا کہ کبھی کبھار کوئی بیوقوف نظر آنے والا شخص بھی عقلمندوں کو بیوقوف بنا سکتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK