Inquilab Logo Happiest Places to Work

انگلینڈ اور ارجنٹائناکے درمیان سیمی فائنل کا فیصلہ مڈفیلڈ کی جنگ کرے گا

Updated: July 14, 2026, 10:10 PM IST | New York

فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ءکے سیمی فائنل میں ارجنٹائنا اور انگلینڈکی ٹکر فٹبال کی تاریخ کی سب سے مشہور حریفیوں میں شمار کی جاتی ہے۔ انگلینڈ کے سابق اسٹار اسٹرائیکر روبی فاؤلرنے اس مقابلے کو محض ایک میچ نہیں بلکہ فٹبال کی تاریخ کی یادگار ترین رقابتوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔

England Team.Photo:X
انگلش کھلاڑی۔ تصویر:ایکس

فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ءکے سیمی فائنل میں ارجنٹائنا اور انگلینڈکی ٹکر فٹبال کی تاریخ کی سب سے مشہور حریفیوں میں شمار کی جاتی ہے۔ انگلینڈ کے سابق اسٹار اسٹرائیکر روبی فاؤلرنے اس مقابلے کو محض ایک میچ نہیں بلکہ فٹبال کی تاریخ کی یادگار ترین رقابتوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔ دونوں ٹیمیں فائنل میں جگہ بنانے کے لیے آمنے سامنے ہوں گی اور دنیا بھر کے فٹبال شائقین کی نظریں اس سنسنی خیز مقابلے پر مرکوز ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:تیز گیندباز جسپریت بمراہ نے انگلینڈ میں ریکارڈ قائم کیا


زی  ۵؍ سے گفتگو کرتے ہوئے روبی فاؤلر نے کہا کہ ارجنٹائنا اور انگلینڈ کے درمیان مقابلے کی اہمیت صرف میدان تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک کی مشترکہ تاریخ بھی اس رقابت کو منفرد بناتی ہے۔انہوں نے ۱۹۸۶ء ورلڈ کپ میں ڈیاگو میراڈونا کے متنازع ’ہینڈ آف گاڈ‘ گول،۱۹۹۸ء ورلڈ کپ میں  ڈیوڈ بیکہم کو ملنے والے ریڈ کارڈ اور۲۰۰۲ء ورلڈ کپ  میں بیکہم کی پنالٹی کے ذریعے انگلینڈ کی واپسی جیسے تاریخی لمحات کا حوالہ دیا۔
 فاؤلر کے مطابق ایسے مقابلے کھلاڑیوں کو فٹبال کی تاریخ کا حصہ بننے کا نادر موقع فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیمی فائنل کا نتیجہ بڑی حد تک مڈفیلڈ کی کارکردگی پر منحصر ہوگا۔ارجنٹائنا کی مضبوط مڈفیلڈ، جس میں الیکسس میک ایلسٹر، اینزو فرنانڈیز  اور  روڈریگو ڈی پال  شامل ہیں، انگلینڈ کے جوڈ بیلنگھم کی قیادت والے مڈفیلڈ کو سخت چیلنج دے گی۔
فاؤلر کا کہنا تھا کہ ارجنٹائنا  گیند پر قبضہ برقرار رکھتے ہوئے کھیل کی رفتار کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرے گا، اس لیے انگلینڈ کو دفاعی نظم و ضبط برقرار رکھنا ہوگا اور ضرورت سے زیادہ دفاعی انداز اختیار کرنے سے گریز کرنا ہوگا۔سابق لیورپول اسٹرائیکر نے مزید کہا کہ ناک آؤٹ مرحلے میں  ذہنی مضبوطی  سب سے اہم کردار ادا کرتی ہے۔
ان کے مطابق بڑی ٹیمیں دباؤ کے باوجود اپنے منصوبے پر قائم رہتی ہیں اور گھبراہٹ میں غلط فیصلے نہیں کرتیں۔ ٹورنامنٹ کے اس مرحلے پر تکنیکی اعتبار سے ٹیموں کے درمیان فرق بہت کم رہ جاتا ہے، اس لیے کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ اکثر ذہنی استحکام ہی کرتا ہے۔موجودہ عالمی چیمپئن  ارجنٹائنا مسلسل دوسری مرتبہ ورلڈ کپ جیتنے کے عزم کے ساتھ میدان میں اترے گا۔ کوارٹر فائنل میں سوئزر لینڈ  کو شکست دینے کے بعد  لیونل میسی  کی قیادت میں ٹیم شاندار فارم میں دکھائی دے رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:تیز گیندباز جسپریت بمراہ نے انگلینڈ میں ریکارڈ قائم کیا


 دوسری جانب تھامس ٹیوشیل کی قیادت میں  انگلینڈ  نے پورے ٹورنامنٹ میں انتہائی منظم اور متاثر کن کھیل پیش کیا ہے، اور اب اس کی نظریں ۱۹۶۶ء کے بعد پہلی بار ورلڈ کپ کے فائنل تک رسائی کرنے پر مرکوز ہیں۔ اس طرح یہ مقابلہ صرف فائنل میں جگہ بنانے کی جنگ نہیں بلکہ فٹبال کی تاریخ کے سب سے عظیم حریفوں میں ایک اور یادگار باب رقم کرنے کا موقع بھی ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK