اب تک ۵؍ لاکھ سے زائد افراد اس پلیٹ فارم سے منسلک ہوئے ہیں، ۲۶؍سالہ امریکی انجینئر الیگزینڈر لٹیپلو کی ذہنی اُپج عالمی سطح پر مقبولیت پارہی ہے۔
اے آئی کے ذریعہ انسانوں کی ملازمت دی جارہی ہے۔ تصویر:آئی این این
روبوٹکس کے پھیلاؤ اور پھر مصنوعی ذہانت کی یلغار کے ساتھ ہی لوگوں کو اب یہ خوف لاحق ہوگیا ہے کہ اے آئی اور روبوٹ ان کی نوکریاں چھین لیں گے۔ مگر حالیہ دنوں میں ایسا کچھ ہوا ہے کہ جو اس سوچ کو بدل سکتا ہے۔ اب اے آئی خود انسانوں کو کام پر رکھ رہا ہے۔ ایک نئے آن لائن مارکیٹ پلیس ’رینٹ اے ہیومن‘ پر۵؍لاکھ سے زیادہ افراد اپنی خدمات دینے کے لیے رجسٹر ہو چکے ہیں۔ یہاں اصل مالکان اے آئی پروگرام ہیں۔ یہ اے آئی بوٹس ان کاموں کے لیے انسانوں کو ادائیگی کرتے ہیں جو وہ خود انجام نہیں دے سکتے، جیسے بازار سے سامان لانا، تصاویر لینا یا کسی تقریب میں شرکت کرنا۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق یہ منفرد اور اختراعی پہل ۲۶؍ سالہ سافٹ ویئر انجینئر الیگزینڈر لِٹپلَو کے ذہن کی پیداوار ہے۔ لِٹپلَو نے دیکھا کہ دنیا میں کروڑوں ’اے آئی ایجنٹس‘ (مثلاً کلاؤڈ پر موجود سسٹمز) موجود ہیں، جن کے پاس دماغ تو ہے مگر ہاتھ پاؤں نہیں۔ وہ کوڈنگ کر سکتے ہیں، شیئر بازار سنبھال سکتے ہیں، لیکن حقیقی دنیا میں جا کر عملی کام نہیں کر سکتے۔ اسی کمی کو پورا کرنے کیلئے ’رینٹ اے ہیومن‘ وجود میں آیا۔ اس کی دلکش ٹیگ لائن ہے: ’’اے آئی گھاس کو چھو نہیں سکتا، آپ چھو سکتے ہیں۔‘‘ یعنی ایک ایسا بازار جہاں اے آئی بوٹس انسانوں کو کرائے پر لیتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ لِٹپلَو نے پلیٹ فارم بنانے کے لیے خود کوڈنگ نہیں کی۔ انہوں نے یہ کام بھی اے آئی ایجنٹس کو سونپ دیا اور خود پولو کھیلنے ارجنٹینا روانہ ہو گئے۔ جب وہ گھڑسواری میں مصروف تھے، ان کے ڈیجیٹل ایجنٹس پلیٹ فارم تیار کر رہے تھے۔ رجسٹریشن کے حوالے سے جوش و خروش دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ لِٹپلَو کا اندازہ درست ثابت ہوا ہے۔پلیٹ فارم پر دستیاب کام بھی نہایت دلچسپ ہیں۔ واشنگٹن میں ایک اے آئی نے۲۷۰۰؍ روپے فی گھنٹہ کے حساب سے ایک شخص کو کبوتروں کی گنتی کے لیے رکھا۔ جبکہ کھیل کی حکمت عملی سیکھنے والے ایک اے آئی نے۹؍ ہزار روپے فی گھنٹہ پر بیڈمنٹن پارٹنر کرائے پر لیا۔ ٹورنٹو کے منجے کانگ دنیا کے پہلے شخص بنے جنہیں اے آئی نے ملازمت دی۔ انہیں ایک بورڈ پکڑ کر کھڑا ہونا تھا، جس پر لکھا تھا: ’’اے آئی نے مجھے یہ بورڈ پکڑنے کے پیسے دیے ہیں۔‘‘
سسٹم کیسے کام کرتا ہے؟
اس پلیٹ فارم پر کوئی انسانی مینیجر موجود نہیں۔ اے آئی بوٹ اشتہار جاری کرتا ہے، انٹرویو لیتا ہے اور کام تفویض کرتا ہے۔ انسان کام مکمل کرنے کے بعد تصویر یا ویڈیو کی صورت میں ثبوت فراہم کرتا ہے۔ تصدیق کے فوراً بعد کرپٹو کرنسی یا آن لائن والیٹ کے ذریعے ادائیگی کر دی جاتی ہے۔ رقم ایک محفوظ ایسکرو فنڈ میں رکھی جاتی ہے تاکہ روبوٹ ادائیگی میں دھوکہ نہ دے سکے۔
ادائیگی اور حادثات جیسے مسائل پر ابہام
محقق ایڈم ڈور کے مطابق، اے آئی کے ذریعے انسانوں سے کام لینے کے حوالے سے قوانین اور ضوابط بہت پیچھے ہیں۔ اگر کسی اے آئی کا ارادہ غلط ہو تو وہ کسی بڑے اور خطرناک کام کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کر کے مختلف انسانوں سے کروا سکتا ہے۔ یوں لوگ انجانے میں کسی ایسے منصوبے کا حصہ بن سکتے ہیں جو نقصان دہ ہو۔ ڈور کا کہنا ہے کہ ہمیں جلد سخت قوانین اور حفاظتی اقدامات وضع کرنے ہوں گے تاکہ اے آئی کا استعمال ذمہ داری کے ساتھ ہو۔
گُڈ ٹیک ایڈوائزری کی سی ای او کیفرتھ بٹر فیلڈ کا کہنا ہے کہ کئی ممالک میں اے آئی کے ذریعے انسانوں کی حفاظت کے لیے واضح قوانین موجود نہیں ہیں، اس لیے یہ طے کرنا ضروری ہے کہ ادائیگی کی ذمہ داری کس پر ہوگی اور کسی حادثے کی صورت میں جوابدہی کس کی ہوگی۔