• Sat, 19 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کہانی: محنت

Updated: September 19, 2026, 4:29 PM IST | Naila Rizwan | Mumbai

سر سبز میدان کے کنارے ایک برگد کا درخت تھا۔ اسکی شاخ پر ایک چڑیا کا گھونسلہ تھا۔ وہ ہر روز صبح سویرے اُٹھتی، دانہ چگتی، پانی پیتی اور پھر اپنے دوستوں سے ملنے چلی جاتی۔ ایک دن موسم بہت خوشگوار تھا۔ آسمان پہ بادل چھائے ہوئے تھے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این
سر سبز میدان کے کنارے ایک برگد کا درخت تھا۔ اسکی شاخ پر ایک چڑیا کا گھونسلہ تھا۔ وہ ہر روز صبح سویرے اُٹھتی، دانہ چگتی، پانی پیتی اور پھر اپنے دوستوں سے ملنے چلی جاتی۔ ایک دن موسم بہت خوشگوار تھا۔ آسمان پہ بادل چھائے ہوئے تھے۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ چڑیا نے سوچا آج تو موسم بہت اچھا ہے کیوں نہ سب دوستوں کے ساتھ مل کر کھچڑی بنائی جائے۔ یہ سوچ کر وہ خوشی خوشی اُڑ کے کوّے کے پاس گئی۔ اس سے کہا، ’’کوّے بھائی، کیوں نہ آج کھچڑی بنائی جائے۔‘‘ کوّے نے کہا، ’’واہ بہت مزہ آئیگا، میں کچھ لکڑیاں لے آؤں گا؟‘‘ اس کے بعد کبوتر، چڑیا، گلہری، چوہیا، خرگوش اور طوطے کے پاس گئی۔ سب نے آنے اور کچھ نہ کچھ لانے کا وعدہ کیا۔
دوپہر کے وقت سب جانور برگد کے درخت کے نیچے اکھٹے ہوگئے۔ کوّا لکڑیاں لایا کبوتر چاول، گلہری دال، چوہیا نے نمک اور خرگوش پانی لے کر آیا۔ سب نے مل کر مٹی کے چولہے پر ہنڈیا رکھی اور آگ جلائی۔ چڑیا ہنڈیا میں دال، چاول، پانی اور نمک ڈال کر چمچہ چلانے لگی، تھوڑی ہی دیر میں چاروں طرف کھچڑی کی مزےدار خوشبو پھیل گئی۔ ’’واہ کیا خوشبو ہے!‘‘ سب نے ایک ساتھ کہا، مگر ابھی کھچڑی تیار نہیں ہوئی تھی کہ بادل گرجنے لگے۔ ’’اوہو یہ تو بارش شروع ہوگئی۔‘‘ گلہری بولی۔ سب نے جلدی جلدی پتوں سے چھتری بناکر اس کے نیچے بیٹھ گئے۔ بارش کے بعد جب ہنڈیا کھولی تو کھچڑی بالکل تیار تھی۔ چڑیا سب کی پلیٹوں میں کھچڑی ڈالی۔ ’’اگر سب ایسے ہی مل بانٹ کر کھائیں تو کوئی بھوکا نہ رہے۔‘‘ گلہری بولی۔
 
 
کچھ دن گزرے سر دیاں آگئیں۔ برگد کے درخت پر چڑیا اپنے گھونسلے میں بیٹھی کانپ رہی تھی۔ اس نے اپنے پر پھیلا کر خود سے کہا، ’’ ہائے سردی، اب تو کچھ گرم کھانے کا انتظام کرنا ہی پڑے گا، پھر اسے یاد آیا کہ پچھلی بار گرمی میں سب دوستوں نے مل کر کھچڑی بنائی تھی۔ کیوں نہ اس بار سوپ بنایا جائے۔ یہ خیال آتے ہی چڑیا نے درخت کی شاخ پر بیٹھ کر سب کو پیغام دیا، ’’کل دوپہر کو میرے درخت کے نیچے سوپ بنے گا۔ سب آجائیں۔‘‘ اگلے دن پھر کوا لکڑیاں لے کر آیا، کبوتر،گاجر اور مٹر، گلہری، سیاہ مرچ، چوہیا، نمک اور خرگوش پانی سب نے مل کر آگ جلائی، ہنڈیا رکھی اور سوپ بنانے لگے کچھ ہی دیر میں ہر جگہ خوشبو پھیل گئی۔ اتنے میں جھاڑیوں کے پیچھے سے ایک لومڑی نکلی۔ اس نے خوشبو سونگھتے ہوئے کہا، ’’کیا خوشبو ہے، لگتا ہے کوئی مزےدار چیز بن رہی ہے۔‘‘ وہ درخت کے نیچے پہنچی اور میٹھے لہجے میں بولی، ’’میرے دوستو! مَیں بھی تو تمہاری ہمسائی ہوں، کیا مجھے بھی سوپ مل سکتا ہے؟‘‘ چڑیا نے کہا، ’’اگر تم وعدہ کرو کہ دوسروں کا حق نہیں چھینو گی تو ضرو ملے گا۔‘‘ لومڑی نے فوراً کہا، ’’مَیں وعدہ کرتی ہوں کہ کسی کو تنگ نہیں کروں گی۔‘‘ چڑیا نے چھوٹی سی پیالی میں سوپ ڈال کر لومڑی کو دیا۔ اس نے جیسے ہی سوپ پیا اس کو بہت مزہ آیا۔ کہنے لگی، ’’واہ کتنا مزےدار سوپ ہے۔‘‘ لیکن پھر اس کے دل میں لالچ آگیا، اس نے سوچا، اگر مجھے پوری ہنڈیا کا سوپ مل جائے تو کتنا اچھا ہو۔‘‘ اس نے چپکے سے ہنڈیا کی طرف اپنا پنجہ بڑھایا، مگر وہ بہت گرم تھی، ’’آہ.... وہ چیخ پڑی اور ہنڈیا الٹ گئی سارا سوپ زمین پر گر گیا۔ سب دوست چونک گئے۔ چڑیا بولی،’’لومڑی بہن اگر تم صبر کرتیں تو یہ نقصان نہ ہوتا۔‘‘ لومڑی شرمندہ ہوگئی، کہنے لگی، ’’مجھے معاف کر دو آئندہ مَیں سب کے ساتھ مل کر کھاؤں گی۔‘‘ چڑیا نے کہا، ’’چلو، اب کل تم ہمارے ساتھ مل کر سوپ بنانا۔‘‘ اگلے دن سب نے مل کر دوبارہ سوپ بنایا، اس بار لومڑی بھی لکڑیاں لے کر آئی۔ سب نےمل کر سوپ پیا۔
سردیوں کے دن گزر گئے، درختوں پر نئی کونپلیں پھوٹنے لگیں، ایک دن چڑیا کے گھونسلے سے ننھے بچے بچوں کی آوازیں آئیں۔ بچوں کی پیدائش کے بعد چڑیا بہت مصروف رہنے لگی صبح سویرے دانہ چگنے جاتی، پھر اپنے بچوں کو کھلاتی۔ ایک دن چڑیا کے بچوں نے کہا، ’’امی ہم اڑنا سیکھنا چاہتے ہیں۔‘‘ چڑیا نے کہا، ابھی تمہارے پر مضبوط نہیں ہوئے۔ تھوڑا انتظار کرو۔ پہلے مل جُل کر رہنا سیکھو۔‘‘ ایک دن چڑیا نے اپنے بچوں کے ساتھ کھچڑی بنانے کا سوچا اور سب دوستوں کو بلایا۔ چڑیا کے دوست کوا، کبوتر، گلہری، چوہیا، خرگوش سب آگئے۔ ’’ارے واہ پیاری چڑیا اب تو تمہارا پورا خاندان باورچی بن گیا ہے۔‘‘ کوّے نے ہنستے ہوئے کہا۔ تب ہی جھاڑیوں کے پیچھےسے لومڑی نکلی وہ بولی ’’چڑیا بہن اب میں بہت بدل گئی ہوں۔ آج مَیں لکڑیاں لے کر آئی ہوں، تاکہ سب کے ساتھ کھانا بنا سکوں۔‘‘ چڑیا نے خوش ہو کر کہا، ’’یہ ہوئی نہ بات آؤ ہم سب مل کر کھچڑی بناتے ہیں۔‘‘ سب نے مل کر چھوٹی سی ہنڈیا میں دال چاول ڈالے۔ لومڑی نے لکڑیاں جلائیں، چڑیا کے بچوں نے ہنڈیا میں چمچ سے سب چیزوں کو ملایا۔ سب دوست گھاس پر بیٹھ گئے۔ گرم کھچڑی کی خوشبو کے ساتھ ہوا میں سب کی ہنسی بھی گونجنے لگی۔ چڑیا کے بچے تالیاں بجانے لگے اور کہنے لگے، ’’ہماری امی سب سے اچھی ہیں، انہوں نے ہمیں محنت کرنا سکھایا ہے۔ ماں سب سے بڑا استاد ہوتی ہے وہ اپنے بچوں کو صرف اڑنا نہیں بلکہ جینا بھی سکھاتی ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK