• Sat, 19 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آئرلینڈ کے ریڈیو نے ایڈ شیرن کے گانے ہٹا دیے، آج فلسطین تنازع کے درمیان کنسرٹ

Updated: September 19, 2026, 5:02 PM IST | Philadelphia

میکلمور کو فلسطین کی حمایت پر ٹور سے نکالے جانے کے بعد تنازع بڑھا، آئرش ریڈیو کا بائیکاٹ، مداحوں کی بڑی تعداد نے انسٹاگرام پر ان فالو کیا؛ آج فلاڈیلفیا میں پہلا کنسرٹ۔

Ed Sheeran. Photo: INN.
ایڈ شیران۔ تصویر: آئی این این

فلسطین کے معاملے پر امریکی ریپر میکلمور کو اپنے دورۂ موسیقی سے الگ کیے جانے کے بعد برطانوی گلوکار ایڈ شیرن کے خلاف ردعمل مزید تیز ہوگیا ہے۔ آئرلینڈ کے معروف کمرشیل ریڈیو اسٹیشن کلاسک ہٹس ریڈیو نے ایڈ شیرن کے گانے اپنے پروگراموں سے ’’تاحکمِ ثانی‘‘ ہٹا دیے ہیں، جبکہ گلوکار کے سوشل میڈیا پر بھی مداحوں کی تعداد میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ تاہم یہ کہنا درست نہیں کہ پورے آئرلینڈ میں ایڈ شیرن کے گانوں پر پابندی عائد کردی گئی ہے؛ آئرلینڈ کے سرکاری نشریاتی ادارے آر ٹی ای نے واضح کیا ہے کہ اس کے ریڈیو اسٹیشنوں پر ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ کلاسک ہٹس ریڈیو کے گروپ پروگرام ڈائریکٹر ڈیو کیلی نے کہا کہ ایڈ شیرن کے گانے ہٹانے کا فیصلہ سامعین کی جانب سے ملنے والے ردعمل کے بعد ’’غور و فکر کے ساتھ‘‘ کیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ ذاتی طور پر ایڈ شیرن کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں ہے اور ریڈیو نے خود گلوکار کی اس وضاحت کو بھی تسلیم کیا ہے کہ میکلمور کو ٹور سے ہٹانے کا فیصلہ ان کا نہیں بلکہ منتظم کا تھا۔ ریڈیو کے مطابق آئرش فنکار آرون رو اور بینڈ بیوگا کے ٹور سے الگ ہونے کے فیصلے کو بھی مدنظر رکھا گیا۔

 

ڈیو کیلی نے کہا کہ ایک آزاد آئرش ریڈیو ادارے کی حیثیت سے وہ اپنے سامعین کی بات سننے اور ان آئرش فنکاروں کے ساتھ کھڑے ہونے کو اہم سمجھتے ہیں جنہوں نے اپنے اصولوں کے تحت ٹور چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے بقول ادارے کا موقف ’’امن، انسانیت، احترام اور لوگوں و فنکاروں کے اپنے مخلصانہ نظریات کے اظہار اور ان پر عمل کے حق‘‘ پر مبنی ہے۔ دوسری جانب آر ٹی ای نے واضح کیا کہ اس نے ایڈ شیرن کے گانوں کو اپنے ریڈیو اسٹیشنوں سے ہٹانے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ ادارے نے کہا کہ کسی فنکار کے گانے نشر کرنے پر پابندی لگانے کے لیے اس کا معیار ’’بہت بلند‘‘ ہے۔ 

تنازع کی بنیادی وجہ میکلمور کو ایڈ شیرن کے امریکی ٹور کی باقی تاریخوں سے الگ کیا جانا ہے۔ میکلمور نے ستمبر کے اوائل میں نیو جرسی کے میٹ لائف اسٹیڈیم میں پرفارمنس کے دوران فلسطین کے حق میں آواز اٹھائی تھی۔ بعد ازاں انہیں ٹور سے ہٹا دیا گیا۔ ایڈ شیرن نے کہا کہ یہ فیصلہ ٹور کے منتظم نے کیا تھا اور ان کا ذاتی فیصلہ نہیں تھا۔ ان کے مطابق آنے والے پروگراموں سے متعلق مقامات نے واضح کیا تھا کہ اگر میکلمور ٹور کا حصہ رہے تو وہ پروگرام منسوخ کرسکتے ہیں۔ ایڈ شیرن نے سوشل میڈیا پر اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس تنازع میں شریک نہیں ہیں اور اسرائیل و فلسطین کے ’’تباہ کن تنازع‘‘ کے بارے میں ان کی ذاتی رائے موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا عوامی طور پر سیاسی معاملات پر بات نہ کرنا اس بات کا مطلب نہیں کہ انہیں ان معاملات کی پروا نہیں یا ان کی کوئی ذاتی رائے نہیں۔ انہوں نے میکلمور کو ایک فنکار کی حیثیت سے احترام دینے کی بات بھی کہی۔

میکلمور کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ایڈ شیرن کے ٹور سے وابستہ دیگر تمام افتتاحی فنکار بھی الگ ہوگئے۔ ان میں آرون رو، بیوگا، فنّیاس اور لوکاس گراہم شامل ہیں۔ بیوگا نے کہا کہ وہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے ایڈ شیرن کے دوست رہے ہیں، لیکن ایسے مقامات پر پرفارم کرنا ان کے لیے ممکن نہیں جہاں فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے والے کسی فنکار کو خاموش کیا جائے۔ اس تنازع کا اثر ایڈ شیرن کے سوشل میڈیا پر بھی دکھائی دیا۔ سوشل بلیڈ کے اعداد و شمار کے مطابق میکلمور کو ٹور سے ہٹائے جانے کے بعد صرف ۲۴؍ گھنٹوں میں ایڈ شیرن کے انسٹاگرام فالوورز میں ۱۴۹۶۳۶؍ کی کمی ہوئی، جبکہ اسی مدت میں میکلمور کے فالوورز میں ۷۵۰۰۹۸؍ کا اضافہ ہوا۔ یورو نیوز کے مطابق ۳؍ دن میں ایڈ شیرن کے فالوورز کی مجموعی کمی ۲؍ لاکھ ۶۰؍ ہزار سے تجاوز کرگئی۔

اب اس تنازع کا اگلا بڑا مرحلہ آج ۱۹؍ ستمبر ۲۰۲۶ء کو فلاڈیلفیا میں ہونے والا ایڈ شیرن کا کنسرٹ ہے۔ یہ میکلمور کو ٹور سے ہٹائے جانے اور دیگر تمام معاون فنکاروں کے الگ ہونے کے بعد ایڈ شیرن کی پہلی پرفارمنس ہوگی۔ لنکن فنانشل فیلڈ میں ہونے والے پروگرام میں فی الحال کوئی متبادل افتتاحی فنکار مقرر نہیں کیا گیا، اس لیے ایڈ شیرن ہی مرکزی فنکار کے طور پر اسٹیج پر ہوں گے۔ کنسرٹ سے پہلے ٹکٹوں کی دوبارہ فروخت کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی۔ ٹک پِک کے مطابق ۱۹؍ ستمبر کے فلاڈیلفیا شو کے لیے سب سے سستا ٹکٹ ۱۰۰؍ ڈالر سے گھٹ کر ۵۱؍ ڈالر رہ گیا، یعنی تقریباً ۴۹؍ فیصد کی کمی ہوئی۔ بعد میں اسٹب ہب پر یہی قیمت ۴۲؍ ڈالر تک پہنچ گئی۔ ٹک پِک کے مطابق ۱۶؍ ستمبر سے ۱۹؍ ستمبر کے درمیان دستیاب ٹکٹوں کی تعداد میں ۵۴؍ فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ایونٹ ٹکٹس سینٹر کے مطابق دوبارہ فروخت ہونے والے ٹکٹوں کی تعداد پہلے کے مقابلے میں تقریباً ۵ء۲؍ گنا بڑھ گئی۔ فلاڈیلفیا کنسرٹ کے باہر فلسطین کے حامی مظاہرے کی بھی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ اس طرح میکلمور کو ٹور سے الگ کرنے کا تنازع اب صرف فنکاروں کے درمیان اختلاف تک محدود نہیں رہا بلکہ ریڈیو، سوشل میڈیا، ٹکٹ مارکیٹ اور آج ہونے والی پرفارمنس تک پھیل چکا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK