• Sat, 19 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اندازِ نظر بدلے تو حالات بھی بدلیں!

Updated: September 19, 2026, 4:33 PM IST | Shahid Latif | Mumbai

ملک میں جگہ جگہ طالب علم احتجاج کررہے ہیں۔ جین زی میں جین الفا بھی شامل ہوگئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آج کا طالب علم حالاتِ تعلیم و تدریس سے کسی بھی خانے میں مطمئن نہیں ہے۔ یہ وقت ہے اسے اعتماد میں لینے کا۔ کیا یہ ضروری نہیں؟ ملک کے مفاد نہیں ؟

Picture: INN
تصویر: آئی این این

ڈاکٹر ذاکر حسین کے ایک خطبے کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ مضمون نگار سوچنے پر مجبور ہوا کہ ڈاکٹر صاحب نے تعلیم کے ساتھ ’’ سچی تعلیم‘‘ کیوں کہا۔ ’’سچی تعلیم‘‘ کہہ کر وہ آگے بڑھ گئے تھے مگر یہ مضمون نگار آگے نہیں بڑھا۔ اس کے ذہن میں سوال تھا کہ تعلیم کے ساتھ جو سابقے استعمال کئے جاسکتے ہیں وہ عموماً یہ ہوتے ہیں: بنیادی تعلیم، ثانوی تعلیم، دیہی تعلیم، شہری تعلیم، اعلیٰ تعلیم، پیشہ جاتی تعلیم، اچھی تعلیم نیز دینی و دُنیوی تعلیم وغیرہ، مگر ڈاکٹر صاحب نے ان میں سے کسی سابقے کا استعمال نہیں کیا بلکہ سب سے الگ ’’سچی تعلیم‘‘ کہا۔ مجھے یقین تھا کہ خطبے میں جلد یا بہ دیر اس کی وضاحت ملے گی کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ ڈاکٹر ذاکر حسین جیسی جلیل القدر شخصیت اظہار خیال کرے اور کوئی لفظ، بات، پہلو، نکتہ یا زاویہ تشنہ رہ جائے۔ مگر، اس سے قبل کہ خطبے کا مطالعہ ازسرنو جاری رہتا، ’’سچی تعلیم‘‘ میں میرا ذہن اٹکا رہا۔  اس دوران ایک خیال یہ بھی آیا ہے کہ سچی تعلیم سے مراد تنقیدی سوچ اور تجسس پیدا کرنا، موضوع کی مکمل تفہیم، طالب علم کی باخبری، جذباتی طاقت، رواداری ، سماجی روابط اور ذاتی اقدار کا شعور پیدا کرنا وغیرہ ہوسکتی ہے جسے انگریزی میں ’’ہولسٹک ایجوکیشن‘‘ نام دیا جاتا ہے مگر یہ محض خیال تھا جسے مَیں نے خود ہی جھٹک دیا۔ اب خطبے کے اُس حصے تک پہنچنے کا میرا اشتیاق بڑھ گیا جس میں ڈاکٹر صاحب نے سچی تعلیم کی تعریف بیان کی ہوگی۔اس وقت تک مجھے اندازہ نہیں تھا کہ خطبے کی جن سطور کو مَیں سچی تعلیم کی تعریف سمجھوں گا اُن میں ایسا جملہ بھی ہوگا جو میرے نزدیک حاصل مطالعہ ہوگا اور جسے مَیں اپنی بیاض میں نسبتاً جلی حرفو ں میں درج کروں گا۔

یہ بھی پڑھئے:۹؍ سوال اپنے آپ سے پوچھیں، یہ آپ کی زندگی بدل سکتے ہیں!

عالموں اور دانشوروں کی کتابیں پڑھنے کا یہی سب سے بڑا فائدہ ہے۔ ان میں ایسا ایسا خیال ملتا ہے کہ رُک رُک کر اُس پر غور کرنے کے بعد بھی سیری نہیں ہوتی اور ایسے ایسے جملے آتےہیں کہ جی چاہتا ہے آخری دم تک ذہن میں محفوظ رہیں، کبھی محو نہ ہوں۔ اسی لئے میرا طریقۂ مطالعہ یہ ہے کہ زیر مطالعہ کتاب کے ساتھ قلم یا پنسل اور بیاض ضرور رہتی ہے۔ بیاض کہیں اور رکھی ہو تو اہم باتیں سادا کاغذ پر نقل کرلیتا ہوں بعد ازیں بیاض میں منتقل کرتا ہوں۔ اس دوران اُن لوگوں کے حافظہ پر رشک کرتا ہوں جو ایک بار کے پڑھے کو ہمیشہ یاد رکھتے ہیں، کبھی نہیں بھولتے۔ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کی مکتبی تعلیم معمولی تھی مگر صاحبانِ علم کی صحبتوں کے فیض سے مجلسوں اور محفلوں میں شریک ِگفتگو ہونے کا حق ادا کرنے کے قابل ہوگئے۔ یہ مرتبہ اُنہیں ذوق علم اور قوتِ حافظہ کے سبب ہی ملا تھا۔ 

اب آئیے سچی تعلیم پر۔ ڈاکٹر صاحب نے فرمایا: ’’ہمیں اس خیال کو، جو بہت عام ہے، دل سے نکال دینا چاہئے کہ تعلیم ایک خالی ذہن کو معلومات سے پُر کرنے کو کہتے ہیں۔ جی نہیں، تعلیم ننگے جسم کو کپڑے پہنانے یا کوری تختی پر لکھنے کا نام نہیں۔ تعلیم کے یہ معنی نہیں کہ کسی صنعتی یا معاشی جائزے کی بناء پر کسی سیاسی نظریہ کے تقاضے کو پورا کرنے کیلئے ایک من مانے طریق ِتربیت یا وضع ِلباس کو زبردستی لوگوں کے سر منڈھ دیں۔ جمہوری سماج میں تعلیم کا بنیادی اُصول ہے اُس بچے کی انفرادیت کا احترام جسے آگے چل کر ملک کا شہری ہونا ہے اس لئے کہ جمہوریت کی قسمت کا دار و مدار اس پر ہے کہ بچے کی صلاحیتیں پوری طرح نشوونما پائیں اور وہ سماجی تنظیم کو زیادہ منصفانہ اور اخلاقی حیثیت سے مکمل بنانے میں سمجھ بوجھ کر حصہ لے۔‘‘  

یہ بھی پڑھئے: یومِ اساتذہ پر روشن مستقبل کے معماروں کو سلام

ان سطور کو پڑھ کر ایسا لگا کہ ڈاکٹر صاحب کا بیان کردہ مقصد ِ تعلیم ہی سچی تعلیم ہے۔ اس میں، ’’بچے کی انفرادیت کا احترام جسے آگے چل کر ملک کا شہری ہونا ہے‘‘ حاصل مطالعہ ہے۔ کتنے لوگ جانتے ہیں کہ تعلیم، بچے کی انفرادیت کے احترام سے شروع ہوتی ہے؟ اگر انفرادیت کے احترام کا شعور بالیدہ نہیں ہوا ہے تو کیا مقصد ِ تعلیم پورا ہوگا؟ اگر انفرادیت کو تھوڑی دیر کیلئے حاشئے پر رکھ کر صرف ’’بچے کے احترام‘‘ کو پیش نظر رکھیں تو سوال پیدا ہوگا کہ کتنے لوگ بچے یعنی طالب علم کا احترام ضروری سمجھتے ہیں؟ تدریس یا تعلیم چراغ سے چراغ روشن کرنے کا نام ہے۔ اگر معلم، طالب علم کا (اور طالب علم معلم کا) احترام نہیں کریگا تو چراغ سے چراغ روشن نہیں ہوگا۔اب تک کا طریقہ یہ ہے کہ طالب علم سے اُمید رکھی جاتی ہے کہ معلم کا احترام کرے مگر معلم سے طالب علم کے احترام کی توقع نہیں کی جاتی۔ کیوں نہیں کی جاتی یہ سوال اسلئے اہم ہے کہ اگر تشنگانِ علم یا طالبانِ علم نہیں ہوں گے تو معلم کیا کرے گا؟ کس کو پڑھائے گا؟ 

یہی بات والدین سے پوچھنا چاہئے کہ اگر آپ اپنی طالب علم اولاد کو وسائل فراہم نہیں کرینگے، اس کی ذہنی تربیت کو مقدم نہیں جانیں گے، اس کی تعلیمی پیش رفت میں جذباتی شرکت کو اہم نہیں سمجھیں گے اور اس کی تعلیم اور شخصیت کے نقائص کو پہچان کر اُنہیں دور کرنے کی کوشش نہیں کرینگے تو کیا اس طرز عمل کو طالب علم کا احترام کہا جاسکتا ہے؟ والدین کا فرض اتنا ہی نہیں ہے کہ تعلیم پر مال خرچ کریں۔ اُنہیں تعلیم پر توجہ اور توانائی بھی صرف کرنی چاہئے۔

معلم اور والدین کے ساتھ معاشرہ کی بھی ذمہ داری ہے کہ طالب علموں کا احترام ملحوظ رکھے۔ اس کیلئے احترام کا معنی ہوگا طالب علم کی حوصلہ افزائی، اس کیلئے جہاں جہاں ممکن ہو وسائل کی فراہمی اور ایسے ماحول کی آبیاری جس میں اسکول اور کالج نہ جانے والا، اسکول اور کالج جانے والے کو دیکھ کر احساس محرومی سے دوچار ہو اور اُس میں  اسکول اور کالج جانے کی شدید خواہش بیدار ہو۔

معلم، والدین اور معاشرہ کے ساتھ ساتھ حکومت پر بھی طالب علم کا احترام لازم ہے۔ وہ درس گاہ فراہم کرے، تعلیمی ماحول مہیا کرے، ہر طرح کے وسائل بہم پہنچائے اور ایسی فضا تیار کرے جس میں طالب علم نہ تو ہراساں ہو نہ ہی بد دل ہو۔ دور حاضر میں حکومت طالب علموں سے توقع کرتی ہے کہ وہ فیوچر ریڈی ہوں مگر اُن کے  فیوچر کیلئے خود ریڈی نہیں ہے  یہ سب سے بڑی ستم ظریفی ہے۔ آج ملک بھر میں طالب علموں کی جتنی ناقدری ہورہی ہے پہلے نہیں ہوئی تھی۔جتنی بے احترامی ہورہی ہے پہلے نہیں ہوئی تھی۔ یہ اس لئے ہورہا ہے کہ طالب علم کے احترام کی ضرورت کو سمجھا گیا نہ ہی اس کیلئے ماحول کو سازگار بنایا گیا۔ ہم یہ بھول گئے کہ معلم تعلیم دے کر اور حکومت وسائل فراہم کرکے طالب علم پر جتنا احسان کرتی ہے اُتنا ہی طالب علم تعلیم حاصل کرکے اُن پر احسان کرتا ہے۔ اسے جداگانہ نظریئے سے بھی دیکھنا چاہئے۔ یہ بالکل ایسا ہے جیسے کھانا کھلانے والا بھوکے پر احسان نہیں کرتا، بھوکا کھانا کھا کر کھلانے والے پر احسان کرتا ہے۔ اس کو وَن وے ٹریفک سمجھنا بالکل ٹھیک نہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK