’’تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو‘‘ اُردو کا مشہور محاورہ ہے۔ اس کا معنی ہے انتظار کرو اور دیکھو کہ حالات کیا رُخ اختیار کرتے ہیں۔ ایندھن کے صدمے کے اس دور میں یہ محاورہ اضافہ چاہتا ہے۔
EPAPER
Updated: September 19, 2026, 4:25 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai
’’تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو‘‘ اُردو کا مشہور محاورہ ہے۔ اس کا معنی ہے انتظار کرو اور دیکھو کہ حالات کیا رُخ اختیار کرتے ہیں۔ ایندھن کے صدمے کے اس دور میں یہ محاورہ اضافہ چاہتا ہے۔
’’تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو‘‘ اُردو کا مشہور محاورہ ہے۔ اس کا معنی ہے انتظار کرو اور دیکھو کہ حالات کیا رُخ اختیار کرتے ہیں۔ ایندھن کے صدمے کے اس دور میں یہ محاورہ اضافہ چاہتا ہے۔ اضافہ یہ ہو: تیل کا بازار دیکھو۔ اس بازار کی تیوریاں پہلے ہی سے چڑھی ہوئی ہی تھیں۔ امریکہ نے مشکلا ت کے بڑھنے کا اندیشہ پیدا کردیا ہے۔ روس سے تیل خریدنے کے معاملے میں وہاں کی سینیٹ اور ایوان نمائندگان نے یکے بعد دیگرے بھاری اکثریت سے ایسا بل منظور کیا جس پر ۱۰۰؍ فیصد عمل ہوگیا اور ہندوستان پر ۱۰۰؍ فیصد ٹیرف عائد ہوگیا تو تیل بھی مشکل میں آجائیگا، تیل کی دھار بھی اور تیل کا بازار بھی۔ ٹرمپ سنکی ہیں، سیماب صفت ہیں اور اُن پر رہ رہ کر دورہ پڑتا رہتا ہے، یہ تو سب جانتے اور مانتے ہیں مگر ہندوستان کو دوست اور وزیر اعظم مودی کو جگری دوست قرار دینے کے باوجود اُن کا ہندوستانیوں کو نیچا دکھانا اور نت نئی آزمائش سے گزارنا سمجھ میں نہیں آتا۔ سینیٹ اور ایوان نمائندگان سے منظور ہونے والے اس مسودۂ قانون کے ذریعہ انہیں ہندوستان پر ۱۰۰؍ فیصد تک ٹیرف لگانے کا اختیار حاصل رہے گا۔ اگر یہ اختیار استعمال کیا گیا تو اس کی وجہ سے امریکی بازار میں ہندوستان سے درآمد کی گئی اشیاء اور مصنوعات مہنگی ہونگی، ان کی طلب یعنی ڈیمانڈ پر غیر معمولی منفی اثر پڑیگا، ہماری برآمدات متاثر ہونگی، ملک کی متعلقہ صنعتوں پر مشکل وقت آسکتا ہے، برآمد کارو ں یعنی ایکسپورٹرس کو نقصان اُٹھانا پڑسکتا ہے، ہمارا بین الاقوامی تجارتی خسارہ بڑھ سکتا ہے اور روپے کی قدر مزید گر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:نیپال سانحہ کو محض ایک قدرتی آفت سمجھ کر آگے بڑھ جانا بڑی غلطی ہوگی
یاد رہنا چاہئے کہ امریکہ ہندوستان کا بہت بڑا تجارتی حلیف (ٹریڈنگ پارٹنر) ہے۔ ہندوستان امریکہ کو الیکٹریکل اور الیکٹرانکس آلات، دوائیں، مشینیں، ٹیکسٹائل اور کئی دوسری اشیاء برآمد کرتا ہے۔ ۲۰۲۵ء میں امریکہ کیلئے ہندوستانی ایکسپورٹ۹۲ء۵۷؍ ارب ڈالر کے مساوی تھا۔ امریکہ کی طرح چین بھی ہندو ستان کا بہت بڑا ٹریڈنگ پارٹنر ہے مگر اس فرق کے ساتھ کہ ہندوستان امریکہ کو ایکسپورٹ زیادہ کرتا ہے امپورٹ کم جبکہ چین کو ایکسپورٹ کم کرتا ہے امپورٹ زیادہ ۔ اس طرح چین سے ہماری تجارتی دوستی میں فائدہ کم نقصان زیادہ ہے جبکہ امریکہ سے فائدہ زیادہ نقصان کم ہے۔ اسی پس منظر میں یہ مسودۂ قانون جو وہاں کی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے منظور کیا ہے، تشویش پیدا کرتا ہے مگر ایسا نہیں کہ ٹرمپ اس بل پر دستخط کرہی دیں گے اور یہ نافذ ہوہی جائیگا اور اگر نافذ ہوگیا تو پورا ۱۰۰؍فیصد ٹیرف لگا دیا جائیگا۔ اس کے باوجود یہ بل تشویش کا باعث ہے کیونکہ اس کے ذریعہ ٹرمپ دھمکانا چاہتے ہیں۔ ہمارے خیال میں ٹرمپ اُس تجارتی معاہدہ پر نئی دہلی کو مجبور کرنا چاہتے ہیں جو اَب بھی نزاع کا شکار ہے اورشیطان کی آنت کی طرح لمبا ہوجانے والے ’’بالکل آخری مرحلے میں‘‘ ہے۔ اس کی دوسری وجہ برکس کا کامیاب انعقاد ہے۔ انہوں نے جب شی جن پنگ، پوتن اور پیزشکیان کی نئی دہلی میں خوش گپیوں کے بارے میں سنا ہوگا تو ان کا ماتھا ٹھنکا ہوگا۔ تیسری وجہ نومبر میں امریکہ کے ضمنی انتخابات ہوسکتے ہیں۔ جو بھی ہو اس کی وجہ سے ہمارے ملک میں تیل کے نرخ میں اضافہ ہوگا اور طے ہے کہ عوام کی آزمائش بڑھے گی۔