شرارتی ریاض گھڑی چور کو کیسے پکڑتا ہے؟ پڑھئے دلچسپ کہانی۔
EPAPER
Updated: September 19, 2026, 4:32 PM IST | Fayyaz Siddiqui | Mumbai
شرارتی ریاض گھڑی چور کو کیسے پکڑتا ہے؟ پڑھئے دلچسپ کہانی۔
ہمارے ابّا جان کے دوستوں میں ایک شخصیت میر صاحب کی بھی ہے۔ نام تو خدا جانے کیا ہے۔ ابّا جان ہی کو معلوم ہوگا۔ بہر حال میں واقف نہیں اور کیونکہ ابّا جان انہیں میر صاحب ہی کہتے ہیں اس لئے ہم بھی ان کی تائید کرتے ہیں۔ میر صاحب بے چارے بہت ہی شریف اور باشرع آدمی ہیں۔ ہمارے مکان سے ملا ہوا ہی ان کا بھی مکان ہے۔ کافی عرصے سے ایک ساتھ رہتے چلے آرہے ہیں اس لئے آپس میں میل ملاقات بھی کافی ہے۔
میر صاحب ویسے بھی صاحب ذوق آدمی ہیں اس لئے ابّا جان اور ان میں خوب گاڑھی چھنتی ہے۔ عموماً شام کا وقت دونوں اکٹھے ہی گزارتے ہیں اور وہ باتیں ہوتی ہیں کہ خدا کی پناہ.... ہمیں تو ان سے اور کوئی شکایت نہیں لیکن روز وہ ہمارے یہاں آکر برا جمان ہوتے ہیں تو بڑی کوفت ہوتی ہے۔ انہیں پانوں کا بہت شوق ہے اسی وجہ سے ہر وقت ان کا منہ لال رہتا ہے۔ اور ان کا یہ شوق پورا کرنے کے لئے ہر پندرہ میں منٹ ابّا جان حکم صادر فرماتے:
’’میاں! دو تین پان تو بنوا لاؤ.... اپنے میر صاحب کے لئے۔‘‘ ہماری طبیعت ہی تو جل جاتی مگر.... دراصل بات یہ ہے کہ میر صاحب کی اس نزاکت پسندی سے ہمیں سخت نفرت تھی یعنی وہ زیادہ دیر کے بنے ہوئے پان نہیں کھاتے بلکہ جب بھی وہ کھاتے ان کیلئے تازہ پان بنایا جاتا۔ ان کی اس عادت کی وجہ سے ہمیں ان کا پابند ہو جانا پڑتا تھا اور یہ ہمارے بس کا روگ نہیں.... میر صاحب بہت ہی ہنس مکھ اور خوش اخلاق ہیں.... میرا مطلب ہے کہ اس عمر میں عموماً لوگوں میں جو خشکی ہوتی ہے یعنی اپنی بات کے آگے دوسروں کی سنتے ہی نہیں.... زیادہ تر وقت باتوں ہی میں گزرتا اور وہ بھی پرانے زمانے کی.... میر صاحب کو اور بھی بہت چیزوں سے دلچسپی ہے۔ شعر و شاعری سے بھی کافی لگاؤ.... اور ہاں! شطرنج بھی خوب کھیلتے ہیں مگر جس روز کھیلنے بیٹھ جائیں تو رات کے بارہ تو یقینی بج جاتے ہیں۔ غرض میر صاحب بہت ہی زندہ دل شخصیت کے مالک ہیں....
گزشتہ دنوں کی بات ہے کہ شہر سے ماموں جان آئے ہوتے تھے ان کے ساتھ ان کا چھ سات سال کا اکلوتا بیٹا بھی تھا.... لڑکا کیا تھا اچھا خاصا آفت کا پرکالہ تھا۔ شرارت اور اودھم بازی تو اس کی نس نس میں بسی ہوئی تھی.... مجھے جتنی ہی صفائی پسند.... وہ اتنا ہی بیزار.... جس روز سے آیا تھا میرے کمرے کو کباڑ خانہ بنا کر رکھ دیا تھا۔ ہم خود کچھ کہہ نہیں سکتے کیونکہ وہ فوراً ہی ٹسوے بہانہ شروع کر دیتے۔ اگر امّی سے شکایت کریں تو وہ اُلٹا ہمیں ہی ڈانٹیں.... اور اگر ہم اس کی شرارتوں کا ذکر کریں تو....
’’وہ تو ابھی بچّہ ہے!‘‘
اور امّی کے اس جملہ سے سارے تن بدن میں آگ ہی تو لگ جاتی۔
قصہ مختصر.... انہی دنوں ابّا جان کی گھڑی الماری سے غائب ہوگئی۔ لاکھ ڈھونڈا مگر نہ ملنی تھی نہ ملی۔ مجھے شک تھا بلکہ مَیں وثوق سے کہنے کے لئے تیار تھا کہ ہو نہ ہو یہ اس شیطان کی حرکت ہے۔ سارا دن اودھم مچاتا رہتا ہے۔ کبھی یہ چیز اُٹھا کبھی وہ پھینک.... گھڑی نکال کر اس نے اِدھر اُدھر ڈال دی ہے کہیں۔
اسی طرح ایک ہفتہ گزر گیا لیکن گھڑی کا کوئی سراغ نہ ملا.... ایک روز مَیں اپنے کمرے میں بیٹھا ہوا اسکول کا کام کر رہا تھا کہ ریاض میاں (یہ ہی ان کا نام ہے) دوڑتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئے: ’’بھائی جان.... بھائی جان....!‘‘
’’ہوں!‘‘ مَیں نے بہت بے پروائی سے پوچھا۔ ’’بھائی جان! ایک ضروری بات ہے.... ‘‘ وہ بہت سنجیدگی سے بولا۔
’’ہاں .... ہاں.... کہو بھی...!‘‘ مَیں بہت ہی خشک لہجے میں بولا۔
’’وہ.... بھائی جان....!‘‘
’’کہہ بھی چکھو اب۔ کیا بھائی جان، بھائی جان کی رٹ لگا رکھی ہے؟‘‘ مَیں نے غصے سے کہا۔
اس ریاض کی عادت ہی کچھ اس قسم کی تھی۔ خود تو نچلا بیٹھتا نہیں تھا، ساتھ ہی دوسروں کو بھی تنگ کرتا۔ مَیں نے خیال کیا کہ ہو نہ ہو یہ صاحب اب کوئی فرمائش کرنے والے ہیں۔ جبھی تو اتنی فرشتوں جیسی صورت بنائے ہوئے ہیں۔ بھائی جان ہمیں سیر کرا لاہئے یا سنیما دکھا لایئے وغیرہ وغیرہ لیکن مَیں اس وقت قطعاً اس کے لئے تیار نہ تھا کیونکہ اسکول سے ہوم ورک کافی ملا تھا.... میرے اس غصے سے ان کی زبان تو بند ہوگئی۔ لیکن ناہیں برابر میرے چہرے پر جمی رہیں.... اس پر مَیں اور بھی جھنجھلا گیا۔
’’آخر.... کیا بات ہے؟‘‘
’’جی.... بھائی جان.... وہ گھڑی....‘‘ اُن کے ہونٹ آہستہ سے ہلے۔
’’کیا.... گھڑی مل گئی کیا؟‘‘ میرے منہ سے بے ساختہ نکل گیا۔ ’’نہیں تو.... لیکن..... وہ....‘‘
’’تو پھر۔‘‘ مَیں نے ان کی بات مکمل نہ ہونے دی، ’’ کچھ کہو گے بھی یا یوں ہی وقت ضائع کرتے رہو گے۔ دیکھتے نہیں مَیں کام کر رہا ہوں۔‘‘ ’’وہ.... وہ.... چور....!‘‘ ان کے منہ سے آواز نکلی۔
’’کیا مطلب؟‘‘
’’جی.... وہ چور پکڑ لیا ہے مَیں نے جس کے پاس گھڑی ہے۔‘‘ وہ جلدی سے بولا۔
’’تم نے.... لیکن کہاں ہے؟‘‘
’’جی، وہ ابّا جان کے پاس بیٹھا ہوا ہے....!‘‘ ’’یعنی.... ابّا جان اُسے پکڑے ہوئے ہیں؟‘‘ ’’نہیں تو.... وہ خود ہی ان کے پاس بیٹھا ہوا ہے۔‘‘ مَیں حیرت و تعجب کے مارے ایک دم کھڑا ہوگیا.... اور جلدی بھاگا.... ریاض میاں میرے پیچھے دوڑے۔
کمرے میں سوائے ابّا جان اور میر صاحب کے کوئی تیسرا شخص نہ تھا.... اس وقت مارے غصے کے میرا چہرہ سرخ ہوگیا۔ جی چاہا کہ اس شیطان کا منہ نوچ لوں.... ہر وقت فضول باتوں میں میرا وقت ضائع کرتا ہے.... مَیں نے نظریں گھما کر ریاض کی طرف دیکھا جو میر صاحب کے بالکل نزدیک پہنچ چکا تھا۔
ابّا جان اور میر صاحب ہمارے اس غیر متوقع اور پھر عجیب بے دھنگے طریقے سے کمرے میں داخل ہونے پر ہمیں گھور رہے تھے اور اس سے پیشتر کہ وہ کچھ بولیں ریاض میاں نے جلدی سے میر صاحب کے چہرے کی طرف ہاتھ بڑھایا اور ان کی کھچڑی داڑھی میں سے ایک چھوٹا سا تنکا جو شاید کسی وقت بے خیالی میں اٹک گیا تھا.... نکال کر میر صاحب کی آنکھوں کے سامنے نچاتے ہوئے بولے، ’’چور کی داڑھی میں تنکا....!‘‘
اور پھر بے ساختہ میرے منہ سے قہقہہ اُبل پڑا لیکن ابّا جان کی کرخت آو از فوراً ہی میری ہنسی پر غالب آگئی۔ وہ گرج رہے تھے۔
’’نالائق.... بدتمیز.... شرم نہیں آتی تجھے.... بڑوں سے مذاق کرتے ہوئے.... مارتے مارتے چمڑی اُدھیڑ دوں گا تیری....‘‘
ریاض میاں پہلے تو کچھ عجیب ہی انداز سے حیرت سے ابّا جان کے چہرے کو گھورتے رہے جہاں اس وقت قہر و غضب اپنے عروج پر تھا۔ پھر بڑی معصومیت سے بولے ’’لیکن جس روز آپ کی گھڑی کھو گئی تھی تو آپ نے رحیمو نوکر کو دھمکی دی تھی کہ اگر گھڑی نہ ملی تو تجھے جیل بھجوا دوں گا.... اور جب اس نے اس پر بھی نہ قبولا تو آپ ہی نے تو کہا تھا کہ ’’چور کی داڑھی میں تنکا ہوتا ہے .... کسی روز خود ہی معلوم ہو جائے گا....‘‘
اور پھر کمرے میں ایک قہقہے کا ایٹم بم پھٹ پڑا جس کی زور دار آواز بہت دیر تک کمرے میں گونجتی رہی۔