Inquilab Logo

غیر ملکی طلبہ کی یہ ۱۲؍ خوبیاں آپ کو بھی بنا دیں گی قابلِ رشک طالب علم

Updated: July 06, 2024, 4:40 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

سویڈن، فن لینڈ، ڈنمارک، جرمنی اور کنیڈا، اِن ۵؍ ممالک کا تعلیمی نظام سب سے اچھا تسلیم کیا جاتا ہے، اس مضمون میں ان ممالک کے طلبہ میں پائی جانے والی چند اہم خوبیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

Photo: INN
تصویر : آئی این این

یو ایس نیوز اینڈ ورلڈ رپورٹ نے حال ہی میں بہترین تعلیمی نظام والے ممالک کی فہرست جاری کی ہے جس میں سویڈن سر فہرست ہے۔ اس کے بعد فن لینڈ، ڈنمارک، جرمنی اور کنیڈا کا نمبر آتا ہے۔ یہ ۵؍ ممالک تعلیمی محاذ پر اس لئے بھی مستحکم ہیں کہ یہاں کی حکومتیں تعلیمی اداروں اور طلبہ کیلئے مختلف اسکیمیں لانچ کرتی رہتی ہیں، اور سبھی طلبہ کو یکساں مواقع مہیا کروائے جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں، یہاں کے طلبہ بعض ایسی خوبیوں کے حامل ہوتے ہیں جو دنیا کے دیگر ممالک کے طلبہ میں کم کم ہی نظر آتی ہیں۔ خیال رہے کہ ہر طالب علم کیلئے ضروری ہے کہ وہ اسے ملنے والی سہولیات اور مواقع کا پورا پورا فائدہ اٹھانے کیلئے کوشاں رہے۔ آپ چاہیں کسی بھی ملک میں تعلیم حاصل کررہے ہوں، ایک طالب علم کے طور پر آپ کو چاہئے کہ وہاں دستیاب سہولیات سے مکمل استفادہ کیا جائے، اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب آپ مختلف خوبیوں کے حامل ہوں گے۔

ایک طالب علم میں یہ خوبیاں کیوں ہونی چاہئیں:
(۱) متجسس فطرت
طالب علم متجسس طبیعت کا مالک ہونا چاہئے۔ جب کوئی چیز سکھائی جائے تو اسے بغور سنے اور پھر اس پر عمل کرنے کی کوشش کرے۔ اس چیز کے بارے میں مزید تحقیق کرے۔ اپنے آپ سے سوال پوچھے اور پھر ان کے جوابات تلاش کرے۔ متجسس طبیعت ہونے کے سبب غیر ملکی طلبہ اپنے طور پر بہت سے کام انجام دیتے ہیں جن سے ان کا ذہن تیز ہوتا ہے۔ 

(۲) سوال پوچھنے کی عادت
کچھ سمجھ نہ آنے کی صورت میں یا کسی چیز کے متعلق سوال کرنے سے کبھی نہ گھبرائیں۔ اپنے بڑوں اور اساتذہ سے سوال پوچھئے۔ یاد رہے کہ کوئی بھی سوال غیر اہم نہیں ہوتا۔ جتنے سوال پوچھیں گے، آپ کو اتنے زیادہ جوابات ملیں گے اور آپ کی معلومات میں اضافہ ہوگا۔

(۳) زبانوں پر عبور
ہمارے اسکولوں میں متعدد زبانیں سکھائی جاتی ہیں لیکن کئی تحقیقات میں یہ واضح ہوا ہے کہ اسکول ختم ہوجانے کے بعد طلبہ کسی ۲؍ یا ایک ہی زبان پر عبور رکھنے کے قابل ہوتے ہیں۔ غیر ملکی طلبہ جو زبانیں سیکھتے ہیں، انہیں تاعمر یاد رکھنے کیلئے مختلف تدابیر اپناتے ہیں۔ آپ کو بھی چاہئے کہ اسکولوں میں پڑھائی جانے والی زبانوں جیسے ہندی، اردو، انگریزی، مراٹھی، عربی یا فارسی اچھی طرح سیکھیں اور اسکول ختم ہوجانے کے بعد بھی ان زبانوں سے تعلق قائم رکھیں۔

(۴) اعتماد
ہمارے طلبہ میں اعتماد کی کمی ہوتی ہے جس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں مگر یاد رہے کہ اعتماد کی کمی آپ کو آگے بڑھنے اور ترقی کرنے سے روکتی ہے۔ آپ کی ذہنی اور جسمانی نشوونما پر اثر انداز ہوتی ہے۔ طلبہ کا پُر اعتماد ہونا ضروری ہے تاکہ ان کی ہمہ جہت ترقی ہو۔ خود اعتمادی آپ کو طاقت فراہم کرتی ہے۔

(۵) تحقیق کی صلاحیت
اسکول میں جو پڑھایا جاتا ہو، صرف اسی پر اکتفا کرنے کے بجائے بہتر ہوگا کہ طلبہ اپنے طور پر بھی تحقیق کریں۔ اس موضوع پر کتابیں تلاش کریں، انٹرنیٹ کا سہارا لیں اور اپنی معلومات میں اضافہ کریں۔ اس طرح آپ دیگر طلبہ سے ہمیشہ آگے رہیں گے۔

(۶) تنقیدی مطالعہ
اسے انگریزی میں ’’کریٹیکل ریڈنگ‘‘ کہتے ہیں یعنی کسی کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے اپنی تنقیدی سوچ کو ’’آن‘‘ رکھنا۔ اس طریقے کا فائدہ یہ ہے کہ مطالعہ کے دوران ذہنی یکسوئی رہے گی، اہم نکات کو قلمبند کیا جاسکے گا اور کتاب کا مطالعہ مکمل ہونے کے بعد آپ درست طریقے سے اس کا تجزیہ کرپائیں گے۔

(۷) غور وفکر کی عادت
غیر ملکی طلبہ میں غور وفکر کی عادت زیادہ ہوتی ہے۔ وہ کسی بھی چیز کو یونہی نہیں مان لیتے بلکہ اس پر غور وفکر کرتے ہیں، اس موضوع پر دستیاب مختلف مشمولات کا مطالعہ کرتے ہیں، اس کے متعلق تعلیمی ویڈیوز دیکھتے ہیں، اور اپنے طور پر کسی فیصلے پر پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ وہ جو نتیجہ اخذ کرتے ہیں اس کے متعلق گھر کے بڑوں یا اساتذہ سے گفتگو کرتے ہیں تاکہ اسے درست نتیجہ برآمد کیا جاسکے اور ان کی غور وفکر اور تحقیق بامعنی ہوسکے۔

(۸) لائبریری میں ایک گھنٹہ
اسکول کے اوقات کے بعد غیر ملکی طلبہ میں چند گھنٹے اسکول لائبریری میں گزارنا عام بات ہے۔یہاں وہ پڑھائی کرنے کے علاوہ تحقیق کی غرض سے دیگر کتابوں کا بھی مطالعہ کرتے ہیں۔ یہی نہیں، اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کیلئے مختلف قسم کے تخلیقی کام بھی کرتے ہیں، مثلاً، مضامین، کہانیاں یا نظمیں لکھنا، یا ڈرائنگ کرافٹ وغیرہ بنانا۔ لائبریری میں جاکر چند گھنٹے کتابوں کے درمیان گزارنا ان کی عادت ہے، پھر وہ نصابی کتابوں کا مطالعہ کریں یا غیر نصابی کتابوں کا۔ ہمارے طلبہ کو بھی چاہئے کہ وہ اسکول ختم ہونے کے بعد کم سے کم ۳۰؍ منٹ لائبریری میں گزاریں۔

(۹) ٹائم مینجمنٹ
طالب علمی کی زندگی میں یہ سب سے اہم ہے۔ ہر طالب علم میں یہ خوبی ہونی چاہئے، یعنی اسے وقت کا درست استعمال کرنا آنا چاہئے۔ جس طرح اسکول کا ٹائم ٹیبل ہوتا ہے، ٹھیک اسی طرح آپ کا ذاتی ٹائم ٹیبل بھی ہونا چاہئے۔ طالب علم کے پاس دن بھر میں ۲۴؍ گھنٹے ہوتے ہیں، ان گھنٹوں کا درست طریقے سے استعمال کرنا اسے آنا چاہئے۔ خیال رہے کہ آپ کیلئے ہر منٹ قیمتی ہوتا ہے اس لئے اسے کسی پیداواری کام یا اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے میں صرف کریں۔

(۱۰) غیر نصابی کتابوں کا مطالعہ
متعدد تحقیقات میں یہ ثابت ہوا ہے کہ نصاب کے ساتھ غیر نصابی کتابوں کے مطالعہ سے ذہنی افق وسیع ہوتا ہے۔ اس طرح آپ بیک وقت مختلف معلومات کو اپنے ذہن میں جمع کرتے ہیں۔ اس سے دماغ مضبوط ہوتا ہے اورآپ کے پاس زیادہ معلومات ہوتی ہے۔

(۱۱) وقت کی پابندی
وہ طالب علم دیگر طلبہ اور اساتذہ میں مقبول ہوتا ہے جو اپنا ہر کام وقت پر مکمل کرلیتا ہے۔ اگر اسکولی اور ذاتی ٹائم ٹیبل کی بنیاد پر آپ ہر کام وقت پر مکمل کرنے کی کوشش کریں تو آپ کے پاس اضافی وقت بچے گا جس میں آپ مختلف قسم کے تخلیقی کام کرسکتے ہیں۔

(۱۲) پی کیو آر ایس ٹی
غیر ملکی طلبہ کو یہ تکنیک ابتدائی جماعتوں ہی میں سکھائی جاتی ہے۔ یہ کسی بھی جواب کو یاد کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ اس کا فل فارم ہے:
Preview, Question, Read, Summary, Test
پہلے مرحلے یعنی ’’پریویو‘‘ میںجواب کو ایک بار اچھی طرح دیکھ لیجئے۔ اسے ذہن نشین کیجئے مگر یہ عمل ۱۰؍ منٹ میں مکمل کیجئے۔ دوسرے مرحلے یعنی ’’کوئسچین‘‘ میں، اس موضوع پر کس قسم کے سوالات پوچھے جاسکتے ہیں، انہیں لکھ لیجئے۔ اب تیسرے مرحلے یعنی ’’ریڈ‘‘ میں جوابات پر ایک بار پھر نظر ڈالئے۔ چوتھے مرحلے یعنی ’’سمری‘‘ میں اس موضوع کا خلاصہ اپنے طور پر لکھئے۔اب آتا ہے آخری مرحلہ یعنی ’’ٹیسٹ۔‘‘ آپ نے جو سوالات لکھے تھے انہیں حل کیجئے۔
واضح رہے کہ طلبہ ان خوبیوں کو اپنا کر مثالی طالب علم بن سکتے ہیں۔ انہیں اپنانا مشکل نہیں ہے۔ تھوڑی سی توجہ اور محنت سے آپ میں یہ خوبیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔ شرط محنت اور مستقل مزاجی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK