Inquilab Logo Happiest Places to Work

برطانیہ: تشار کمار سب سے کم عمر ہندوستانی نژاد میئر بنے

Updated: May 20, 2026, 2:20 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

کنگز کالج سے تشار سیاسیات میں بی ایس سی کرچکے اور اب پولیٹکل اکنامی میں ماسٹرزکی تیاری کررہے ہیں۔

Tushar.Photo:INN
تشار۔ تصویر:آئی این این
برطانیہ کے ایلسٹری اینڈ بورہمووڈ ٹاؤن کاؤنسل کے میئر الیکشن میں ہندنژاد نوجوان تشار کمار نے کامیابی حاصل کی  ہے۔۲۳؍سالہ تشار کمار اس برطانوی شہر کے میئر منتخب ہو گئے ہیں۔اس کامیابی کے ساتھ ہی وہ برطانیہ میں ہندوستانی نژاد سب سے کم عمر میئر بن گئے ہیں۔ اتنی کم عمر میں اتنا بڑا عہدہ حاصل کرنا ان کی محنت، لگن اور خود اعتمادی کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کی یہ کامیابی ہر ہندوستانی کے لیے فخر کی بات ہے اور یہ ثابت کرتی ہے کہ اگر حوصلہ مضبوط ہو تو کوئی بھی خواب پورا کیا جا سکتا ہے۔
تشار کمار کی جیت کسی فلمی کہانی سے کم نہیں۔ انہوں نے لیبر پارٹی  کے امیدوار کے طور پر الیکشن لڑا اور مجموعی طور پر۸۳۲؍ ووٹ حاصل کئے۔ اصل حیرت اس وقت ہوئی جب سخت مقابلے میں انہوں نے کنزرویٹیو پارٹی کے امیدوار کو صرف ایک ووٹ کے فرق سے شکست دے دی۔ دوبارہ ووٹوں کی گنتی کے بعد یہ نتیجہ مزید تاریخی بن گیا، کیونکہ جس نشست پر تقریباً۳۰؍ سال سے کنزرویٹیو پارٹی کا غلبہ تھا، وہاں اب ایک نیا چہرہ کامیاب ہو کر سامنے آیا۔
تشار کمار کا سیاسی سفر بہت تیزی سے آگے بڑھا ہے۔ ۲۰۲۳ء میں، جب وہ صرف۲۰؍ سال کے تھے اورکنگز کالج لندن میں تعلیم حاصل کر رہے تھے، تب انہوں نے پہلی بار کونسلر بن کر سیاست میں قدم رکھا۔ صرف تین سال کے اندر ہی انہوں نے میئر کے عہدے تک پہنچ کر ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔تشار نے  سیاسیات میں بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی ہے اور اب وہ یونیورسٹی کالج لندن میں پولیٹکل اکنامی میں ماسٹرز کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ وہ ایک طرف اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں اور دوسری طرف عوامی ذمہ داریوں کو بھی پوری سنجیدگی اور فعالیت کے ساتھ نبھا رہے ہیں۔تشار کی کامیابی میں ان کی والدہ پروین رانی کا اہم کردار مانا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی والدہ بھی ہیریٹسمیر کاؤنسل سے الیکشن جیت چکی ہیں اور بعد میں ڈپٹی میئر بھی بنی تھیں۔یہ خاندان سیاست سے زیادہ تعلیم اور سماجی خدمت سے وابستہ رہا ہے، اور یہی سوچ ان کی ترقی کا سبب بنی۔تشار کا تعلق اصل میں ہریانہ کے ضلع روہتک سے ہے۔ وہ۱۰؍ سال کی عمر تک ہندوستان میں رہے اور پھر اپنے والدین کے ساتھ برطانیہ منتقل ہو گئے۔ آج بھی وہ  ہندوستان سے گہرا تعلق رکھتے ہیں اور وقتاً فوقتاً یہاں آ کر اسکولوں اور کالجوں میں نوجوانوں کو حوصلہ دیتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق تشار کمار مقامی کمیونٹی، فلاحی اداروں اور سماجی پروگراموں میں بھی سرگرم رہتے ہیں اور لوگوں کے ساتھ مسلسل جڑے رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہند نژاد رشی سونک کو برطانیہ کا وزیر اعظم بنتے دیکھ کر انہیں سیاست کے میدان میں آنے کی تحریک ملی، اور وہ چاہتے ہیں کہ نوجوان بھی سیاست اور سماجی خدمت میں آگے آئیں۔تشار کمار کی یہ کہانی صرف ایک انتخابی کامیابی نہیں بلکہ محنت، لگن اور خود اعتمادی کی ایک مثال ہے۔ یہ ثابت کرتی ہے کہ اگر خواب بڑے ہوں اور محنت سچی ہو تو عمر کبھی رکاوٹ نہیں بنتی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK