Inquilab Logo Happiest Places to Work

ملازمت انٹرویو میں امیدواروں سے سرزد ہونیوالی عمومی غلطیاں

Updated: May 20, 2026, 2:34 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

’ریڈ اِٹ‘ کے فورم پر شیئر کی گئی ایک ریکروٹر کے مشاہدے پر مبنی تحریر، جس میں دئیے گئے مشورے امیدواروں کے لئے جاب انٹرویو کو بہتر بناسکتے ہیں

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ایک ریکروٹر نے کئی سال تک جاب انٹرویوز لینے کے تجربے کی بنیاد پر بتایا کہ امیدوارحد سے زیادہ صاف گوئی کے سبب نوکری حاصل کرنے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں، جبکہ کمپنیاں دراصل پُراعتماد اور سمجھداری سے دیے گئے جواب سننا چاہتی ہیں۔’ریڈ اِٹ Reddit‘ کے ’ریکروٹنگ ہیل فورم‘ پر ’’تھنگز ریکروٹرز نو یُو آر لائنگ اباؤٹ(اینڈ ہونیسٹلی وی ایکسپیکٹ اِٹ)‘‘ کے عنوان سے کی گئی پوسٹ میں ریکروٹر نے لکھا کہ انٹرویو دراصل ایک ’سیلز کنورسیشن‘ کی طرح ہوتی ہے، جہاں امیدوار کو خود کو محتاط اور حکمت عملی کے ساتھ پیش کرنا چاہیے، نہ کہ ہر سوال پر بے لاگ انداز میں جواب دینا چاہئے۔

یہ بھی پڑھئے : برطانیہ: تشار کمار سب سے کم عمر ہندوستانی نژاد میئر بنے

’آرسلیش جاب سرچ ہیکس ‘نامی ریکروٹر کے مطابق سب سے بڑی غلطیوں میں سے ایک یہ ہے کہ امیدوار اپنی پچھلی نوکری چھوڑنے کی وجہ بتاتے وقت سابقہ باس یا خراب دفتری ماحول پر کھل کر تنقید شروع کر دیتے ہیں۔ ایسے جواب سن کر ریکروٹر کو خدشہ ہوتا ہے کہ شاید یہ شخص نئی جگہ پر بھی مسائل پیدا کرے گا۔اس کے بجائے، ریکروٹر نے مشورہ دیا کہ امیدوار اپنی سابقہ ملازمت چھوڑنے کی وجہ ترقی کے بہتر مواقع، نئی چیزیں سیکھنے یا زیادہ ذمہ داری حاصل کرنے کی خواہش کو بتائیں۔پوسٹ میں تنخواہ سے متعلق گفتگو پر بھی بات کی گئی۔ ریکروٹر نے لکھا کہ کمپنیاں اکثر امیدوار کی پچھلی تنخواہ اس لئے  پوچھتی ہیں تاکہ آئندہ تنخواہ کی پیشکش کم رکھی جا سکے، خاص طور پر ان افراد کے لئے  جنہیں پہلے ہی کم معاوضہ ملتا رہا ہو۔

ایک اور حصے میں انٹرویو کے عام سوال’’آپ خود کو پانچ سال بعد کہاں دیکھتے ہیں؟‘‘پر بات کی گئی۔ ریکروٹر کے مطابق کمپنیاں اس سوال کے ذریعے امیدوار میں استحکام اور ترقی کی خواہش دیکھنا چاہتی ہیں، چاہے امیدوار خود بھی اپنے مستقبل کے بارے میں مکمل یقین نہ رکھتا ہو۔

یہ بھی پڑھئے : ’’آپ کے کریئر کی شروعات اے آئی انقلاب کے ساتھ ہو رہی ہے‘‘

ریکروٹر نے یہ بھی کہا کہ بہت سے باصلاحیت امیدوار اپنی کامیابیوں کو کم کر کے بیان کرتے ہیں اور بڑی کامیابیوں کو صرف قسمت یا ٹیم ورک کا نتیجہ قرار دیتے ہیں، جبکہ کم تجربہ رکھنے والے لوگ زیادہ اعتماد کے ساتھ بات کرتے ہیں۔

انہوں نے لکھا،’’ریزیومے ایک مارکیٹنگ ٹول ہے، سوانح عمری نہیں۔ اس کا مقصد آپ کی زندگی کا ہر لمحہ بیان کرنا نہیں بلکہ صرف انٹرویو حاصل کرنا ہے۔‘‘

پوسٹ میں مزید کہا گیا کہ بھرتی کے عمل میں اکثر وہ لوگ کامیاب ہو جاتے ہیں جو خود کو مؤثر انداز میں پیش کرنا جانتے ہیں، نہ کہ وہ جو ہر چیز بالکل ویسے ہی بیان کرتے ہیں جیسے وہ حقیقت میں ہوئی ہو۔

 ریکروٹر کے انٹرویو سے متعلق مشورے

یہ بھی پڑھئے : ۷؍آتش فشاں پہاڑ سر کرنیوالے نوجوان کاکارنامہ گنیز بک میں درج

انٹرویو کے دوران سابقہ مینیجرز یا کمپنی کے ماحول پر تنقید سے گریز کریں، چاہے تجربہ واقعی برا رہا ہو۔

پچھلی نوکری چھوڑنے کی وجہ ترقی، سیکھنے کے مواقع یا کریئر میں آگے بڑھنے کی خواہش کو بنائیں۔

سابقہ تنخواہ کے بارے میں بات کرتے وقت محتاط رہیں، کیونکہ کمپنیاں اکثر اسی بنیاد پر نئی پیشکش کم رکھتی ہیں۔

تنخواہ کی بات چیت میں اپنی موجودہ مارکیٹ ویلیو اور صلاحیتوں پر زور دیں۔

پانچ سالہ منصوبے والے سوال کو اپنی سنجیدگی اور عزائم دکھانے کا موقع سمجھیں۔

ایسے جواب نہ دیں جن سے لگے کہ آپ اس نوکری میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

اپنی کامیابیوں کو صرف قسمت یا ٹیم ورک کہہ کر کم نہ کریں۔

منصوبوں اور کامیابیوں میں اپنے کردار کو اعتماد کے ساتھ بیان کریں۔

ریزیومے کو ایک مارکیٹنگ دستاویز سمجھیں، مکمل زندگی کی کہانی نہیں۔ ریزیومے میں مہارت، واضح نتائج اور مضبوط پراجیکٹ تجربے پر توجہ دیں۔

اس پوسٹ پر سوشل میڈیا صارفین نے بھی دلچسپ ردعمل دیا۔ ایک صارف نے لکھا کہ ’’کیا لوگ واقعی انٹرویو میں ایسی باتیں کرتے ہیں؟ یہ تو پانچ منٹ کی گوگل سرچ سے بھی معلوم ہو جاتا ہے۔‘‘ ایک اور صارف نے بتایا،’’میرے ایک امیدوار سے پوچھا گیا کہ آپ کی سب سے بڑی کمزوری کیا ہے؟ اس نے جواب دیا: مجھے لوگ پسند نہیں ہیں۔’جبکہ نوکری کسٹمر سپورٹ کی تھی!‘‘تیسرے صارف نے مذاق کرتے ہوئے کہا،’’انہیں تو فوراً نوکری مل گئی ہوگی۔‘‘ایک اور صارف نے اعتراف کیا،’’مجھے انٹرویو میں خود کو کم ظاہر کرنے کی بری عادت ہے۔ بچپن سے یہی سکھایا گیا کہ اپنی تعریف کرنا بری بات ہے، اس لیے جب کوئی کامیابی میری اپنی بھی ہو تو میں اسے صرف ٹیم ورک کہہ دیتا ہوں۔‘‘ایک دیگر صارف نے لکھا،’’میں کسٹمر سپورٹ میں کام کرتا ہوں اور واقعی بعض اوقات گاہک بہت مشکل ہوتے ہیں۔ مجھے بھی لوگ پسند نہیں آتے، لیکن میں یہ بات کبھی اونچی آواز میں، خاص طور پر انٹرویو میں، نہیں کہوں گا۔‘‘

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK