یوں تو حق تعالیٰ کی ان گنت نعمتیں بارش کے قطروں کی طرح مسلسل برس رہی ہیںاور زمین پر آباد مخلوق اُن سے برابر مستفید ہورہی ہیں۔ اگر غور کیا جائے تو ہمارے سماج میں ’وقت‘ کے بعد جس نعمت کا سب سے زیادہ ضیاع دیکھنے میں آیا وہ ’رزق‘ ہے۔
EPAPER
Updated: May 20, 2026, 2:29 PM IST | Sayyeda Naushad Begum | Mumbai
یوں تو حق تعالیٰ کی ان گنت نعمتیں بارش کے قطروں کی طرح مسلسل برس رہی ہیںاور زمین پر آباد مخلوق اُن سے برابر مستفید ہورہی ہیں۔ اگر غور کیا جائے تو ہمارے سماج میں ’وقت‘ کے بعد جس نعمت کا سب سے زیادہ ضیاع دیکھنے میں آیا وہ ’رزق‘ ہے۔
مٹ جائے گی برکت گھر سے اگر رزق کو پھینک دیا
جس نے قدر نہ کی نعمت کی، اُس نے خود کو خسارے میں ڈال دیا
غذا کو ضائع نہ کرنا ایک اہم انسانی،اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری ہے۔ کیونکہ کھانے کی بربادی صرف رزق کی ناقدری نہیں بلکہ پیسہ، پانی اور توانائی کا ضیاع بھی ہے۔ بچا ہوا کھانا فریج میں رکھیں۔ جو سامان خریدنا ہے ، اس کی فہرست بنائیں اور ضرورت کے مطابق سامان خریدیں اور چھوٹے ٹکڑے بھی ضائع نہ کریں۔
کھانے کو ضائع ہونے سے بچانے کے اہم طریقوں کو ہم بروئے کار لاسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: تکیے پر پیلے داغ پڑ گئے ہوں، بدنما دکھائی دے تو ان طریقوں کو اپنائیں
* ذمہ دارانہ خریداری:شاپنگ پر جانے سے پہلے گھر میں موجود چیزوں کو ا چھی طرح سے چیک کریں اور صرف ضروری سامان کی فہرست بناکر اسے خریدیں۔
*بچا ہوا کھانا استعمال کریں: رات کے بچے ہوئے کھانے کواگلی صبح استعمال کریں یا اُسے سبزیوں کے شوربے میں تبدیل کرلیں۔
*مناسب اسٹوریج:فریج اور کچن میں کھانے کو صحیح درجۂ حرارت پر رکھیں تاکہ و ہ خراب نہ ہوں۔
*پلیٹ میں ضرورت کے مطابق لیں۔
*کھاتے وقت پلیٹ میں اتنا ہی ڈالیں جتنی بھوک ہو ،تاکہ کھانا ضائع نہ ہو۔
*تقریبات میں احتیاط: شادی بیاہ یا دعوتوں میں کھانے کی بربادی کو روکنے کے لئے مقدار پر قابو پائیے۔
رزق کی ناقدری محرومی کا باعث بنتی ہے اور قیامت کے دن اُس کا عذاب ہوسکتا ہے۔ اس لئے ہر ممکن کوشش کریں کہ کھانے کا ایک ذرہ بھی ضائع نہ ہو۔
یہ بھی پڑھئے: گرمیوں میں جسم کو پانی کی کمی سے بچانے والے قدرتی مشروبات
یوں تو حق تعالیٰ کی ان گنت نعمتیں بارش کے قطروں کی طرح مسلسل برس رہی ہیںاور زمین پر آباد مخلوق اُن سے برابر مستفید ہورہی ہیں۔ اگر غور کیا جائے تو ہمارے سماج میں ’وقت‘ کے بعد جس نعمت کا سب سے زیادہ ضیاع دیکھنے میں آیا وہ ’رزق‘ ہے۔
بر وقت غذا کا حاصل ہوجانا ایسی بے جا نعمت ہے جس سے دنیا کی تقریباً بیس فیصد آبادی محروم ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ رزق کی ناقدری اور کھانے کی بے حرمتی کے اس جرم مین غیر مسلم تو غیر مسلم مسلمانوں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے۔ رزق کی ناقدری کے باعث محرومی ہوتی ہے؎
کتنے ہی جو بھوکےسوتے ہیں اور تو ضائع کرتا ہے=کھا اتنا جتنا ضرورت ہو،کیوں رزق کو برباد کرتا ہے
غذائی قلت اور اسراف کے خلاف یہ باتیں ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ کھانے کو ضائع ہونے سے بچانا اور اُسے ضرورت مندوں تک پہنچانا ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے۔ غذا کی قدر کرنا لازمی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: تربیت جتنی اچھی ہوگی، طلبہ کی شخصیت اتنا نکھرے گی
ضائع ہونے والا کھانا کسی بھوکے انسان کی بھوک پوری کرسکتا ہے۔ اور پھینک دینے سے بہتر تو یہ ہے کہ جتنے کی ضرورت ہو اُتنا ہی پکایا جائے۔حال ہی میں چند شہروں میں کمیونٹی فریج کا رواج چل پڑا ہے، کالونی یا عمارت کی ایک جانب بڑا سا فریج رکھ دیاگیا ہے۔ جو بھی غذا بچ جاتی ہے لوگ اُس میں لاکر رکھ دیتے ہیں اور وہیں سے غریب اپنی ضرورت کے مطابق غذا استعمال کے لئے لے جاتے ہیں۔اناج کو ضائع ہونے سے بچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔