حد سے زیادہ خوداعتمادی، سماجی وقار کا جال، اور ۵؍ نشانیاں کہ اب راستہ بدلنے کا وقت آ گیا ہے۔
کریئر۔ تصویر:آئی این این
آپ کو اپنے اسکول کا وہ فرسٹ بینچ پر بیٹھنے والا طالبعلم یاد ہوگا۔ پڑھائی میں غیر معمولی ذہین، جس سے سب کو بڑی امیدیں وابستہ تھیں۔ وہ جو ہمیشہ کلاس میں اول آتا تھا، مشکل امتحانات میں کامیاب ہوتا تھا اور بہترین ملازمت بھی پالیتا ہے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ وہ خاموش ہو گیا، اس کی ترقی رک گئی۔ نہ اسے نوکری سے نکالا گیا، نہ وہ کسی نمایاں ناکامی کا شکار ہوا، بس وہیں کا وہیں رہ گیا۔ دوسری طرف وہ اوسط درجے کا یا آخری بینچ پر بیٹھنے والا طالب علم، جس سے کسی نے بڑی توقعات نہیں رکھی تھیں، ایک کم مشہور شعبے میں مسلسل آگے بڑھتا رہا اور کامیابیاں سمیٹتا گیا۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اگر ذہانت اتنی بڑی طاقت ہے تو پھر بعض اسمارٹ لوگ غلط کریئر میں کیوں پھنس جاتے ہیں؟
طاقتور انجن، مگر ڈرائیور نہیں
ذہانت یقیناً فائدہ مند ہے۔ آپ دوسروں کے مقابلے میں معلومات تیزی سے سیکھتے ہیں، مختلف آپشنز کا بہتر موازنہ کرتے ہیں اور مضبوط دلائل پیش کر سکتے ہیں۔ یہ تمام صلاحیتیں تعلیمی زندگی میں بے حد مفید ہیں۔اسے یوں سمجھیں کہ آپ کے پاس ایک طاقتور انجن والی گاڑی ہے جو دوسروں کی گاڑی سے زیادہ تیز چل سکتی ہے۔ لیکن طاقتور انجن اس بات کی ضمانت نہیں کہ آپ صحیح سمت کا انتخاب بھی کریں گے یا بہتر ڈرائیور ثابت ہوں گے۔ تیز ذہن آپ کو صنعتوں، تنخواہوں اور مستقبل کے امکانات کا جائزہ لینے میں مدد دیتا ہے، مگر یہ ضروری نہیں کہ وہ آپ کو یہ بھی بتا سکے کہ کون سا کام آپ کی شخصیت کے مطابق ہے، اس کے نقصانات کیا ہیں یا صحیح وقت کیا ہے۔ کسی ملازمت کی اصل حقیقت صرف جاب ڈسکرپشن پڑھ کر نہیں سمجھی جا سکتی، نہ ہی ایک انٹرویو سے مینیجر کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، اور نہ ہی کسی کمپنی کے کلچر کو آن لائن تبصروں سے جانچا جا سکتا ہے۔ بہتر ڈرائیور بننے کیلئے سڑک پر گاڑی چلانا پڑتی ہے، صرف طاقتور انجن کافی نہیں ہوتا۔
حد سے زیادہ خوداعتمادی
ذہین افراد اکثر حد سے زیادہ خوداعتماد ہو جاتے ہیں، اور یہی ان کی سب سے بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔بچپن سے انہیں بتایا جاتا ہے کہ وہ غیر معمولی ہیں۔ والدین، اساتذہ اور امتحانی نتائج ان میں یہ یقین پیدا کرتے ہیں کہ وہ دوسروں سے بہتر سمجھتے ہیں۔ چنانچہ جب وہ عملی دنیا میں قدم رکھتے ہیں تو اپنی رائے پر حد سے زیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ۲۲؍ سال کا نوجوان محض چند سال کے تعلیمی تجربے کی بنیاد پر۳۰؍ سالہ کریئر کا فیصلہ کر رہا ہوتا ہے۔
بے شمار مواقع کا جال
تعلیمی طور پر کامیاب افراد کو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ مواقع ملتے ہیں۔ بہتر کالج، زیادہ جاب آفرز اور متعدد راستے۔ بظاہر یہ ایک فائدہ معلوم ہوتا ہے، لیکن اکثر یہی چیز ایک جال بن جاتی ہے۔ جب ہر راستہ کھلا ہو تو کسی ایک راستے کا سوچ سمجھ کر انتخاب کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔واضح مقصد نہ ہونے کی صورت میں لوگ وقار اور سماجی حیثیت کے پیچھے بھاگنے لگتے ہیں۔ وہ ایسے ادارے یا ملازمتیں چنتے ہیں جو دوسروں کے سامنے متاثر کن لگیں یا جن کی ابتدائی تنخواہ زیادہ ہو۔ لیکن سماجی حیثیت کبھی بھی اچھا کریئر منصوبہ نہیں ہوتی۔ یہ صرف دوسروں کو متاثر کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔
کریئر بدلنے کیلئے۵؍ نشانیاں
(۱)ہر اتوار شام آپ کو پیر کے دن دفتر جانے کا خیال بے حد پریشان کرتا ہے۔ آپ کو کسی مشکل منصوبے سے نہیں بلکہ خود دفتر جانے سے خوف محسوس ہوتا ہے۔ عارضی بے آرامی معمول کی بات ہے، مگر مسلسل ذہنی دباؤ ایک اہم اشارہ ہے۔
(۲) اچھے کریئر میں تھکن تو ہوتی ہے، لیکن اس کے ساتھ اطمینان، سیکھنے کا احساس یا توانائی بھی ملتی ہے۔ اگر آپ کا کام آپ کو مسلسل ذہنی اور جذباتی طور پر خالی کر رہا ہے اور بدلے میں کچھ نہیں دے رہا تو یہ سنجیدہ اشارہ ہے۔
(۳) دوسروں سے حسد۔اگر آپ بار بار ایسے لوگوں کو دیکھ کر متاثر ہوتے ہیں جو بالکل مختلف کام کر رہے ہیں اور آپ کو ان کی زندگی یا کام کرنے کا انداز پسند آتا ہے، تو شاید آپ کا ذہن آپ کو کسی اور سمت کی طرف اشارہ دے رہا ہے۔
(۴) گھر میں آپ خوش مزاج ہیں، دوستوں میں متحرک اور ذاتی منصوبوں میں پُرجوش، لیکن دفتر میں آپ خود کو ایک مختلف اور کمزور شکل میں محسوس کرتے ہیں۔ اگر آپ کی اصل شخصیت اور دفتر میں نظر آنے والی شخصیت کے درمیان بہت بڑا فرق آ گیا ہے تو مسئلہ شاید آپ میں نہیں بلکہ آپ کے کریئر میں ہے۔
(۵) آپ کو اچھی تنخواہ، ترقی اور تعریف مل رہی ہے، لیکن پھر بھی خوشی محسوس نہیں ہوتی۔اگر آپ اگلے پانچ سال خود کو یہی کام کرتے ہوئے سوچتے ہیں اور گھٹن محسوس کرتے ہیں تو یہ خطرے کی گھنٹی ہے۔ صلاحیت کے باوجود ترقی اور سیکھنے کا عمل رک جانا کیریئر کے زوال کی علامت ہے۔
زیادہ ذہین افراد اکثر فیصلہ کرنے کے بجائے مسلسل سوچتے رہتے ہیں۔وہ مختلف امکانات پر غور کرتے ہیں، ذہن میں نتائج کا تصور کرتے ہیں اور ہر انتخاب کے بارے میں پیچیدہ کہانیاں بناتے رہتے ہیں۔ اس دوران دنیا آگے بڑھ جاتی ہے۔ دوسرے لوگ فیصلے کرتے ہیں، غلطیاں کرتے ہیں، سیکھتے ہیں اور اپنی راہ تلاش کر لیتے ہیں۔ تو پھر صحیح راستہ کیا ہے؟اس کیلئے خود سے تین سوال پوچھیں: آپ کس کام میں اچھے ہیں؟، آپ کس کام سے لطف اندوز ہوتے ہیں؟،آنے والے برسوں میں مارکیٹ کس کام کی قیمت ادا کرے گی؟اس کے بعد اپنی موجودہ ملازمت کا جائزہ لیں:آپ روزانہ حقیقت میں کیا کرتے ہیں؟ اس کام کے لیے کون سی صلاحیتیں درکار ہیں؟ اس کیلئے آپ کو کیا قربانیاں دینی پڑتی ہیں؟پھر اپنے جوابات کو عملی طور پر آزمائیں۔ انٹرن شپ کریں اورتجربہ کار افراد سے مشورہ کریں۔