• Fri, 16 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

شکر کو’چینی‘ کہتے ہیں، کیوں؟

Updated: January 16, 2026, 6:39 PM IST | Mumbai

زبان میں کسی شے کا نام بدل جانا محض اتفاق نہیں ہوتا بلکہ تاریخ، تجارت ، تہذیب اور لسانی ارتقا کے گہرے عوامل کا نتیجہ ہوتا ہے۔

The word "Chini" for sugar was used because of its historical association. Photo: INN
شکر کیلئے لفظ ’’چینی‘‘ اس کی تاریخی نسبت کی وجہ سے استعمال ہوا۔ تصویر: آئی این این

شکر انسانی تہذیب کی قدیم ترین غذائی اشیاء میں شمار ہوتی ہے اور تقریباً ہر زبان اور ثقافت میں اس کیلئے الگ الگ نام مستعمل ہیں۔ اردو میں اگرچہ’’شکر‘‘ ایک معروف لفظ ہے مگر روزمرہ زندگی میں عام طور پر اسے ’’چینی‘‘ کہا جاتا ہے ۔ کیاآپ نے کبھی غور کیا کہ آخر شکر کو ’’چینی‘‘ کیوں کہتے ہیں؟
لفظ’’چینی‘‘ کی تاریخی بنیاد
اردو اور فارسی میں شکر کیلئے لفظ ’’چینی‘‘ دراصل اس کی تاریخی نسبت کی وجہ سے استعمال ہوا۔ قدیم زمانے میں چینی تہذیب کو شکر سازی (Sugar Processing) میں غیر معمولی مہارت حاصل تھی۔ چین دنیا کے اُن اولین خطّوں میں شامل تھا جہاں گنے سے شکر بنانے کی باقاعدہ صنعت موجود تھی۔ چونکہ یہ میٹھا مادہ اکثر چین سے دیگر علاقوں تک تجارت کے ذریعے پہنچتا تھا، اس لئے لوگوں نے اسے اس کی جائے پیدائش یا ترسیل کے مرکز سے منسوب کر کے ’’چینی‘‘ کہنا شروع کر دیا۔

یہ بھی پڑھئے: سانتا کلاز سرخ و سفید لباس ہی پہنتا ہے، کیوں؟

تجارتی راستے اور نام کا پھیلاؤ
قدیم شاہراہِ ریشم کے ذریعے چین کی بہت سی مصنوعات وسط ایشیا، ایران اور برصغیر تک پہنچیں۔ ان میں شکر بھی شامل تھی۔ چونکہ عام لوگ کسی چیز کو اکثر اس کے ماخذ یا تجارتی مرکز کے نام سے پہچانتے ہیں، اس لئے شکر جو چین سے آتی تھی،’’چینی شکر‘‘ کہلائی اور رفتہ رفتہ صرف’’چینی‘‘ رہ گئی۔
لسانی اور ثقافتی اثرات 
زبانیں ہمیشہ ثقافتی اور تجارتی روابط سے متاثر ہوتی ہیں۔ اردو، فارسی اور ہندی میں کئی الفاظ ایسے ہیں جو کسی خاص ملک یا قوم کی طرف نسبت رکھتے ہیں، جیسے’’چینی مٹی‘‘ (چین سے آنے والی مٹی)۔ اسی طرح شکر کیلئے’’چینی‘‘ کا لفظ بھی لسانی روایت کا حصہ بن گیا، حالانکہ بعد میں شکر مقامی طور پر بھی تیار ہونے لگی۔

یہ بھی پڑھئے: پائلٹ، کو پائلٹ سے مختلف غذا کھاتا ہے، کیوں؟

مقامی پیداوار کے باوجود نام کا برقرار رہنا 
برصغیر میں گنے کی کاشت اور شکر سازی قدیم زمانے سے موجود تھی مگر جب چین سے آنے والی بہتر معیار کی شکر معروف ہوئی تو اس کا نام عوامی زبان میں راسخ ہو گیا۔ بعد میں چاہے شکر مقامی ہو یا درآمدی، لفظ ’’چینی‘‘ ہی عام استعمال میں رہا کیونکہ زبان میں رائج نام آسانی سے تبدیل نہیں ہوتے۔
معتبرحوالہ جات / ماخذ: 
فرہنگِ آصفیہ اور نوراللغات میں لفظ چینی کے ذیل میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ شکر کیلئے مستعمل لفظ ہے اور اس کی نسبت چین کی طرف کی جاتی ہے۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (شوگر،ہسٹری آف شوگر) میں بھی اس کے جغرافیائی نسبت کا ذکر ملتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK