Inquilab Logo Happiest Places to Work

بیگم اختر کی آواز کا جادو ان کے مداحوں کے سر چڑھ کر بولتا تھا

Updated: October 07, 2024, 11:45 AM IST | Agency | Mumbai

اپنی دلکش آواز سے شائقین کو دیوانہ بنانے والی بیگم اختر نے ایک بار عہد کیا تھا کہ وہ کبھی گلوکارہ نہیں بنیں گی۔

Queen of acting and singing Begum Akhtar. Photo: INN
اداکاری اور گلوکاری کی ملکہ بیگم اختر۔ تصویر : آئی این این

اپنی دلکش آواز سے شائقین کو دیوانہ بنانے والی بیگم اختر نے ایک بار عہد کیا تھا کہ وہ کبھی گلوکارہ نہیں بنیں گی۔ بچپن میں بیگم اختر استاد محمد خان سے موسیقی کی تعلیم لیاکرتی تھیں۔ اسی دوران ایک ایسا واقعہ پیش آیا کہ بیگم اختر نے گانا سیکھنے سے انکارکردیا۔ اس کی وجہ یہ تھی بیگم اختر سے صحیح سر نہیں نکل پارہےتھے۔ ان کے استادنے انہیں کئی بار سکھایااورجب وہ نہیں سیکھ پائی تو انہیں خوب ڈانٹا۔ بیگم اختر نے روتے ہوئےان سے کہا’’ہم سے نہیں بنتانانا جی…میں گانا نہیں سیکھوں گی۔ ان کے استاد نےکہا، بس اتنے میں ہار مان لی تم نے، کافی سمجھانے کےبعد بیگم اختر نے پھر سے ریاض شروع کیا اور صحیح سُر لگائے۔ اترپردیش کےفیض آباد میں ۷؍ اکتوبر ۱۹۱۴ءمیں پیدا ہوئیں بیگم نےفیض آباد میں سارنگی کےاستاد ایمان خاں اور عطا محمد خان سے موسیقی کی ابتدائی تعلیم لی۔ ۳۰؍کی دہائی میں بیگم اختر پارسی تھیٹرسے منسلک ہوگئیں۔ ڈراموں میں کام کرنےکی وجہ سے ان کا ریاض چھوٹ گیاجس سے محمدعطا خان کافی ناراض ہوئےاورانہوں نے کہاجب تک تم ڈرامے میں کام کرنانہیں چھوڑتی، میں تمہیں گانا نہیں سکھاؤں گا۔ ان کی اس بات پر بیگم اختر نے کہا، آپ صرف ایک بار میرا ڈرامہ دیکھنے آجائیں اس کے بعد آپ جو کہیں گےمیں کروں گی۔ اس رات محمد عطا خان بیگم اخترکا ڈرامہ ’ترکی حور ‘دیکھنے گئے۔ جب انہوں نے اس ڈرامے کاگانا’ چل ری میری نئیا‘گایا تو ان کی آنکھوں میں آنسوں آگئے۔ 
 بطوراداکارہ بیگم اختر نے’ ایک دن کا بادشاہ‘سے سنیمامیں اپنے کریئر کا آغاز کیا لیکن اس فلم کی ناکامی کی وجہ سےاداکارہ کے طورپر وہ کچھ خاص شناخت نہیں بناپائیں۔ ۱۹۳۳ءمیں ایسٹ انڈیا کے بینر تلےبنی فلم نل دمینتی کی کامیابی کے بعد بیگم اختربطور اداکارہ اپنی کچھ شناخت بنانے میں کامیاب رہیں۔ اس دوران بیگم اخترنے امینا، ممتاز بیگم، جوانی کا نشہ، نصیب کاچکرجیسی فلموں میں اپنی اداکاری کا جوہر دکھایا۔ کچھ وقت کے بعد وہ لکھنؤ چلی گئیں جہاں ان کی ملاقات مشہور پروڈیوسر اور فلم ساز محبوب خان سے ہوئی جو بیگم اخترکے فن سے کافی متاثر ہوئے اور انہیں ممبئی آنے کی دعوت دی۔ 
 شادی کےبعد شوہر کی اجازت نہ ملنےپر انہوں نےگلوکاری سے منہ موڑ لیا۔ گلوکاری سے بے انتہا محبت کرنے والی بیگم اختر کو جب تقریباً۵؍سال تک آوازکی دنیا سے دور رہنا پڑا تو وہ اس کا صدمہ برداشت نہیں کرسکیں اور مستقل بیمار رہنے لگیں ۔ حکیم اور ڈاکٹروں کی دوائیاں بھی ان کی صحت کو بہتر نہیں کرسکیں۔ 
  ۱۹۵۸ء میں ستیہ جیت رے کے ذریعہ بنائی گئی فلم ’جلسہ گھر ‘بیگم اختر کے کریئر کی آخری فلم ثابت ہوئی۔ اس فلم میں انہوں نے ایک گلوکارہ کا کردار اداکیا تھا۔ اس دوران وہ اسٹیج سے بھی منسلک رہیں اور اداکاری کرتی رہیں۔ ۷۰ءکی دہائی میں مسلسل موسیقی سے جڑے پروگراموں میں حصہ لینے اور کام کے بڑھتے دباؤکی وجہ سے وہ پھر سے بیمار رہنے لگی۔ ۱۹۷۲ءمیں موسیقی کے میدان میں ان کی قابل ذکر شراکت کے پیش نظر سنگیت ناٹک اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ وہ پدم شری اور پدم بھوشن ایوارڈ سے بھی نوازی جاچکی ہیں۔ اپنی موت سے ۷؍دن قبل بیگم اختر نے کیفی اعظمی کی غزل کو اپنی آخری آواز دی تھی۔ یہ عظیم فن کارہ۳۰؍اکتوبر ۱۹۷۴ء کواس دنیاکوہمیشہ کے لئے الوداع کہہ گئیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK