دہلی ہائی کورٹ نے سی اے اے مخالف کارکن اطہر خان کے جیل میں ۶؍ سال مکمل ہونے کے باجود ضمانت سے انکار کردیا، عدالت نے مشاہدے میں کہا کہ اگر اطہر خان کو رہا کیا گیا تو ان کے فرار ہونے کا خطرہ ہے۔
EPAPER
Updated: July 07, 2026, 9:30 PM IST | New Delhi
دہلی ہائی کورٹ نے سی اے اے مخالف کارکن اطہر خان کے جیل میں ۶؍ سال مکمل ہونے کے باجود ضمانت سے انکار کردیا، عدالت نے مشاہدے میں کہا کہ اگر اطہر خان کو رہا کیا گیا تو ان کے فرار ہونے کا خطرہ ہے۔
لائیو لاء کی رپورٹ کے مطابق دہلی ہائی کورٹ نے منگل کو سی اے اے مخالف کارکن اطہر خان کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی، جو۲۰۲۰ء کے شمال مشرقی دہلی کے فسادات سازش کے مقدمے میں ملزم ہیں۔ یہ مقدمہ غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت درج کیا گیا تھا۔جسٹس پرتھیبا ایم سنگھ اور جسٹس مادھو جین پر مشتمل ڈویژن بنچ نے ٹرائل کورٹ کے۲۹؍ جنوری کے اس حکم کو برقرار رکھا جس میں انہیں ضمانت سے انکار کیا گیا تھا۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ اگر اطہر خان کو رہا کیا گیا تو وہ فرار ہو سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ مئی میں فیصلہ محفوظ رکھتے ہوئے، ہائی کورٹ نے زبانی طور پر کہا تھا کہ اطہر خان کی واٹس ایپ گفتگو سے ابتدائی طور پر ان کے مبینہ سازش میں ملوث ہونے کا اشارہ ملتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ۲۰۰۸ءاحمد آباد بم دھماکہ کیس: ۳۸؍ مجرموں کی سزائے موت، ۱۱؍ کی عمر قید برقرار
اطہر خان، جنہوں نے۲؍ جولائی۲۰۲۶ء کو جیل میں چھ سال مکمل کر لیے، نے ساتھی ملزم شاداب احمد کے ساتھ برابری کی بنیاد پر ضمانت کی درخواست کی تھی، جنہیں سپریم کورٹ نے اس سال کے شروع میں ضمانت دی تھی۔ انہوں نے ٹرائل کورٹ کے اس حکم کو چیلنج کیا تھا جس میں انہیں یو اے پی اے مقدمے میں ضمانت سے انکار کیا گیا تھا۔دہلی پولیس نے ایڈیشنل سولیسیٹر جنرل ایس وی راجو اور اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر مدھوکر پانڈے کے ذریعے اس درخواست کی مخالفت کی، جبکہ ایڈووکیٹ ارجن دیوار اطہر خان کی طرف سے پیش ہوئے۔ہائی کورٹ کے حکم کے بعد، اطہر خان کے اہل خانہ نے کہا کہ وہ ضمانت کے لیے سپریم کورٹ میں جائیں گے۔
یاد رہے کہ اطہر خان، جو شمال مشرقی دہلی کے چاند باغ کے رہائشی ہیں، کو دہلی پولیس نے۲؍ جولائی ۲۰۲۰ءکو گرفتار کیا تھا اور تب سے وہ یو اے پی اے کے تحت حراست میں ہیں۔اپنی گرفتاری سے پہلے، اطہر خان نے چاند باغ میں شہریت (ترمیمی) ایکٹ (سی اے اے) کے خلاف مظاہروں میں حصہ لیا تھا اور دسمبر۲۰۱۹ء میں پولیس کی طلبہ پر کارروائی کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بھی احتجاجی مظاہروں میں شریک ہوئے تھے۔ خاندان کے مطابق، اطہر خان نے اپنے والد کی کڑھائی کے کاروبار کے بند ہونے کے بعد ڈسٹنس لرننگ بی بی اے پروگرام میں داخلہ لیا تھا اور بعد میں ٹیلی کام کمپنی میں نوکری کی تاکہ نوٹ بندی اورجی ایس ٹی کے نفاذ کے بعد خاندانی کاروبار کو ہونے والے مالی نقصانات کے بعد گھر کا خرچ چلا سکیں۔
یہ بھی پڑھئے: مغربی بنگال میں جنگل راج، آبروریزی اور قتل کے ملزم کا پیٹ پیٹ کر قتل
دراصل یہ مقدمہ اس مبینہ بڑی سازش سے متعلق ہے جس کے نتیجے میں فروری۲۰۲۰ء میں شمال مشرقی دہلی میں شہریت (ترمیمی) ایکٹ (سی اے اے) اور مجوزہ قومی شہری رجسٹر (این آر سی) کے خلاف مظاہروں کے دوران فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے تھے۔ ان فسادات میں۵۳؍ افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر مسلمان تھے، اور۷۰۰؍ سے زائد زخمی ہوئے۔جس کے بعد دہلی پولیس نے متعدد سی اے اے مخالف کارکنوں اور مظاہرین پر فسادات کی سازش کا الزام عائد کیا اور ان کے خلاف یو اے پی اے، اور دیگر قوانین کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔اس مقدمے میں نامزد افراد میں عمر خالد، شرجیل امام، طاہر حسین، گلفشا فاطمہ، میران حیدر، شفاء الرحمٰن، سفورہ زرگر، عاصف اقبال تنہا، دیونگانا کلیتا، نتاشا نروال، خالد سیفی، عشرت جہاں اور دیگر شامل ہیں۔حالانکہ تمام ملزمین نے الزامات سے انکار کیا ہے، جبکہ متعدد حقوق گروپوں اور قانونی مبصرین نے یو اے پی اے کے تحت گرفتار افراد کی طویل حراست اور مقدمے کی سست رفتاری پر سوالات اٹھائے ہیں، جہاں گرفتاری کے تقریباً چھ سال بعد بھی بہت سے ملزمین کے خلاف فرد جرم عائد نہیں کی گئی ہے۔