Updated: July 07, 2026, 10:10 PM IST
| London
شہزادہ ہیری کو ایک اخبار کے خلاف’’ پرائیویسی ‘‘ کے مقدمہ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا، اس مقدمے میں انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ’’ ڈیلی میل‘‘ اور ’’میل آن سنڈے ‘‘نے ان کے بارے میں ایسی معلومات کا استعمال کرتے ہوئے مضامین شائع کیے جو۱۹۹۰ء اور۲۰۱۱ء کے درمیان غیر قانونی طریقوں سے حاصل کی گئی تھیں۔
شہزادہ ہیری اور چھ دیگر مدعیان کو ڈیلی میل کے پبلشر ایسوسی ایٹڈ نیوز پیپرز لمیٹڈ کے خلاف پرائیویسی مقدمہ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ا س مقدمے میں انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ’’ ڈیلی میل‘‘ اور ’’میل آن سنڈے ‘‘نے ان کے بارے میں ایسی معلومات کا استعمال کرتے ہوئے مضامین شائع کیے جو ، ۱۹۹۰ء اور۲۰۱۱ء کے درمیان غیر قانونی طریقوں سے حاصل کی گئی تھیں۔ واضح رہے کہ ہیری نے ۷؍ جولائی سے اپنے لندن دورے کا آغاز کیا، اسی وقت ا نہیں اس تلخ تجربے کا سامنا کرناپڑا، جب جج نے اس طویل انتظار کے پرائیویسی کیس میں فیصلہ دیا، جس میں سات دیگر معروف شخصیات ایلٹن جان، الزبتھ ہرلی، اور جوڈ لا کی سابقہ اہلیہ سیڈی فراسٹ بھی شامل تھیں۔ ان سب نے یہ مقدمہ ۲۰۲۲ءمیں دائر کیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: میکرون ہر جگہ دھوپ کا چشمہ کیوں پہن رہے ہیں؟ سوشل میڈیا پر قیاس آرائیاں
یہ ہیری کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جن کا اپنی بیوی میگھن مارکل سمیت برطانوی ٹیبلوئڈ اخبارات کے ساتھ تلخ تعلق رہا ہے۔ یہ فیصلہ۱۱؍ ہفتوں کی سماعت کے بعد آیا۔لندن کے ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق، ایک تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ ’’مدعیان اپنے الزامات کو ثابت کرنے میں ناکام رہے... لہٰذا تمام دعوے خارج کیے جاتے ہیں۔‘‘ تاہم شہزادہ ہیری نے ابھی فیصلے پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔ عدالت کے فیصلے سے پہلے انہیں لندن کے چیتھم ہاؤس میں انویکٹس گیمز کی ایک تقریب میں شرکت کرتے دیکھا گیا تھا۔ ہیری کے علاوہ دیگر مدعیان میں ڈورین لارنس، ایلٹن جان، ڈیوڈ فرنش، لز ہرلی، سیڈی فراسٹ اور سائمن ہیوز شامل تھے۔تاہم ان میں سے کسی نے بھی فیصلے پر ردعمل نہیں دیا۔
یہ بھی پڑھئے: شہزادہ ہیری کا برطانیہ دورہ: بکنگھم پیلس نے رہائش دینے سے انکار کردیا
بعد ازاں ایسوسی ایٹڈ نیوز پیپرز نے اسے ’’زبردست فتح‘‘ قرار دیا۔ جج میتھیو نکلن کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے، ایسوسی ایٹڈ نیوز پیپرز نے اسے ’’زبردست فتح‘‘ اور ’’ڈیلی میل کی صحافت کی شاندار توثیق‘‘ قرار دیا۔اخبار نے تمام الزامات کی تردید کی ہے، کہا ہے کہ رپورٹنگ جائز صحافت پر مبنی تھی۔اس نے کہا کہ عدالت کا مدعیان کی طرف سے لگائے گئے۹۷؍ میں سے ہر ایک الزام کو مسترد کرنا ظاہر کرتا ہے کہ جج نے ہمارے صحافیوں کی اس گواہی کی صداقت کو قبول کیا ہے کہ انہوں نے اپنے ذرائع سے کہانیاں کیسے حاصل کیں۔‘‘