Inquilab Logo Happiest Places to Work

پروفیشنل سروسیز میں ہر۱۰؍ میں سے ۸؍ جین زی ملازمین ملازمت چھوڑنے کے خواہش مند

Updated: August 31, 2026, 7:06 PM IST | New Delhi

ہندوستان کے پروفیشنل سروسیز شعبے میں ملازمین کو برقرار رکھنے کا بحران گہرا ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ گریٹ پلیس ٹو ورک انڈیا کی رپورٹ کے مطابق اس شعبے میں ہر ۱۰؍ میں سے تقریباً ۸؍ جین زی ملازمین ملازمت چھوڑنے کی جانب مائل ہیں ۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پروفیشنل سروسیز کی افرادی قوت میں جین زی کا حصہ ۲۰۲۳ء کے۱۷؍ فیصد سے بڑھ کر۲۰۲۶ء میں۳۴؍ فیصد ہوگیا ہے۔

Gen Z.Photo:INN
جین زی۔ تصویر:آئی این این

ہندوستان کے پروفیشنل سروسیز شعبے میں ملازمین کو برقرار رکھنے کا بحران گہرا ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔  گریٹ پلیس ٹو ورک انڈیا  کی رپورٹ کے مطابق اس شعبے میں ہر ۱۰؍ میں سے تقریباً ۸؍ جین زی  ملازمین ملازمت چھوڑنے کی جانب مائل ہیں ۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پروفیشنل سروسیز کی افرادی قوت میں جین زی کا حصہ ۲۰۲۳ء کے۱۷؍ فیصد سے بڑھ کر۲۰۲۶ء میں۳۴؍ فیصد  ہوگیا ہے۔ 
اس جائزے میں کنسلٹنگ، گلوبل کیپبیلٹی سینٹرز (GCCs)، بی پی او، اکاؤنٹنگ و آڈٹنگ، ٹریول مینجمنٹ، قانونی خدمات، آرکیٹیکچر اور ڈیزائن سمیت مختلف شعبوں کی۱۳۰؍ سے زائد کمپنیوں اور  ۱ء۱؍ لاکھ سے زیادہ ملازمین کو شامل کیا گیا۔  رپورٹ کے مطابق جین زی  ملازمین میں فعال طور پر نئی ملازمت تلاش کرنے کا رجحان سب سے زیادہ ہے، جبکہ موجودہ شعبے میں طویل عرصے تک برقرار رہنے کی خواہش سب سے کم ہے۔

یہ بھی پڑھئے:سابق ہندوستانی تیز گیند باز جواگل سری ناتھ نے بنگلورو میٹرو میں سفر کیا

جین زی ملازمین دیگر عمر کے گروپس کے مقابلے میں تنخواہ، کارکردگی کی پہچان اور ترقی کے معیار میں غیر واضح صورتحال کو کم برداشت کرتے ہیں۔ جب ان کی توقعات پوری نہیں ہوتیں تو وہ ملازمت تبدیل کرنے کے لیے نسبتاً جلد فیصلہ کرنے کا رجحان رکھتے ہیں۔  پروفیشنل سروسیز میں جن زیڈ کی نمائندگی صرف چند سالوں میں تقریباً دگنی ہوگئی ہے۔ ۲۰۲۳ء میں اس نسل کا حصہ ۱۷؍ فیصد  تھا، جو ۲۰۲۶ءمیں بڑھ کر ۳۴؍ فیصد  ہوگیا۔ اس کا مطلب ہے کہ کمپنیوں کے لیے جن زیڈ ملازمین کو برقرار رکھنا اب محض  ایچ آر  کا مسئلہ نہیں بلکہ کاروباری تسلسل کا اہم معاملہ بنتا جارہا ہے۔ بڑی تعداد میں نوجوان ملازمین کے جانے سے بھرتی کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں، ادارہ جاتی تجربہ ضائع ہوسکتا ہے اور کلائنٹس کے ساتھ تعلقات کا تسلسل متاثر ہوسکتا ہے۔ 
رپورٹ کا ایک اور اہم انکشاف یہ ہے کہ پروفیشنل سروسیز کے شعبے میں مجموعی طور پر تقریباً  ہر دو میں سے ایک ملازم فعال طور پر نئی ملازمت تلاش کررہا ہے۔ مزید یہ کہ جو ملازمین کمپنی چھوڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں، ان میں سے تقریباً چار میں سے تین اگلے ۱۲؍ ماہ کے اندر اپنی موجودہ تنظیم چھوڑ سکتے ہیں۔ مسئلہ صرف نوجوان ملازمین تک محدود نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق ۸۶؍ فیصد منیجرز اور فرنٹ لائن سپروائزرز بھی نئی ملازمت تلاش کررہے ہیں، جبکہ ٹیم مینجمنٹ کی ذمہ داری نہ رکھنے والے ملازمین میں یہ شرح ۵۳؍ فیصد  ہے۔  رپورٹ کے مطابق منیجرز کو ایک ساتھ پروجیکٹس کی ڈیلیوری، کلائنٹس کی توقعات، ٹیم کی دیکھ بھال اور کمپنی کی تبدیلیوں کو ملازمین تک پہنچانے کا دباؤ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:’’اسپائیڈر مین: برانڈ نیو ڈے‘‘ تیسری سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم بننے کے قریب

 مصنوعی ذہانت بھی ملازمین کے لیے ایک اہم تشویش بنتی جارہی ہے۔ تقریباً ۱۰؍میں سے ۶؍ تنظیمیں اپنی روزمرہ سرگرمیوں میں اے آئی  کا بامعنی استعمال کررہی ہیں، لیکن صرف ۱۰؍ میں سے ۲؍ ملازمین  کا کہنا ہے کہ انہیںاے آئی  ٹولز کے فوائد اور خطرات کے بارے میں مناسب طور پر آگاہ کیا گیا ہے۔ اس فرق سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمپنیاں اے آئی کو تیزی سے اپنا رہی ہیں، لیکن ملازمین کو اس تبدیلی کے لیے تربیت اور واضح معلومات فراہم کرنے کی رفتار اتنی تیز نہیں ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا کہ ملازمین کی جانب سے اپنی بنیادی ذمہ داریوں سے آگے بڑھ کر اضافی کوشش کرنے کا رجحان کم ہوا ہے۔ گریٹ پلیس ٹو ورک کے مطابق بنیادی دفتری سہولیات بہتر ہونے کے باوجود ملازمین کو وہ  ثقافتی اور نظامی تبدیلیاں محسوس نہیں ہورہیں جو طویل مدتی وفاداری اور وابستگی پیدا کرسکیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK