ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) نے آئی پی ایل فرنچائز سے لیگ کے سب سے زیادہ زیر بحث موضوع امپیکٹ پلیئر ضابطے پر رائے مانگی ہے۔ فرنچائز سے پیر (۳۱؍اگست ۲۰۲۶ء) تک اس متنازع `۱۲؍ویں کھلاڑی والے ضابطے پر اپنی رائے دینے کو کہا گیا ہے۔
EPAPER
Updated: August 31, 2026, 10:00 PM IST | Mumbai
ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) نے آئی پی ایل فرنچائز سے لیگ کے سب سے زیادہ زیر بحث موضوع امپیکٹ پلیئر ضابطے پر رائے مانگی ہے۔ فرنچائز سے پیر (۳۱؍اگست ۲۰۲۶ء) تک اس متنازع `۱۲؍ویں کھلاڑی والے ضابطے پر اپنی رائے دینے کو کہا گیا ہے۔
ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) نے آئی پی ایل فرنچائز سے لیگ کے سب سے زیادہ زیر بحث موضوع امپیکٹ پلیئر ضابطے پر رائے مانگی ہے۔ فرنچائز سے پیر (۳۱؍اگست ۲۰۲۶ء) تک اس متنازع `۱۲؍ویں کھلاڑی والے ضابطے پر اپنی رائے دینے کو کہا گیا ہے۔ اس ضابطے نے لیگ میں مختلف رائے پیدا کی ہے، خاص طور پر گزشتہ سیزن میں، جب کئی زیادہ اسکور والے میچ ہوئے اور بے بس گیند بازوں کو لے کر تشویش ظاہر کی گئی۔
بی سی سی آئی نے کئی دیگر معاملات پر بھی فرنچائز کی رائے مانگی ہے، جن میں پی ایم او اے معاملہ، امپائرنگ، پریکٹس سیشن اور کھیلنے کی شرائط شامل ہیں۔ لیکن ٹیموں کو بھیجے گئے حالیہ مختصر پیغام میں سب سے اہم موضوع امپیکٹ پلیئر شق تھی۔ کرک بز کو یہ پیغام ملا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’’بٹوارہ ۱۹۴۷ء‘‘ کی ناکامی پر راج کمار سنتوشی نے شبانہ اعظمی کی رائے مسترد کردی
حال ہی میں ختم ہوئے سیزن پر رائے مانگنا آئی پی ایل میں ایک عام عمل ہے۔ لیکن امپیکٹ پلیئر شق پر خاص طور پر ردعمل مانگنا توقع کے برعکس لگتا ہے، کیونکہ یہ مانا جارہا تھا کہ یہ ضابطہ کم از کم ایک اور سیزن تک جاری رہے گا۔ بی سی سی آئی/آئی پی ایل حکام نے گزشتہ سال سیزن سے پہلے کپتانوں کی میٹنگ میں اشارہ دیا تھا کہ یہ ضابطہ ایک اور سال تک نافذ رہے گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بی سی سی آئی کے پیغام میں اسی کپتانوں کی میٹنگ کا ذکر کیا گیا ہے۔
روہت شرما، ہاردک پانڈیا، اکشر پٹیل اور شبھ من گل جیسے کئی معروف کھلاڑیوں نے کھلے طور پر اس خیال کی مخالفت کی ہے۔ آئی پی ایل سے جو بات سامنے آرہی ہے، وہ یہ ہے کہ اس ضابطے کے حامی بھی ہیں۔ تاہم، جب یہ معاملہ طے شدہ لگ رہا تھا، تب اسے دوبارہ اٹھانا ایک غیر یقینی صورت حال پیدا کرتا ہے۔ کیا اگلے سیزن میں اس ضابطے کا جائزہ لیا جائے گا، یہ اب بھی ایک کھلا سوال ہے۔ بی سی سی آئی/آئی پی ایل کی ای میل میں کہا گیا ہے، آئی پی ایل ۲۰۲۶ء کپتانوں کی میٹنگ میں ہوئی گفتگو کے مطابق، یہ طے کیا گیا تھا کہ ٹورنامنٹ ختم ہونے پر تمام فرنچائز سے کرکٹ سے متعلق اہم معاملات پر رائے لی جائے گی۔ اس لیے، ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ آپ اپنی کرکٹ آپریشنز ٹیموں کے ساتھ ان موضوعات پر گفتگو کریں اور اپنی جمع کردہ رائے ہمارے ساتھ شیئر کریں۔
یہ بھی پڑھئے:خواتین چیمپئن ٹرافی کی میزبانی کا حق سری لنکا سے چھین لیا گیا
ای میل میں مزید کہا گیا ہے، براہ کرم یقینی بنائیں کہ آپ کی رائے۳۱؍ اگست تک ہم تک پہنچ جائے۔ اس سے ہمیں تمام فرنچائز سے موصول ہونے والی آرا جمع کرنے اور اگلے سیزن سے پہلے ضروری جائزے اور آئندہ کی کارروائی پر کام کرنے میں مدد ملے گی۔ ہمیں مقررہ مدت کے اندر آپ کے جواب کا انتظار رہے گا۔ امپیکٹ پلیئر کے علاوہ، گزشتہ آئی پی ایل کے دوران ایک اور بڑا مسئلہ انسداد بدعنوانی ضابطوں کی خلاف ورزی تھا، جس میں پی ایم او اے علاقے میں بیرونی افراد کو دیکھا گیا تھا۔ اس کے باعث بی سی سی آئی کو کھلاڑیوں، معاون عملے اور مالکان کے لیے سیزن کے درمیان ہی رہنما ہدایات جاری کرنی پڑیں۔ بی سی سی آئی نے پی ایم او اے سے متعلق ان تشویشات کو میچ ڈے میٹرز کے تحت رکھا ہے، جس میں کیٹرنگ، پی ایم او اے اور اس سے متعلق دیگر معاملات شامل ہیں۔