موبائل فون پر آنے والی غیر مطلوبہ اور اسپیم کالز سے پریشان صارفین کے لیے ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی آف انڈیا (ٹرائی) نے واضح کیا ہے کہ صرف اسپیم نمبر کو بلاک کردینا کافی نہیں، بلکہ اس کی شکایت بھی درج کرانا ضروری ہے۔
EPAPER
Updated: August 31, 2026, 10:00 PM IST | New Delhi
موبائل فون پر آنے والی غیر مطلوبہ اور اسپیم کالز سے پریشان صارفین کے لیے ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی آف انڈیا (ٹرائی) نے واضح کیا ہے کہ صرف اسپیم نمبر کو بلاک کردینا کافی نہیں، بلکہ اس کی شکایت بھی درج کرانا ضروری ہے۔
موبائل فون پر آنے والی غیر مطلوبہ اور اسپیم کالز سے پریشان صارفین کے لیے ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی آف انڈیا (ٹرائی) نے واضح کیا ہے کہ صرف اسپیم نمبر کو بلاک کردینا کافی نہیں، بلکہ اس کی شکایت بھی درج کرانا ضروری ہے۔ ٹرائی کے مطابق صارف کی جانب سے درج کی جانے والی ہر شکایت اسپیم کرنے والے نمبروں اور اداروں کی شناخت، ان کے نیٹ ورک کا پتہ لگانے اور بار بار ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی میں مدد دیتی ہے۔
ہندوستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں موبائل صارفین کو بڑی تعداد میں اسپیم کالز اور پیغامات کا سامنا ہے۔ اندازے کے مطابق ملک میں ہر سال ۴۱؍ ارب سے زائد اسپیم کالز اور ۱۲۹؍ ارب اسپیم پیغامات موصول ہوتے ہیں۔ ایک عام صارف کو روزانہ اوسطاً دو سے تین غیر مطلوبہ کالز آتی ہیں۔ مالیاتی خدمات، جائیداد اور ٹیلی مارکیٹنگ سے متعلق کالز ان میں نمایاں ہیں۔ ٹرائی نے اسپیم اور غیر مطلوبہ تجارتی مواصلات کے خلاف صارفین کی شرکت بڑھانے کے لیے ٹرائی ڈی این ڈی ایپ فراہم کی ہے۔ اس ایپ کے ذریعے صارف اپنی ڈو ناٹ ڈسٹرب ترجیحات مقرر کرنے کے ساتھ ساتھ اسپیم کالز اور غیر مطلوبہ ایس ایم ایس کی شکایت بھی درج کراسکتا ہے اور شکایت کی صورتحال معلوم کرسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:خواتین چیمپئن ٹرافی کی میزبانی کا حق سری لنکا سے چھین لیا گیا
اعداد و شمار کے مطابق ۳۰؍ جون ۲۰۲۶ء تک ڈی این ڈی ایپ ۱۶ء۳۳؍ لاکھ مرتبہ ڈاؤن لوڈ کی جاچکی تھی۔ اپریل سے جون ۲۰۲۶ءکے دوران مختلف ذرائع سے غیر مطلوبہ تجارتی مواصلات سے متعلق ۸۵ء۱۰؍ لاکھ شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے ۶۶ء۹؍ لاکھ، یعنی تقریباً ۸۹؍ فیصد شکایات، ڈی این ڈی ایپ کے ذریعے درج کی گئیں۔ ٹرائی کے مطابق صارفین کی ڈی این ڈی ترجیحات کے نتیجے میں مالی سال ۲۷۔۲۰۲۶ءکی پہلی سہ ماہی میں تصدیق کے بعد تقریباً ۴۸ء۱؍ ارب تشہیری کالز اور۳۰ء۷؍ ارب تشہیری ایس ایم ایس روکے گئے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صارفین کی جانب سے اپنی ترجیحات درج کرانا اسپیم مواصلات پر قابو پانے میں مؤثر ثابت ہورہا ہے۔
ٹرائی نے مزید بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران شہریوں کی شکایات پر کارروائی کرتے ہوئے ۲۱؍ لاکھ سے زائد موبائل نمبروں اور تقریباً ایک لاکھ اداروں کو اسپیم اور دھوکہ دہی پر مبنی پیغامات بھیجنے میں ملوث پائے جانے کے بعد منقطع اور بلیک لسٹ کیا گیا۔ تاہم ڈی این ڈی رجسٹری میں صارفین کی شرکت اب بھی محدود ہے۔۳۰؍ جون تک ۴ء۲۲؍کروڑ صارفین نے اپنی ڈی این ڈی ترجیحات درج کرائی تھیں، جبکہ ملک میں موبائل صارفین کی تعداد تقریباً ۸ء۱۳۴؍کروڑ ہے۔ یعنی صرف ۱۶؍ فیصد صارفین نے اپنی ترجیحات درج کرائی ہیں، جبکہ ۱۱۲؍کروڑ سے زائد صارفین نے اب تک کوئی ترجیح درج نہیں کرائی۔
یہ بھی پڑھئے:’’بٹوارہ ۱۹۴۷ء‘‘ کی ناکامی پر راج کمار سنتوشی نے شبانہ اعظمی کی رائے مسترد کردی
ٹرائی کے مطابق صارفین ڈی این ڈی ایپ کے ذریعے تمام تجارتی مواصلات کو روکنے، صرف تشہیری کالز و پیغامات پر پابندی لگانے یا اپنی ضرورت کے مطابق مخصوص شعبوں، کالز اور ایس ایم ایس کا انتخاب کرسکتے ہیں۔ ترجیحات درج کرنے کے بعد تبدیلیاں عموماً ۲۴؍ گھنٹے میں نافذ ہوجاتی ہیں۔ اینڈرائیڈ صارفین ایپ میں اسپیم کالز کے حصے میں جاکر متعلقہ نمبر منتخب کرکے شکایت درج کراسکتے ہیں، جبکہ آئی فون صارفین ایپ ایکسٹینشن فعال کرنے کے بعد کال لاگ سے اسپیم کال کی شکایت کرسکتے ہیں۔ شکایت ۱۹۰۹؍ پر بھی درج کرائی جاسکتی ہے۔ ٹرائی کا کہنا ہے کہ نمبر بلاک کرنے سے ایک صارف کو وقتی تحفظ ملتا ہے، لیکن شکایت درج کرانے سے اسپیم کرنے والے پورے نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کا راستہ کھلتا ہے۔