• Fri, 23 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بامبے ہائی کورٹ کا غیر قانونی گرفتاری پر شہری کو ۵؍ لاکھ روپے معاوضہ دینے کا حکم

Updated: October 23, 2026, 10:08 PM IST | Mumbai

بامبے ہائی کورٹ نے غیر قانونی گرفتاری پر شہری کو ۵؍ لاکھ روپے معاوضہ دینے کا حکم دیا،عدالت نے بھتہ خوری کے ایک معاملے میں ممبئی کے ایک کاروباری کی ۲۰۱۷ء کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ریاستی حکومت کویہ حکم دیا ۔

Bombay High Court. Photo: INN.
بامبے ہائی کورٹ۔ تصویر: آئی این این۔

جسٹس اے ایس گڈکری اور جسٹس کمل کھاٹا کی بنچ نے بپن ستش چندر اگروال کو بھتہ خوری کے معاملےمیں پھنسانے کیلئے آزاد میدان پولیس کی ایک پرائیویٹ ڈویلپر کے ساتھ ساز باز پر شدید پھٹکار بھی لگائی۔ اگروال نے اپنی بوڑھی ساس کے پاور آف اٹارنی ہولڈر کے طور پر ایک سوسائٹی کے ری ڈیولپمنٹ کی شرائط پر سیٹھ اینڈ سونل ڈیولپرز سے بات چیت کیلئے قدم بڑھایا تھا۔ جب بات چیت کے دوران ڈیولپرز نے انہیں ایڈوانس رقم کے طور پر۲؍ لاکھ روپے تھمائےتو پولیس نے موقع پر پہنچ کر انہیں ہتھکڑی لگا دی اور ان کے خلاف بھتہ خوری کی ایف آئی آر درج کر لی۔

یہ بھی پڑھئے: ہنگولی: ٹرین کے ریزرو کوچ میں نوجوان کو آرپی ایف اہلکارنے پیٹا

بالآخر انہوں نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے اپنی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دینے، ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف محکمہ جاتی تحقیقات اور ریاست سے معاوضے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے عدالت کے سامنے ذاتی طور پر پیش ہو کر اپنی آپ بیتی بیان کی۔ ۲۲؍ اکتوبر کے اپنے فیصلے میں بنچ نے ان کی کہانی پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا۔ عدالت نے کہا، ’’’درخواست گزارکو تفصیل سے سننے کے بعد، ہم نے یہ سوچ کر شدید رنج و غم محسوس کیا کہ وہ کس کرب سے گزرے ہوں گے۔‘‘  عدالت نے پایا کہ سب انسپکٹر مہیش لمکھاڑے نے اگروال کو انڈین پینل کوڈ (آئی پی سی) کی دفعہ ۳۸۴؍ کے تحت بھتہ خوری کے کیس میں جھوٹا پھنسانے کیلئے اپنے سرکاری اختیارات کا بےجا استعمال کیا۔عدالت نے کہا، ’’واضح طور پر یہ پولیس کی ملی بھگت سے ڈیولپر کے ذریعے عمل کا کھلم کھلا غلط استعمال ہے۔ یہ ایک کلاسیکی کیس ہے جہاں ایک پولیس سب انسپکٹر نے درخواست گزار کے خلاف ڈیولپر کے مفادات کو آگے بڑھانے کیلئے اپنے سرکاری عہدے کا استحصال کیا اور اپنے ماتحت پولیس مشینری کو بطورِ ہتھیار استعمال کیا، تاکہ پٹیشنر کی زندگی میں تباہ کی جا سکے، بظاہر صرف اس لئے  کہ اس نے ان کی طرف سے پیش کردہ ڈیل کو قبول کرنے کے دباؤ کے آگے گھٹنے نہیں ٹیکے۔‘‘عدالت نے معاملے میں واضح جعل سازی اور گڑبڑیاں پائیں۔ ایف آئی آر گرفتاری کے بعد درج کی گئی تھی، گرفتاری کے میمو کی تاریخوں میں تبدیلی کی گئی تھی اور سی آر پی سی کی دفعہ ۴۱؍ اے کے تحت نوٹس (جس میں پولیس کے سامنے پیشی کی ہدایت ہوتی ہے) اگروال کو اس وقت دیا گیا جب وہ پہلے سے ہی حراست میں تھے۔ اگروال کا سابقہ ریکارڈ بالکل صاف ہونے کے باوجود، پولیس ریکارڈ میں غلط طریقے سے انہیں ایک عادت سے مجبور مجرم کے طور پر پیش کیا گیا جس کے فرار ہونے کا امکان تھا۔عدالت نے نوٹ کیا، ’’پولیس نے اس سلسلے میں ایک بھی ثبوت کے بغیر اور شکایت کی صداقت کی تحقیقات کئے بغیر بھی پٹیشنر کو ایک گینگسٹریا بھتہ خور کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔‘‘  

یہ بھی پڑھئے: جرنگے نے آڈیو کلپ عام کی، سیاسی گھمسان چھڑگیا

مزید برآں بنچ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پولیس افسر کسی فرد کو صرف سوالات پوچھنے کیلئے گرفتار نہیں کر سکتا اور اسے یہ وجوہات درج کرنی چاہئے کہ حراست میں لینا کیوں انتہائی ضروری ہے۔عدالت نے ۶۴؍ ویں میٹروپولیٹن مجسٹریٹ کو بھی اگروال کو ۲۶؍ دنوں کیلئے بغیر سوچے سمجھے پولیس اور عدالتی حراست میں بھیجنے پر آڑے ہاتھوں لیا۔ عدالت نے کہا، ’’ ۶۴؍ ویں کورٹ کے فاضل مجسٹریٹ بھی پٹیشنر کی غلط حراست کے ذمہ دار تھے۔ ریمانڈ کے تسلسل کا جواز پیش کرنے کیلئے کوئی وجوہات ریکارڈ نہیں کی گئیں۔ ہم نے پایا کہ مجسٹریٹ آزادانہ طور پر اپنا ذہن استعمال کرنے میں ناکام رہے اور انہوں نے بہت ہی غیر سنجیدہ اور لاپرواہ رویہ اپنایا۔‘‘ہائی کورٹ نے ریاست کو دو ہفتوں کے اندر ۵؍ لاکھ روپے بطورِ معاوضہ ادا کرنے کی ہدایت دی اور یہ آزادی بھی دی کہ وہ یہ رقم قصوروار اہلکاروں کی تنخواہوں سے وصول کر سکتے ہیں ۔ 
علاوہ ازیں بنچ نے پی ایس آئی لمکھاڑے کے خلاف فوری معطلی سمیت نظم و ضبط کی کارروائی کا بھی حکم دیا۔ اس کے علاوہ، عدالت نے اس فیصلے کو ہائی کورٹ کی ایڈمنسٹریٹو کمیٹی کے سامنے بھیج دیا ہے تاکہ ان مجسٹریٹس کے خلاف کارروائی کی جا سکے جنہوں نے معاملے کا درست جائزہ لئے بغیر یا کوئی وجوہات درج کئے بغیر بار بار ریمانڈ کے احکامات پاس کئے جس سے اگروال کی بلا ٹرائل حراست طویل ہو گئی۔ ریاست کی طرف سے ایڈیشنل پبلک پراسیکیوٹر جے پی یاگنک پیش ہوئے۔ جبکہ مہیش لمکھاڑے کی جانب سے ایڈوکیٹ انوائے پور اور یوراج تڈکے پیش ہوئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK