Updated: October 23, 2026, 10:08 PM IST
| Bengaluru
بابری مسجد کے فیصلے سے نا اتفاقی ظاہر کرتے ہوئے کچھ افراد نے اختلاف رائے پیش کرنے کیلئے پوسٹرز کے ذریعے احتجاج درج کرایا جس پر پولیس نے غداری کے تحت مقدمہ درج کیا لیکن کرناٹک ہائی کورٹ نے حالیہ سماعت کرتے ہوئے اس مقدمے کو خارج کر دیا ہے، عدالت نے کہا ہے کہ اختلاف رائے کا اظہار کرنا یہ ہر شہری کا جمہوری حق ہے اورپوسٹرز کے ذریعےاس حق کا اظہار کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔
کرناٹک ہائی کورٹ کی عمارت۔ تصویر: آئی این این
کرناٹک ہائی کورٹ نے ان ۱۳؍ افراد کے خلاف درج بغاوت یا غداری کے مقدمے کو خارج کر دیا ہے جن پر منگلورو میں ایسے پوسٹرز لگانے کا الزام تھا جن میں بابری مسجد کے معاملے پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے ساتھ عدم اتفاق کا اظہار کیا گیا تھا۔ ۱۵؍ اکتوبر کو اپنے فیصلے میں، جسٹس ایچ پی سندیش نے قرار دیا کہ وہ پوسٹرز آئین کے تحت محفوظ کردہ اختلافِ رائے کے اظہار کا حصہ تھے۔ جج نے کہا، ’’یہ کارروائی کو خارج کرنے کی طاقت استعمال کرنے کا ایک موزوں معاملہ ہے، کیونکہ یہ فیصلہ کے بارے میں اختلافِ رائے ہے اور اس کا مقصد بدامنی پیدا کرنا نہیں تھا، بلکہ اس میں صرف یہ کہا گیا تھا کہ انصاف نہیں ملا اور آواز بلند کی گئی ہےاور یہ سب کچھ ہندوستان کے آئین کی دفعہ ۱۹؍ اور ۲۱؍کے دائرے میں آتا ہے۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: الیکشن کمشنرز کی شکایت پر کارروائی مداخلت کے مترادف، آر ٹی آئی میں انکشاف
۲۰۱۹ء میں، سپریم کورٹ کے پانچ ججوں کی آئینی بنچ نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ دیا تھا کہ بابری مسجد کی پوری زمین، جسے ۱۹۹۲ء میں ہندوتوا تنظیموں نے شہید کر دیا تھا، رام مندر کی تعمیر کیلئے تشکیل دئیے جانے والے ایک ٹرسٹ کے حوالے کر دی جائے۔ اس فیصلے کے فورا بعد، منگلورو ساؤتھ پولیس نے ۱۶؍ نومبر ۲۰۱۹ء کو ایک از خود مقدمہ درج کیا۔ پولیس کے مطابق، ان پوسٹرز میں یہ الزام لگایا گیا تھا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ انصاف سے انکار کے مترادف ہے۔ یہ مقدمہ آئی پی سی کی دفعہ ۱۵۳؍ اے اور ۲۹۵؍ اے کے تحت محمد حنیف نامی شخص اور دیگر کے خلاف درج کیا گیا تھا۔ دعویٰ تھا کہ ان کے پوسٹرز نے ملک میں بدامنی پیدا کی ہے۔
درخواست گزاروں کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل اسماعیل منیب مصباح نے دلیل دی کہ آئین کی دفعہ ۱۹؍ ہر شہری کو اظہارِ رائے کی آزادی کا حق دیتی ہےاور پوسٹرز پر درج نعرے بغاوت کے زمرے میں نہیں آتے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے ۲۰۲۴ء کے فیصلے جاوید احمد حجام بنام مہاراشٹر حکومت کا حوالہ دیا، جس میں عدالت نے آئین ہند کی دفعہ ۱۹؍ (۱) (اے) کے دائرہ کار اور دفعہ ۲۱؍ کے تحت باوقار زندگی گزارنے کے حق پر بحث کی تھی۔ انہوں نے دلیل دی کہ یہ جانچنے کا معیار کہ آیا کوئی الفاظ یا تاثرات بغاوت کے زمرے میں آتے ہیں یا نہیں، مناسب سوچ رکھنے والے افراد کی ایک خاصی تعداد پر ان کے مجموعی اثرات پر منحصر ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ای رکشہ ڈرائیور سلیم، بزرگوں اور طلبہ کو مفت سواری، بدلے میں دعا کی درخواست
مصباح نے مزید دلیل دی کہ قانونی طریقے سے حکومتی فیصلوں کے خلاف اختلافِ رائے کا اظہار کرنا جمہوریت کا حصہ ہے اور یہ آئین ہند کی دفعہ ۱۹؍ (۱) (اے) اور ۲۱؍ کے تحت محفوظ ہے۔ مقدمے کے بیانات کا جائزہ لینے کے بعد، ہائی کورٹ نے پایا کہ پوسٹرز میں صرف سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف آواز اٹھائی گئی تھی۔ عدالت نے کہا، ’’ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے سلسلے میں آواز اٹھائی گئی ہے۔ وہ بھی، استعمال ہونے والا لفظ صرف انصاف کا انکار ہے اور انصاف کیلئے آواز بلند کرنا ہے۔ جب ایسا معاملہ ہو تو یہ آئی پی سی کی دفعہ ۱۵۳؍ اے اور ۲۹۵؍ اے کے تحت جرم کے اجزاء کو اپنی طرف متوجہ نہیں کرے گا۔ ‘‘
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ اگرچہ نعروں سے سپریم کورٹ کے فیصلے سے عدم اطمینان ظاہر ہوتا ہے، ’’تاہم دفعہ ۱۵۳ ؍ اے کا نفاذ کرتے وقت ریاست کے خلاف غداری یا بغاوت کا عنصر موجود ہونا ضروری ہے۔ ‘‘ ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا، ’’صرف اس وجہ سے کہ کچھ افراد میں نفرت یا بدگمانی پیدا ہو سکتی ہے، آئی پی سی کی دفعہ ۱۵۳؍ اے کی ذیلی دفعہ (۱) کے شق (اے) کو لاگو کرنے کیلئے کافی نہیں ہے۔ ‘‘