بحیثیت اداکار اور بطور فلم ساز، عامر خان کی فلمی فہرست میں وقت کے ساتھ بتدریج کمی دیکھی گئی ہے جسے مداح نظر انداز نہیں کر پا رہے۔
EPAPER
Updated: May 18, 2026, 8:02 PM IST | Mumbai
بحیثیت اداکار اور بطور فلم ساز، عامر خان کی فلمی فہرست میں وقت کے ساتھ بتدریج کمی دیکھی گئی ہے جسے مداح نظر انداز نہیں کر پا رہے۔
بحیثیت اداکار اور بطور فلم ساز، عامر خان کی فلمی فہرست میں وقت کے ساتھ بتدریج کمی دیکھی گئی ہے جسے مداح نظر انداز نہیں کر پا رہے۔ وہ اداکار جو کبھی مسلسل ہٹ فلمیں دیتا تھا، اب ایسی فلمیں بنا رہا ہے جن پر ناظرین کی اتنی توجہ نہیں جا رہی۔ تھری ایڈیٹس، پی کے ، تارے زمین پر اور دیگر فلموں نے نئے اور منفرد تصورات پیش کیے اور ناظرین میں تجسس پیدا کیا۔ تاہم اب صورتحال ویسی نہیں رہی، اور وہ خود بھی یہ بات تسلیم کرتے ہیں۔ دراصل وہ یہ ماننے سے نہیں گھبراتے کہ کہیں نہ کہیں ان سے غلطی ہوئی ہے۔
Glad to see #AamirKhan admitting in his LATEST interview EXACTLY what I had observed a few days ago.
— Navneet Mundhra (@navneet_mundhra) May 17, 2026
He`s confessing that he`s TOTALLY out of sync with Marketing trends in the post-pandemic world & doesn`t understand social media at all.
Realisation of the first step towards… https://t.co/tRkEwx1zAg pic.twitter.com/rk5X5a6XML
عامر خان خود کو اجنبی محسوس کرتے ہیں
عامر خان نے حال ہی میں اسکرین اکیڈمی کو انٹرویو دیا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ وقت کے ساتھ بدلتے ہوئے رجحانات کے ساتھ وہ خود کو ہم آہنگ نہیں رکھ سکے۔ سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثر کے ساتھ مارکیٹنگ کے طریقے بھی بدل گئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ’’ مجھے لگتا ہے کہ وقت کے ساتھ بہت کچھ بدل گیا ہے، خاص طور پر سوشل میڈیا آنے کے بعد۔ میں وہ شخص ہوں جو اس دنیا کو بالکل نہیں سمجھتا۔ میں مکمل طور پر اجنبی محسوس کرتا ہوں، میں اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا۔ پہلے مارکیٹنگ نسبتاً آسان تھی کیونکہ آپ کو معلوم ہوتا تھا کہ لوگ ٹی وی دیکھ رہے ہیں، مخصوص چینلز دیکھ رہے ہیں اور آپ وہاں اپنی مارکیٹنگ پیش کرتے تھے جہاں لوگ جمع ہوتے تھے تاکہ وہ اسے دیکھ سکیں لیکن آج یہ جاننا بہت مشکل ہے کہ لوگ کہاں ہیں۔ وہ زیادہ تر واٹس ایپ اور مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بکھرے ہوئے ہیں، اس لیے یہ سب بہت منتشر ہو گیا ہے۔ اسی وجہ سے مارکیٹنگ زیادہ مشکل ہو گئی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:اداکارہ صبا آزاد ’الفا میل‘ کے تصور کو نہیں مانتیں
انہوں نے مزید کہا’’مجھے یاد ہے جب’’قیامت سے قیامت تک‘‘ ریلیز ہوئی تھی، اس وقت پورے ملک میں صرف دوردرشن ایک چینل تھا۔ ہماری مارکیٹنگ یہ تھی کہ ہمارے چار گانے تھے۔ ایک پروگرام ہوتا تھا ’’چھایا گیت‘‘ اور’’چتراہار‘‘۔ اس وقت پروڈیوسرز کو یہ سہولت ملی ہوئی تھی کہ وہ ایک گانا بک کر سکتے تھے۔ ہم نے اپنے چاروں گانے بک کیے تھے، ہر جمعرات کو ایک گانا آتا تھا۔‘‘
انہوں نے مزید وضاحت کی’’ہماری پوری مارکیٹنگ صرف چار گانوں اور چار جمعرات تک محدود تھی کیونکہ ہمیں معلوم تھا کہ پورے ملک نے وہ گانا دیکھا ہے۔ سب نے’’چھایا گیت‘‘دیکھا۔ پھر یہ ناظرین کی مرضی ہوتی تھی کہ وہ فلم دیکھنا چاہتے ہیں یا نہیں، لیکن ہماری مارکیٹنگ سب تک پہنچ چکی ہوتی تھی۔ آج کے دور میں مجھے نہیں معلوم کہ میری مارکیٹنگ کتنے لوگوں تک پہنچ رہی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:کانز ۲۰۲۶ء: ہاویئر بارڈیم کی ٹرمپ، نیتن یاہو، پوتن پر شدید تنقید
انہوں نے آخر میں کہا’’کتنے لوگوں نے میرا اشتہار دیکھا؟ اور کتنے لوگوں نے پورا اشتہار دیکھا؟ اگر کوئی ۱۰؍ سیکنڈ دیکھ لے تو وہ بھی شمار ہو جاتا ہے، لیکن اصل میں جب تک آپ پورا ٹریلر نہیں دیکھتے، تب تک آپ نے وہ نہیں دیکھا۔ آج کے دور میں یہ سب بہت پیچیدہ اور مشکل ہوتا جا رہا ہے اور میں خود کو اس بارے میں سب سے کم جاننے والا شخص سمجھتا ہوں، اس لیے میں خود بھی سیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ اس نئے، بکھرے ہوئے اور پیچیدہ دور میں مارکیٹنگ کیسے کی جاتی ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب انہوں نے ’’قیامت سے قیامت تک ‘‘ جیسی فلموں پر کام شروع کیا تھا تو اس وقت سب کچھ بہت سادہ تھا اور مارکیٹنگ کا مطلب صرف یہ تھا کہ گانے لوگوں تک پہنچا دیے جائیں، کیونکہ یقین ہوتا تھا کہ لوگ انہیں ضرور دیکھیں گے۔ لیکن اب وقت بدل چکا ہے۔