Inquilab Logo Happiest Places to Work

پہلی بار روپیہ ۹۶؍ فی ڈالر کی سطح سے نیچے بند

Updated: May 18, 2026, 10:02 PM IST | New Delhi

ہندوستانی روپے کی قدر میں گراوٹ کا سلسلہ بھی جاری رہا اور تاریخ میں پہلی بار مارکیٹ بند ہونے کے وقت ایک امریکی ڈالر کی قیمت ۹۶؍ روپے سے اوپر درج کی گئی۔

Rupee Down.Photo;INN
روپےمیں گراوٹ۔ تصویر:آئی این این

ہندوستانی روپے کی قدر میں گراوٹ کا سلسلہ پیر کے روز بھی جاری رہا اور تاریخ میں پہلی بار مارکیٹ بند ہونے کے وقت ایک امریکی ڈالر کی قیمت ۹۶؍ روپے سے اوپر درج کی گئی۔انٹربینکنگ کرنسی مارکیٹ میں روپیہ پیر کو۳۹؍ پیسے کی گراوٹ کے ساتھ ۲۰ء۹۶؍روپے فی ڈالر پر بند ہوا، جو کہ اب تک کی نچلی سطح ہے۔ کاروبار کے دوران ایک وقت ایسا بھی آیا جب روپیہ گر کر۳۹۵۰ء۹۶؍ روپے فی ڈالر کی تاریخی نچلی ترین سطح تک پھسل گیا تھا۔
گزشتہ کاروباری دن ہندوستانی کرنسی ۱۷؍ پیسے کے نقصان کے ساتھ۸۱ء۹۵؍ روپے فی ڈالر پر بند ہوئی تھی۔ پیرکی صبح روپیہ ۳۸؍ پیسے کی گراوٹ کے ساتھ  ۱۹ء۹۶؍ روپے فی ڈالر پر کھلا۔ ابتدائی سیشن میں یہ معمولی بہتری کے ساتھ ۱۲ء۹۶؍ روپے تک بھی پہنچا، لیکن بعد میں فروخت کے دباؤ کے باعث دوبارہ گر گیا۔
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ہندوستانی کرنسی پر دباؤ برقرار رہا۔ تاہم، دنیا کی دیگر اہم کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر انڈیکس میں  ۳ء۰؍فیصد کی گراوٹ نے روپے کو مزید گرنے سے بچانے میں کچھ مدد فراہم کی۔

یہ بھی پڑھئے:جنگلی میوزک نے کامیڈی فلم’’ویلکم ٹو دی جنگل‘‘ کا دھماکہ دار ٹائٹل ٹریک ریلیز کر دیا


اس کے ساتھ ہی عالمی آئل بینچ مارک برینٹ کروڈ فیوچرز ٹریڈ میں ۸۳ء۱؍ فیصد اضافے کے ساتھ ۲۶ء۱۱۱؍ امریکی ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا تھا۔ فن ریکس ٹریزری ایڈوائزرس ایل ایل پی   کے ٹریژری ہیڈ اور ایگزیکٹیوڈائریکٹر انیل کمار بھنسالی نے کہاکہ ’’تیل کی قیمتیں۵۰ء۱۱۱؍ امریکی ڈالر فی بیرل سے اوپر جانے کی صورت میں روپے پر سب سے زیادہ اثر پڑے گا کیونکہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے امریکی ڈالر کا آؤٹ فلو بڑھے گا، اور ساتھ ہی غیرملکی سرمایہ کاری  کی وجہ سے پہلے سے جاری آؤٹ فلو میں بھی اضافہ ہوگا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:اسکواش کی تاریخ رقم: ۱۸؍ سالہ آمنہ عرفی نئی ورلڈ چیمپئن بن گئیں


اس دوران، قیمتی دھاتوں پر زیادہ کسٹم ڈیوٹی لگانے کے چند ہی دن بعد، حکومت نے ہفتے کے روز چاندی کی درآمد پر پابندی لگا دی اور اس دھات کو اِن باؤنڈ شپمنٹس کے لیے لائسنس یافتہ نظام کے تحت شامل کر دیا۔حکومت نے ۱۳؍ مئی کو قیمتی دھاتوں سونا اور چاندی  پر درآمدی ڈیوٹی ۶؍ فیصد سے بڑھا کر ۱۵؍ فیصد کر دی تھی۔   یہ اقدام غیر ضروری درآمدات کو روکنے اور فارن ایکسچینج کے آؤٹ فلو کو کنٹرول کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK