• Thu, 05 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ابھیشیک بچن نےفلمی دنیا میں اپنی راہ خود بنائی ہے

Updated: February 05, 2026, 11:24 AM IST | Mumbai

ابھیشیک بچن ۵؍فروری ۱۹۷۶ءکوممبئی میں پیدا ہوئے۔ گھرانہ ایسا تھا جہاں فلم محض پیشہ نہیں بلکہ ایک تہذیب تھی۔ امیتابھ بچن اور جیا بچن جیسے والدین کے درمیان پرورش پانے والا یہ بچہ شروع ہی سے عوامی نگاہوں میں تھا۔

Abhishek Bachchan played all kinds of roles. Photo: INN
ابھیشیک بچن نے ہر طرح کے کردار ادا کئے۔ تصویر: آئی این این

ہندی فلمی دنیا میں کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جو پہچان کے محتاج نہیں ہوتے لیکن انہی ناموں کے سائےبعض اوقات آنے والی نسل کے لیے سب سے کڑا امتحان بن جاتےہیں۔ ابھیشیک بچن کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ ایک ایسا اداکار جو صدی کے عظیم ترین اداکاروں میں شمار ہونے والے امیتابھ بچن کا بیٹا ہونے کے باوجود اپنی شناخت کے لیے برسوں خاموش جدوجہد کرتا رہا۔ اس کی زندگی اور فلمی سفر دراصل اس سوال کا جواب ہے کہ وراثت سہارا بھی بن سکتی ہے اور بوجھ بھی۔ 
ابھیشیک بچن ۵؍فروری ۱۹۷۶ءکوممبئی میں پیدا ہوئے۔ گھرانہ ایسا تھا جہاں فلم محض پیشہ نہیں بلکہ ایک تہذیب تھی۔ امیتابھ بچن اور جیا بچن جیسے والدین کے درمیان پرورش پانے والا یہ بچہ شروع ہی سے عوامی نگاہوں میں تھا، مگر اس کی فطرت میں بچپن ہی سے ایک طرح کی سنجیدگی اور خاموشی نظر آتی تھی۔ بچپن میں انہیں ڈسلیکسیا نامی بیماری کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ سے سیکھنے میں مشکلات پیش آئیں، مگر انہوں نے اسے پار پاتے ہوئے امریکی یونیورسٹی میں بزنس مینجمنٹ کی تعلیم حاصل کی۔ خاندانی فلمی ماحول نے ان کا رجحان اداکاری کی طرف موڑ دیا، حالانکہ ابتدائی طور پر انہوں نے بزنس کی طرف قدم رکھنے کا سوچا تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے: فلمی شائقین کو پی وی آر کا تحفہ ، سلمان خان کی ’’تیرے نام‘‘ دوبارہ ریلیز کی جائے گی

ابھیشیک نے۲۰۰۰ءمیں جےپی دتہ کی فلم ’ریفیوجی‘سے فلمی سفر کا آغاز کیا، جس میں ان کے مقابل کرینہ کپور بھی نئی تھیں، مگر فلم کو کامیابی نہ ملی۔ ان کی جدوجہد جاری رہی، لیکن۲۰۰۴ءکی ’دھوم‘نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا، جہاں ان کے کردار نے ناظرین کومسحور کر دیا۔ اس کے بعد ’یوا‘، ’بنٹی اور ببلی‘اور’سرکار‘جیسی فلموں میں ان کےمعاون کرداروں نے فلم فیئر ایوارڈز دلائے۔ 
۲۰۰۵ء سے ۲۰۰۷ءکا دور ابھیشیک کا سنہری دور تھا، جہاں ’بلف ماسٹر‘، ’کبھی الوداع نہ کہنا‘، ’دھوم۲‘اور’گرو‘جیسی بلاک بسٹر فلموں نے انہیں بہترین اداکار کے اعزاز سے نوازا۔ ’گرو‘میں ان کا دھیروبھائی امبانی پر مبنی کردار ناقدین نے سراہا۔ بعد میں ’دھوم ۳‘ (۲۰۱۳)، ’بول بچن(۲۰۱۲ء)‘ اور’ہاؤس فل۳‘جیسی فلموں نے ان کی مزاحیہ اور ایکشن صلاحیتوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے پروڈکشن میں بھی قدم رکھا اور’پا‘جیسی شاندار فلم بنائی۔ 
سال۲۰۰۷ءمیں ابھیشیک بچن کی شادی ایشوریا رائےسے ہوئی، جو خود ایک عالمی شہرت یافتہ اداکارہ ہیں۔ اس شادی نے انہیں ایک بار پھر غیر معمولی میڈیا توجہ کا مرکز بنا دیا، مگر ابھیشیک نے ذاتی زندگی کو ہمیشہ وقار کے دائرے میں رکھنے کی کوشش کی۔ بیٹی آرادھیا کی پیدائش کے بعد ان کے رویے میں مزید سنجیدگی اور ٹھہراؤ نظر آیا۔ 
وقت کے ساتھ ابھیشیک بچن نے یہ سمجھ لیا کہ بدلتی ہوئی فلمی دنیا میں خود کو نئے سانچوں میں ڈھالنا ضروری ہے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے ویب سیریز اور مختلف النوع کرداروں کی طرف رخ کیا۔ بریتھ: ان ٹو دی شیڈو، لوڈو اور دسویں جیسے منصوبوں میں ان کی اداکاری نے ایک بار پھر ناقدین کو چونکایا اور یہ ثابت کیا کہ ابھیشیک آج بھی سیکھنے اور خود کو بہتر بنانے کے عمل میں ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں فلم گھومر اور ’آئی وانٹ ٹو ٹاک‘ جیسی فلموں کیلئے بھی کافی سراہا گیا۔ انہیں اب تک ۴؍مرتبہ فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا جاچکاہے جبکہ ان کی پروڈیوس کردہ فلم’پا‘کیلئے انہیں بیسٹ ہندی فیچر فلم کا نیشنل فلم ایوارڈ دیا گیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK