شمی اُن اداکاراؤں میں شمار ہوتی ہیں جنہوں نےہیروئن سے لے کر کیرکٹر آرٹسٹ تک ہر کردار کو وقار اور خلوص کے ساتھ نبھایا۔ ان کا کریئر اس بات کی مثال ہےکہ محنت، استقامت اور فن سے لگاؤ انسان کو طویل عرصے تک کامیاب رکھتا ہے۔
اداکارہ شمی۔ تصویر:آئی این این
شمی اُن اداکاراؤں میں شمار ہوتی ہیں جنہوں نےہیروئن سے لے کر کیرکٹر آرٹسٹ تک ہر کردار کو وقار اور خلوص کے ساتھ نبھایا۔ ان کا کریئر اس بات کی مثال ہےکہ محنت، استقامت اور فن سے لگاؤ انسان کو طویل عرصے تک کامیاب رکھتا ہے۔وہ اپنی سادہ اداکاری، نرم لہجے اورمضبوط اسکرین موجودگی کے باعث ہدایتکاروں کی پسندیدہ فنکارہ سمجھی جاتی تھیں۔
بالی ووڈ میں دادی نانی اور ماں کے بہترین کردار ادا کرنےوالی شمی کی پیدائش بمبئی کے ایک پارسی گھرانے میں۲۴؍ اپریل ۱۹۲۹ء کوہوئی تھی۔ شمی کا حقیقی نام نرگس ربادی تھا۔بالی ووڈ میںانہیںشمی یا شمی آنٹی کے نام سے پکاراجاتاتھا۔جب ان کی عمر محض۳؍سال تھی ، ان کے والدکا انتقال ہوگیا تھا۔ والد کے انتقال کے بعد ان کی والدہ پارسیوں کی مذہبی تقریبات میںکھانا پکاکرگزارا کرتی تھیں۔اس وقت کے مشہور اداکار اور ہدایت کاراور ان کے رشتہ دار چنو ماما کے دوست شیخ مختار،شمی کے بات کرنے کے انداز سے کافی متاثر ہوئے اور انہیںاپنی فلم میں ۵۰۰؍روپےماہانہ پر۳؍ سال کے معاہدے کے ساتھ رکھ لیا اور انہیں تلقین کی کہ وہ میری جازت کےبغیرکسی دوسری فلم میں کام نہ کریں۔اس فلم کےڈائریکٹر تارا ہریش تھے۔ چونکہ فلموںمیںنرگس نام سےایک اداکارہ پہلے سے ہی موجودتھیں اس لئےانہیںشمی کا نام دیاگیا۔ان کی پہلی فلم ’استاد پیڈرو‘تھی جو ۱۹۵۱ءمیںریلیز ہوئی۔یہ فلم باکس آفس پر کامیاب ثابت ہوئی۔ استادپیڈروکےبعد تارا ہریش فلم ملہار بنا رہے تھے۔ انہوں نےشمی کو اس فلم میں مین لیڈ رول دینے کی آفرکی۔چونکہ استاد پیڈرو کے دائرکٹر بھی تارا ہریش تھے اس لئے شیخ مختار نے شمی کو اس فلم میں کام کرنے کی اجازت دےدی۔اس فلم کے بعدسےشمی فلموں میں شناخت بنانے میں کامیاب ہوچکی تھیں۔ملہار کا نغمہ ’بڑے ارمانوں سے رکھا ہے بلم تیری قسم‘آج بھی کافی مقبول ہے۔ ملہار کے بعد انہیں فلموں میں معاون اداکارہ کے کافی سارےکردار ملنے لگے اور وہ اچھے کرداروںکاانتخاب کرتی گئیں۔انہوں نے ہیروئن کے رول کے ساتھ منفی، مزاحیہ اور سنجیدہ کردار ادا کئے۔ ان کی مشہور فلموں میں الزام(۱۹۵۴ء)، پہلی جھلک (۱۹۵۵ء)،بندش (۱۹۵۵ء)، آزاد (۱۹۵۵ء)، سن آف سندباد(۱۹۵۵ء)، ہلاکو(۱۹۵۶ء)، راج تلک (۱۹۵۸ء)، خزانچی(۱۹۵۸ء)، گھر سنسار(۱۹۵۸ء)، آخری داؤ (۱۹۵۸ء)، نگن(۱۹۵۹ء)، بھائی بہن (۱۹۵۹ء)،دل اپنا پریت پرائی (۱۹۶۰ء)وغیرہ شامل ہیں۔
وقت کےساتھ وہ فلموںمیں ہیروئن پھر معاون اداکارہ اور اس کی بعدماں دادی، نانی کے کرداروں میں نظرآنے لگیں۔بطوردادی نانی ان کی مشہورفلمیںہم، مردوں والی بات، گورَو،دل، قلی نمبرون، گوپی کشن، ہم ساتھ ساتھ ہیں اور امتحان شامل ہے۔ انہوں نے مختلف ادوارکےبڑے اداکاروں کے ساتھ کام کیا اور ہر زمانے کے سینما میں خود کو ڈھالا۔فلموںکےعلاوہ انہوں نے چھوٹی اسکرین پربھی اداکاری کےجوہردکھائے۔ ۱۹۸۶ءکےدوران راجیش کھنہ دوردشن کے لئے ایک ٹیلی ویژن سیریز بنا رہے تھے۔ اس دوران انہوں نے کچھ ایپی سوڈ میں شمی کو کام کرنےکا موقع دیا۔ ٹی وی پر دکھائے والےان کے مزاحیہ سیریل دیکھ بھائی دیکھ، زبان سنبھال کے، شریمان شریمتی، کبھی یہ کبھی وہ اور فلمی چکر کافی مشہور ہوئے۔مختلف قسم کے کردار ادا کرنے والی شمی کا ۶؍ مارچ ۲۰۱۸ءکو انتقال ہوگیا۔