Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’میں دوسروں کو نہیں دیکھتا، صرف اپنے کام پر توجہ دیتا ہوں‘‘

Updated: August 30, 2026, 4:56 PM IST | Abdul Karim Qasim Ali | Mumbai

ٹی وی اور فلم اداکار آدتیہ کھرانہ کا کہنا ہےکہ جب میں ٹی وی شوز سے فارغ ہوتا ہوں تو ورٹیکلز کی طرف متوجہ ہوجاتا ہوں کیونکہ میں خود کو ہمیشہ مصروف رکھنا چاہتا ہوں۔

TV and film actor Aditya Khurana. Photo: INN
ٹی وی اور فلم اداکار آدتیہ کھرانہ۔ تصویر: آئی این این

آدتیہ کھرانہ اداکار، ماڈل اور کنٹینٹ کریئیٹر ہیں۔ ان کا تعلق پونےسے ہے۔ وہ پونے ہی میں پیدا ہوئے اور وہیں ان کی پرورش ہوئی۔ وہ ماڈلنگ اور بین الاقوامی پیجینٹ کے بعد اداکاری کے شعبے میں آئے ہیں اور حالیہ برسوں میں ٹیلی ویژن پر اچھا کام کررہے ہیں۔ ان کا تعلق ایک متوسط طبقے کے خاندان سے ہے۔ ابتدا میں ان کے خاندان کی خواہش تھی کہ وہ اداکاری کے بجائے کوئی دوسرا کریئر اختیار کریں، تاہم آدتیہ نے اداکاری کے اپنے خواب کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیاا ور ماڈلنگ سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا۔ ان کے ابتدائی نمایاں پروجیکٹس میں ’’لو ایکس سوسائٹی‘‘ اور ’’دی ریج : اوور جسٹس ‘‘ شامل ہیں۔ آدتیہ کو سب سے زیادہ شہرت مین آف دی ورلڈ ۲۰۲۲ء مقابلے میں ہندوستان کی نمائندگی اور ٹائٹل جیتنے کے بعد ملی۔ وہ اس مقابلے میں ہندوستان سے یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے شخص بنے۔ اس کامیابی نے انہیں ماڈلنگ اور تفریحی صنعت میں مزید شناخت دلائی اور ان کے اداکاری کے کریئر کو بھی فائدہ پہنچا۔ ۲۰۲۶ء میں آدتیہ نے ٹیلی ویژن پر بھی قدم رکھا۔ وہ ’’کیونکہ رشتوں کے بھی روپ بدلتےہیں ‘‘ میں گوپو نامی کردار ادا کر رہے ہیں ۔ انقلاب نے ان سے گفتگو کی جسے یہاں پیش کیا جارہا ہے:
سب سے پہلے یہ جاننا چاہوں گا کہ اس وقت آپ کن شوز یا پروجیکٹس میں مصروف ہیں ؟ آج کل کیا کر رہے ہیں ؟
ج: فی الحال میں اسٹار پلس کیلئے ایک ٹیلی ویژن شو کر رہا ہوں جس کا نام ’’کیونکہ رشتوں کے بھی روپ بدلتے ہیں ‘‘ہے۔ اس شو میں میں ایک نوجوان کا رول اداکررہا ہوں جس کانام گوپو ہے۔ اس کے ساتھ ہی جب بھی مجھے چھٹیاں ملتی ہیں تو ایک دو دن کیلئے میں ورٹیکلز کرنے میں مصروف ہوجاتاہوں۔ اسی طرح سے میں خود کو کام میں مصروف رکھنے کی کوشش کرتا رہتاہوں۔ 
کیا آپ اس کردار کے بارے میں کچھ تفصیل بتا سکتے ہیں ؟
ج: اگر آپ پورا شو دیکھیں گے تو آپ مجھے پورے شو میں دیکھیں گے۔ میرے کردار کے بارے میں بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو کہانی کے ساتھ ساتھ سامنے آئیں گی، اسلئے میں ابھی اس کی زیادہ تفصیلات ظاہر نہیں کرنا چاہوں گا۔ ناظرین شو دیکھیں گے تو اس کردار کے بارے میں خود بہت کچھ جان سکیں گے۔ 
آپ کس طرح کے کردار کرناپسند کرتے ہیں ؟ کیا آپ نے کوئی خاص معیار طے کیا ہے؟ یعنی صرف اچھا اور اہم رول کرنا ہے یا کسی خاص قسم کے کردار ہی آپ کی ترجیح ہیں ؟
ج:سچ کہوں تو میں نے اس بارے میں کبھی اتنا نہیں سوچا۔ میں نے آپ کو پہلے بھی بتایا ہے کہ میرا مقصد کبھی یہ نہیں تھا کہ مجھے صرف ہیرو بننا ہے۔ یقیناً ہر کسی کو ہیرو بننا ہوتا ہے اور مجھے بھی اچھے اور اہم کردار کرنے ہیں، لیکن میرے ذہن میں کبھی ایسا کوئی خاص مقصد نہیں رہا کہ مجھے صرف ہیرو ہی کا کردار کرنا ہے۔ میرا اصل مقصد ہمیشہ اداکاری رہا ہے۔ میں جو بھی کام کروں، میری کوشش یہی ہوتی ہے کہ اسے بہترین طریقے سے کروں۔ جب کوئی میرا کام دیکھے تو اسے محسوس ہونا چاہیے کہ یار، مزہ آ گیا، دیکھ کر ہی مزہ آ گیا۔ میرے لیے یہی سب سے اہم بات ہے۔ کردار ہیرو کا ہو، سپورٹنگ ہو یا کسی اور نوعیت کا، میرے لیے یہ چیز زیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔ اگر کردار اچھا ہے اور مجھے اس میں اپنی اداکاری دکھانے کا موقع مل رہا ہے تو میں اسے کرنے میں دلچسپی رکھتا ہوں۔ 
ورٹیکلز ویڈیوز یا ورٹیکل شوز کے بارے میں پوچھنا چاہوں گا۔ آپ کا تجربہ کیسا رہا؟ اگر ٹی وی اور ورٹیکل فارمیٹ کا موازنہ کریں تو دونوں میں کیا فرق محسوس ہوتا ہے؟
ج:ٹی وی اور ورٹیکل فارمیٹ میں بہت زیادہ فرق نہیں ہے۔ دونوں میں کافی بھاگ دوڑہوتی ہے۔ جب ہم ویب شوز وغیرہ کرتے ہیں اور ان کی شوٹنگ ہوتی ہے تو وہ نسبتاً زیادہ ریلیکسڈ شوٹ ہوتا ہے۔ وہاں ایسا نہیں ہوتا کہ آج ہی اتنا کام ختم کرنا ہے۔ ہمارے پاس شوٹ مکمل کرنے کیلئے زیادہ دن ہوتے ہیں، اس لیے کام نسبتاً آرام سے کیا جاتا ہے، لیکن جب ہم ورٹیکل یا ٹیلی ویژن کی شوٹنگ کرتے ہیں تو ہر روز کا ایک مخصوص منصوبہ ہوتا ہے۔ ہمیں پہلے سے معلوم ہوتا ہے کہ آج کتنا کام مکمل کرنا ہے اور کتنے مناظر شوٹ کرنے ہیں۔ خاص طور پر ورٹیکل فارمیٹ میں بجٹ اور وقت دونوں محدود ہوتے ہیں۔ اگر آپ کے پاس صرف چند دن ہیں اور آپ مقررہ وقت میں شوٹ مکمل نہیں کرتے تو پروڈکشن اوور بجٹ ہوسکتاہے۔ اسی لیے اس فارمیٹ میں پوری ٹیم کو بہت تیزی سے کام کرنا پڑتا ہے۔ اداکاروں، ڈائریکٹر اور باقی تکنیکی ٹیم سب کو وقت کا خاص خیال رکھنا ہوتا ہے۔ میرے خیال میں ورٹیکل فارمیٹ کا یہی سب سے بڑا چیلنج ہے کہ کم وقت اور محدود بجٹ میں زیادہ سے زیادہ کام مکمل کرنا ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: پینٹل ’ہیرو‘ نہیں تھے لیکن ان کے کردار اہم ہوتے تھے

کیا آپ نے اداکاری کی باقاعدہ ٹریننگ حاصل کی ہے؟
ج:جی ہاں !میں نے باقاعدہ اداکاری کی ٹریننگ لی ہے۔ اس کے ساتھ ہی میں نے مراٹھی زبان کے اسٹیج شوز میں بھی شرکت کی ہے۔ مراٹھی کے اسٹیج شوز میں شرکت کرنے سے میری اداکاری کی صلاحیت میں بہتری آئی۔ میں نے مراٹھی زبان کے ڈراموں میں کام کرکے اپنی صلاحیتوں کوزیادہ بہتر کیا ہے۔ 
شوبز انڈسٹری میں داخلہ کس طرح ممکن ہوا؟
ج: میں نے پہلے ہی طے کرلیا تھا کہ مجھے شوبز انڈسٹری سے وابستہ ہوناہے۔ دراصل میں نے ایونٹ مینجمنٹ سے اپنا کریئر شروع کیا تھا۔ پھر اسی پیشے سے مجھے ماڈلنگ کی راہ ملی۔ ماڈلنگ کرنے کے ساتھ ہی مجھے اداکاری کے شعبے میں بھی داخلہ مل گیا۔ ایونٹ مینجمنٹ کی ملازمت کے دوران میرے ساتھیوں نے کہاکہ میں دیگر اداکاروں کیلئے ایونٹ کا انعقاد کرتاہوں تو خود ہی اس شعبے سے کیوں وابستہ نہیں ہوجاتا۔ ساتھیوں کی حوصلہ افزائی کی وجہ سے میں اداکاری کے شعبے سے وابستہ ہوا۔ 
مقابلہ آرائی کے دور میں خود کو کس طرح برقرار رکھتے ہیں ؟
ج: میں کبھی یہ نہیں دیکھتا کہ کون کیسا کام کررہا ہے، بلکہ میں یہ دیکھتا ہوں کہ میں اپنا کام کس طرح کررہاہوں، کیا میں اس کے ساتھ انصاف کررہاہوں۔ کیا میں اپنے کام کو بہتر طریقے سے انجام دے رہاہوں۔ اگر میں دوسروں کے کام کو دیکھوں گا تو اپنا کام اچھا نہیں کرسکوں گا۔ میں یہی دیکھتاہوں کہ میں نے بہتر کام کیا ہے یا نہیں ۔ 
آپ کس سے متاثر ہوکر اداکاری کے شعبے میں آئے تھے؟
ج: حقیقت میں میں غریبی سے متاثر ہوکر اداکاری کے شعبے سے وابستہ ہوا تھا۔ میں متوسط طبقہ کے خاندان سے تعلق رکھتا ہوں اور میری یہی کوشش تھی کہ میں غریبی کی دلدل سے جلد سے جلد باہر نکل جاؤں ۔ اسی دلدل سے باہر نکلنے کی سوچ سے مجھے شوبز انڈسٹری میں بہتر اداکار بنا دیا۔ آج بھی میں یہی کوشش کرتاہوں کہ زیادہ سے زیادہ کام کرتے ہوئے اپنے حالات کو بہتر کروں۔ میں نے ایک وقت ورٹیکلز کیلئے مسلسل ۲۔ ۳؍ دنوں تک کام کیاہے۔ میں ہمیشہ خود کو مصروف رکھنے میں یقین رکھتاہوں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK