ہندوستانی فلمی دنیا میں ایسے فن کاروں کی ایک پوری نسل رہی ہےجنہوں نے کبھی پردۂ سیمیں پر مرکزی ہیرو بن کر شہرت حاصل نہیں کی، لیکن ان کے بغیر فلم مکمل بھی محسوس نہیں ہوتی تھی۔
EPAPER
Updated: August 22, 2026, 12:13 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai
ہندوستانی فلمی دنیا میں ایسے فن کاروں کی ایک پوری نسل رہی ہےجنہوں نے کبھی پردۂ سیمیں پر مرکزی ہیرو بن کر شہرت حاصل نہیں کی، لیکن ان کے بغیر فلم مکمل بھی محسوس نہیں ہوتی تھی۔
ہندوستانی فلمی دنیا میں ایسے فن کاروں کی ایک پوری نسل رہی ہےجنہوں نے کبھی پردۂ سیمیں پر مرکزی ہیرو بن کر شہرت حاصل نہیں کی، لیکن ان کے بغیر فلم مکمل بھی محسوس نہیں ہوتی تھی۔ یہ فن کار بڑے ستاروں کے ساتھ اس طرح گھل مل جاتے تھے کہ چند منٹ کے کردار میں بھی اپنی الگ شناخت چھوڑ جاتے۔ کنورجیت پینٹل، جو عموماً صرف پینٹل کے نام سے جانے جاتے ہیں، بھی اسی سنہری دورکے اہم فن کار ہیں۔۵؍دہائیوں سے زیادہ پر محیط ان کے کریئرمیں فلمیں، ٹیلی ویژن، تھیٹر اور اداکاری کی تدریس سبھی شامل رہے ہیں۔ ۲۰۲۶ء تک ان کے فلمی سفر میں۳۵۰؍سےزیادہ فلموں کا ذکر کیا جاتاہے، لیکن اس طویل عرصے کے باوجود ان کی شہرت ہمیشہ شور و غوغا سے زیادہ ان کے کام کی بنیاد پر رہی۔
یہ بھی پڑھئے:’تیرے نام‘ کی بھومیکا چائولہ نے کئی فلموں سے شہرت پائی
کنورجیت سنگھ پینٹل ۲۲؍ اگست ۱۹۴۸ءکوپنجاب کے ترن تارن میں ایک سکھ خاندان میں پیدا ہوئے۔ان کی ابتدائی زندگی دہلی کے صدر بازار میں گزری۔ ان کے بڑے بھائی گوفی پینٹل بھی معروف اداکارتھے۔کنورجیت پینٹل کی دلچسپی ابتدا ہی سے اداکاری میں تھی، لیکن انہوں نےمحض شوق کی بنیاد پر فلمی دنیا میں قدم نہیں رکھا بلکہ باقاعدہ تربیت حاصل کی۔ انہوں نے فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا(ایف ٹی آئی آئی)،پونے سے اداکاری کی تعلیم حاصل کی۔ ۱۹۶۹ءمیںوہ بمبئی، یعنی موجودہ ممبئی پہنچے اور اپنے فلمی سفر کا باقاعدہ آغاز کیا۔ بعد میں انہیں اسی ادارے میں اداکاری کی تدریس اور شعبۂ اداکاری سے بھی وابستہ ہونے کا موقع ملا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی شناخت صرف ایک اداکار کی نہیں بلکہ اداکاری کے استاد کی بھی رہی ہے۔
۱۹۷۲ءان کے کریئرکیلئےخاص اہمیت رکھتا ہے۔ اسی سال وہ ’باورچی‘، ’پیا کا گھر‘، ’پریچئے‘، ’جوانی دیوانی‘ اور ’جنگل میں منگل‘ جیسی فلموں میں نظر آئے۔ یہ ایک ایسا دور تھا جب ہدایت کار ہریشیکیش مکھرجی، گلزار، بسو چٹرجی جیسے فلم ساز اپنی فلموں میں مزاح کو کہانی کے اندر اس طرح شامل کرتے تھے کہ وہ محض قہقہہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں رہتا تھا۔ پینٹل ایسے ہی ماحول میں پروان چڑھے۔
یہ بھی پڑھئے:کُبریٰ سیٹھ نے ’’فرضی ۲‘‘کی شوٹنگ شروع کی، سائرہ کے کردار میں نظرآئیں گی
اسی دور میں ’روٹی‘، ’کھوٹےسکے‘، ’ہیرا پنا‘، ’رفو چکر‘، ’ڈھولک‘، ’کورا بدن‘ اور دیگر فلموں میں بھی ان کی موجودگی دیکھی گئی۔ وہ عموماً فلم کے مرکزی کرداروں کے درمیان ایک ایسی کڑی بن جاتے تھے جو کہانی کوہلکاپھلکابنادیتی اور ناظرین کو جذباتی بوجھ سے چند لمحوں کے لیے راحت دیتی۔وقت گزرنے کے ساتھ پینٹل نے خود کو صرف کامیڈی تک محدود نہیں رکھا۔انہوں نے سنجیدہ اور کردارپر مبنی رول بھی کیے۔ فلمی دنیامیں یہ ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے، کیونکہ جب کسی اداکار کی شناخت کسی ایک مخصوص صنف سے وابستہ ہوجائے تو ناظرین اسے دوسری شکل میں قبول کرنے میں وقت لیتے ہیں۔
۱۹۸۰ءاور ۱۹۹۰ءکی دہائی میں ٹیلی ویژن ہندوستانی گھروں میںتیزی سے داخل ہوا اور پینٹل نے اس نئے میڈیم کو بھی فوراً اپنالیا۔ ’وکرم اور بیتال‘، ’دال میں کالا‘، ’مہابھارت‘، ’جے ماتا دی‘ اور بعدکے کئی سیریلز میں انہوں نے مختلف کردار ادا کیے۔