Updated: May 11, 2026, 7:08 PM IST
| New Delhi
مغربی ایشیا کے بحران کے پیش نظر وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے عوام سے ایندھن بچانے، سونا نہ خریدنے اور غیر ملکی دوروں سے گریز کرنے کی اپیل کے درمیان حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ اپیل ملک پر معاشی بوجھ کم کرنے کے لیے کی گئی ہے اور ملک میں خام تیل، رسوئی گیس یا کسی بھی دوسرے ایندھن کی کوئی کمی نہیں ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی۔ تصویر: آئی این این
مغربی ایشیا کے بحران کے پیش نظر وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے عوام سے ایندھن بچانے، سونا نہ خریدنے اور غیر ملکی دوروں سے گریز کرنے کی اپیل کے درمیان حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ اپیل ملک پر معاشی بوجھ کم کرنے کے لیے کی گئی ہے اور ملک میں خام تیل، رسوئی گیس یا کسی بھی دوسرے ایندھن کی کوئی کمی نہیں ہے۔
وزارت پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی جوائنٹ سکریٹری سجاتا شرما نے پیر کو یہاں مختلف وزارتوں کے حکام کے ساتھ پریس کانفرنس میں مغربی ایشیا کے بحران سے پیدا ہونے والی صورتحال کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کیں۔شرما نے کہا کہ وزیر اعظم نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مشکل وقت میں توانائی کے تحفظ کے تمام ممکنہ اقدامات کریں اور الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دیں تاکہ ملک پر مسلسل بڑھتے ہوئے معاشی بوجھ کو کم کیا جا سکے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ملک میں خام تیل سمیت ہر قسم کے ایندھن کا وافر ذخیرہ موجود ہے اور کسی بھی پیٹرول پمپ یا گیس ڈسٹری بیوشن کمپنی سے کسی قسم کی قلت کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: صرف سرورز یا چِپس سے نہیں، انسانی وسائل سے ذہانت کا دوربنے گا: اڈانی
انہوں نے بتایا کہ آبنائے ہرمز کا بند ہونا دنیا کی توانائی کی فراہمی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، جہاں سے دنیا کی ۲۰؍ فیصد توانائی فراہم کی جاتی ہے اور اس سے ہندوستان بھی متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے کئی مؤثر اقدامات کیے ہیں اور گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی یقینی بنائی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان میں ۴۰؍ فیصد خام تیل اور۹۰؍ فیصد ایل پی جی درآمد کی جاتی ہے اور حکومت نے تمام ریفائنریوں کو ایل پی جی کی پیداوار بڑھانے کی ہدایت دے رکھی ہے۔ شرما نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ایل پی جی اور پی این جی کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کمپنیاں مہنگی توانائی خرید کر ملک میں سستی فروخت کر رہی ہیں جس سے ان پر معاشی دباؤ پڑ رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک میں فی الحال پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں مستحکم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی اپیل کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے کہ توانائی کی بچت کے ذریعے معاشی بوجھ کو کیسے کم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ گھبراہٹ میں خریداری نہ کریں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فی الحال کسی بھی شعبے کے لیے کسی پیکیج کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ حکام نے کہا کہ وزیر اعظم کی اپیل کو اسی جذبے کے تحت سمجھا جانا چاہیے، جس کا مطلب مشکل وقت میں دستیاب وسائل کا صحیح استعمال ہے، نہ کہ یہ کہ ملک میں ان چیزوں کی شدید قلت ہے۔
یہ بھی پڑھئے: زراعت میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے لامحدود فوائد
وزارت بندرگاہ، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی جانب سے بتایا گیا کہ مغربی ایشیا کے خطے میں اب بھی ہندوستانی پرچم والے ۱۳؍ جہاز موجود ہیں اور انہیں محفوظ طریقے سے واپس لانے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے، حکومت ان جہازوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ کھاد کی وزارت نے بھی واضح کیا کہ ملک میں کھاد کی کوئی کمی نہیں ہے اور صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔