Inquilab Logo Happiest Places to Work

متھرا، یوپی: ہندو مذہبی لیڈر کا ادھیک ماس میلے میں مسلم تاجروں پر پابندی کا شر انگیز مطالبہ

Updated: May 11, 2026, 9:59 PM IST | Lucknow

ہندو مذہبی لیڈر نے مطالبہ کیا کہ اس تقریب میں صرف ”سناتنی“ تاجروں کو کاروبار کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس کیلئے انہوں نے تمام دکانداروں کی شناخت کی لازمی تصدیق کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے خط میں ”تھوک جہاد“ جیسی متنازع اصطلاحات کا حوالہ بھی دیا اور ”لو جہاد“ کے خدشات سمیت میلے کے دوران ممکنہ سیکوریٹی خطرات کا مسئلہ بھی اٹھایا۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

اتر پردیش میں ایک ہندوتوا مذہبی تنظیم کی جانب سے متھرا ضلع کے شہر گووردھن میں ہونے والے ’ادھیک ماس‘ میلے میں مسلم تاجروں اور دکانداروں کی شرکت پر پابندی کے مطالبے کے بعد تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ ’شری کرشنا جنم بھومی سنگھرش نیاس‘ کے صدر پنڈت دنیش فلہاری مہاراج نے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے نام لکھے گئے ایک خط میں یہ مطالبہ کیا ہے۔

اپنے خط میں فلہاری مہاراج نے گووردھن پہاڑی کے دامن میں منعقد ہونے والے ایک ماہ پر محیط مذہبی میلے کے دوران مسلم دکانداروں پر پابندی عائد کرنے کی درخواست کی ہے۔ ادھیک ماس میلے میں ملک بھر سے لاکھوں عقیدت مند آتے ہیں اور یہ میلہ سیکڑوں مقامی تاجروں کے روزگار کا ذریعہ ہے۔ میلے میں کھانے پینے کے اسٹالز، پھول فروش اور چھوٹے دکاندار شرکت کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: بنگال میں الیکشن کے بعد تشدد میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا

فلہاری مہاراج نے اپنے خط میں الزام لگایا کہ مسلم تاجر ”اپنی شناخت اور حلیہ بدل کر“ میلے میں داخل ہوتے ہیں اور کھانے پینے کے اسٹالز، پرساد کی دکانوں اور پھولوں کے ہاروں سے منسلک کاروبار میں شامل ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس طرح کی شرکت سے ہندوؤں کے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ انہوں نے خط میں ”تھوک جہاد“ جیسی متنازع اصطلاحات کا حوالہ بھی دیا اور ”لو جہاد“ کے خدشات سمیت میلے کے دوران ممکنہ سیکوریٹی خطرات کا مسئلہ بھی اٹھایا۔ 

ہندو مذہبی لیڈر نے مطالبہ کیا کہ اس تقریب میں صرف ”سناتنی“ تاجروں کو کاروبار کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس کیلئے انہوں نے تمام دکانداروں کی لازمی شناخت کی تصدیق کا مطالبہ کیا۔ فلہاری مہاراج نے اپنے خط میں مزید لکھا ہے کہ ”میلے کو پاکیزہ، پرامن اور محفوظ رہنا چاہئے۔ دیگر برادریوں کے لوگوں کو سناتن دھرم کی مذہبی روایات میں مداخلت کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔“

یہ بھی پڑھئے: آندھرا پردیش: کڑپہ ضلع میں چوک کے نام کی تبدیلی پر تنازع کے بعد کشیدگی

اس مطالبے پر مسلم گروپوں، مقامی تاجروں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی جانب سے سخت ردِعمل سامنے آیا ہے، جنہوں نے اسے امتیازی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کیلئے نقصان دہ قرار دیا۔ متھرا کے ایک مسلم تاجر نے بتایا کہ مختلف برادریوں کے خاندان نسلوں سے ہندو میلوں اور بازاروں میں شرکت کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے اس تجویز پر مسلمانوں کو غیر منصفانہ طور پر نشانہ بنانے کا الزام لگایا۔ ایک اور تاجر نے زور دیا کہ معاشی سرگرمیوں اور روزگار کو مذہبی خطوط پر تقسیم نہیں کیا جانا چاہئے کیونکہ بہت سے غریب خاندان آمدنی کیلئے ان موسمی میلوں پر انحصار کرتے ہیں۔

سماجی کارکنان نے خط میں استعمال کی گئی زبان پر تنقید کی اور خبردار کیا کہ ایسے مطالبات برادریوں کے درمیان بداعتمادی کو مزید گہرا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ حکومتی نگرانی میں منعقد ہونے والے عوامی میلوں میں عام طور پر شہریوں کو محض مذہب کی بنیاد پر خارج نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی کسی بھی پابندی کو آئینی جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دوسری جانب، اس تجویز کے حامیوں نے اس مطالبے کا دفاع کرتے ہوئے دلیل دی ہے کہ ہندو مذہبی تقریبات کو ہندو منتظمین اور روایات کے کنٹرول میں رہنا چاہئے۔

یہ بھی پڑھئے: پرواز میں جے شری رام کے نعرے لگائے گئے، مہوا موئترا نے ہراسانی کا الزام عائد کیا

اس مطالبے کے حوالے سے اتر پردیش حکومت یا متھرا کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اب تک کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK