Updated: May 11, 2026, 9:35 PM IST
| Queensland
کوئنز لینڈ کی مسجد تقویٰ میں نمازیوں کو مبینہ طور پر اے کے ۴۷؍ سے گولی مارنے کی دھمکی دینے کے واقعے نے آسٹریلیا بھر میں شدید ردعمل پیدا کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق ایک شخص بالڈ ہلز مسجد (مسجد تقویٰ) میں داخل ہوا اور نمازیوں کو دھمکاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کی گاڑی میں اسلحہ موجود ہے۔ بعد ازاں پولیس نے ۳۳؍ سالہ شخص کو گرفتار کر کے اس پر عوامی خوف پھیلانے اور عبادت گاہ میں خلل ڈالنے کے الزامات عائد کیے۔
آسٹریلیا کی شمال مشرقی ریاست کوئنز لینڈ میں ایک مسجد کے اندر نمازیوں کو مبینہ طور پر اے کے ۴۷؍ سے حملے کی دھمکی دینے کے واقعے نے ملک بھر میں شدید تشویش اور مذمت کو جنم دیا ہے۔ واقعہ اتوار کو Bald Hills Mosque میں پیش آیا، جہاں ایک شخص نے مبینہ طور پر مسجد میں داخل ہو کر نمازیوں کو دھمکایا اور کہا کہ اس کی گاڑی میں AK-47 موجود ہے۔ رپورٹس کے مطابق نمازیوں نے فوری ردعمل دیتے ہوئے اس شخص کا پیچھا کیا، جس کے بعد وہ موقع سے فرار ہو گیا۔ پولیس نے بتایا کہ واقعے میں کوئی جسمانی نقصان نہیں ہوا، تاہم اس نے مقامی مسلم کمیونٹی میں شدید خوف اور اضطراب پیدا کر دیا۔
مقامی قانون ساز بسمہ آصف نے سوشل میڈیا پر واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عبادت گاہیں امن اور تحفظ کی جگہ ہونی چاہئیں۔ انہوں نے کہا، ’’کسی بھی شخص کو، چاہے اس کا مذہب کچھ بھی ہو، نماز یا عبادت کے دوران اپنی جان کے خوف میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔‘‘ آصف نے یاد دلایا کہ اسی مسجد کو گزشتہ دسمبر میں بھی نفرت انگیز کارروائی کا نشانہ بنایا گیا تھا، جب وہاں سواستیکا کے نشانات اور مسلم مخالف گرافٹی بنائی گئی تھی۔ انہوں نے آسٹریلیا میں بڑھتی ہوئی نسل پرستی، اسلاموفوبیا اور سام دشمنی پر بھی تشویش ظاہر کی اور بعض سیاست دانوں پر الزام لگایا کہ وہ سیاسی فائدے کے لیے نسلی اور مذہبی تقسیم کو ہوا دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: برطانیہ: لیبر پارٹی میں بغاوت، ۴۰؍ ارکان کا کیئر اسٹارمر سے استعفے کا مطالبہ
تحقیقات کے بعد پولیس نے پیر کو اعلان کیا کہ مچلٹن سے تعلق رکھنے والے ۳۳؍ سالہ شخص پر عوامی پریشانی پھیلانے اور عبادت گاہ میں خلل ڈالنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ واقعے کی آسٹریلین نیشنل امامز کونسل نے بھی شدید مذمت کی۔ کونسل نے اپنے بیان میں کہا کہ اس واقعے نے مسلم کمیونٹی میں ’’شدید بے چینی‘‘ پیدا کی ہے اور یہ عبادت گاہ کی حرمت اور تحفظ کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ کونسل کے صدر سعدی السلیمان نے کہا کہ ’’عبادت گاہیں امن، غوروفکر اور تحفظ کی علامت ہونی چاہئیں۔ نمازیوں کے خلاف کسی بھی قسم کی دھمکی، خوف پھیلانا یا نفرت پر مبنی کارروائی ناقابل قبول ہے اور اس سے انتہائی سنجیدگی کے ساتھ نمٹا جانا چاہیے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نے سپریم کورٹ پر زور دیا کہ وہ بڑے مقدمات میں امریکی مفادات کا ساتھ دے
انہوں نے متنبہ کیا کہ یہ واقعہ آسٹریلیا میں مسلم مخالف حملوں اور نفرت انگیز واقعات کے ایک ’’پریشان کن رجحان‘‘ کا حصہ ہے، جس میں مساجد کو دھمکیاں، مذہبی اجتماعات میں خلل ڈالنا اور مسلمانوں کے خلاف زبانی بدسلوکی شامل ہے۔ ماہرین کے مطابق آسٹریلیا سمیت کئی مغربی ممالک میں حالیہ برسوں کے دوران اسلاموفوبیا اور مذہبی نفرت کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے، خصوصاً عالمی سیاسی کشیدگی اور سوشل میڈیا پر نفرت انگیز بیانیوں کے پھیلاؤ کے بعد۔ مسلم تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عبادت گاہوں کے تحفظ کو یقینی بنانے، نفرت انگیز جرائم کے خلاف سخت اقدامات کرنے اور مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے مزید مؤثر پالیسی اپنائی جائے۔