• Sun, 25 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بسم اللہ خاں نے ’جلسہ گھر‘ کے بعد ’گونج اٹھی شہنائی‘ میں فن کا مظاہرہ کیا تھا

Updated: October 25, 2026, 12:32 PM IST | Anis Amrohvi | Mumbai

۱۹۷۷ء میں مدراس میں بنی ایک کنڑ فلم کیلئے اُستاد بسم اللہ خاں نے شہنائی بجائی تھی اور اس کیلئے انہوں نے اپنے دس فنکاروں کے ایک گروپ کے ساتھ تقریباً نو دن مدراس میں قیام کیا تھا۔

The global stature Bismillah Khan achieved with the shehnai is the result of his hard work and dedicated practice. Photo: INN
بسم اللہ خاں نے شہنائی میں عالمی سطح پر جو مقام حاصل کیا ہے، وہ ان کی سخت محنت اور ریاض کا نتیجہ ہے۔ تصویر: آئی این این

شہنائی اور بسم اللہ خاں ایک دوسرے کی پہچان تھے۔ ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ کوئی شخص شہنائی کے لفظ سے واقف ہو اور بسم اللہ خاں کو نہ جانتا ہو۔ لیکن خود بسم اللہ خاں کون تھے؟ کیا صرف ایک شہنائی نواز.... نہیں بلکہ۹۰؍ برس کی ایک بھرپور زندگی۔ 
بسم اللہ خاں کے آباو اجداد کا شہنائی سے صدیوں پرانا رشتہ تھا۔ اُن کے اجداد صوبہ بہار کے سہسرام ضلع کی ڈمرائوں ریاست کے درباری شہنائی نواز تھے۔ بسم اللہ خاں کو شہنائی کا فن ورثے میں ملا تھا۔ اسلئے شہنائی اُن کے خون میں رچ بس گئی تھی۔ ان کے پردادا اُستاد سالار حسین بخش خاں، دادا اُستاد رسول بخش خاں اور والد استاد پیغمبر بخش اپنے زمانے کے مقبول و معروف اور ممتاز شہنائی نواز استادوں میں گنے جاتے تھے۔ بسم اللہ خاں کی پیدائش ڈمرائوں قصبے میں ۲۱؍مارچ ۱۹۱۶ء کو ہوئی تھی۔ اُن کے والد نے اُن کا نام قمرالدین رکھا تھا مگر ایک روایت کے مطابق پیدائش کے بعد جب ان کو پہلی بار دادا کی گود میں دیا گیا تو اُن کے منہ سے بسم اللہ نکلا لہٰذا اُن کا نام بسم اللہ رکھ دیا گیا۔ ابھی بسم اللہ خاں بچے ہی تھے کہ ان کے اجداد اپنی جائیداد فروخت کرکے بنارس میں آباد ہو گئے۔ اس طرح بسم اللہ خاں کے بچپن اور لڑکپن کا بڑا حصہ بنارس میں ہی گزرا۔ بنارس جانے سے قبل ہی بسم اللہ خاں ڈمرائوں کے بہاری مندر میں شہنائی بجایا کرتے تھے، جس کے عوض انہیں راشن کے علاوہ ڈیڑھ روپے ملا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ ریاست کے مہاراجہ نے شہنائی بجانے پر اُنہیں سوا سیر لڈو بطور انعام دے کر اُن کی حوصلہ افزائی بھی کی تھی۔ 
ان کی عمر صرف ۱۴؍برس ہی تھی جب انہوں نے ۱۹۳۰ء میں پہلی بار عوام کے سامنے الٰہ آباد کی میوزک کانفرنس میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے لکھنؤ میں بھی لوگوں پر اپنی فنکارانہ صلاحیت ظاہر کی اورگولڈ میڈل حاصل کیا۔ ۱۹۳۸ء میں لکھنؤ کے آل انڈیا ریڈیو کے ذریعہ پہلی بار انہوں نے اپنے فن کو ہوا کے دوش پر عوام تک پہنچایا۔ انہوں نے شہنائی نوازی کا فن بنارس کے اُستاد علی بخش خاں اور استاد احمد حسین سے سیکھا تھا۔ 
بسم اللہ خاں کے ماموں علی بخش خاں بنارس کے وشوناتھ مندر میں شہنائی نواز تھے اور وہی بسم اللہ خاں کے پہلے اُستاد بھی تھے۔ بچپن ہی میں شہنائی سے اُن کی گہری دلچسپی کو دیکھتے ہوئے اُن کے ماموں نے اُنہیں چھ برس کی عمر میں ایک شہنائی تحفے میں دی تھی۔ بسم اللہ خاں کی نرم و نازک اُنگلیوں نے اُس دن جو شہنائی پکڑی، تو پورے ذوق و شوق، یکسوئی، اعتماد، عقیدت اور احترام کے ساتھ اس فن کو بلندیوں پر لے جاکر ہی دم لیا اور بھارت رتن حاصل کیا۔ انہوں نے شہنائی کے روایتی اور قصباتی پہچان والے سات سُراخوں والے بانسری نما لکڑی کے اس خوبصورت آلۂ موسیقی میں کئی ترامیم اور اصلاحات کرکے اُسے کلاسیکل میوزک انسٹرومینٹس کے درمیان ایک خاص مقام بخشا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: والد کی مخالفت کے سبب ملیکا شیراوت نے فلموں کیلئے اپنا نام تبدیل کرلیا

بسم اللہ خاں کو ۱۹۵۶ء میں سنگیت ناٹک اکیڈمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ بعدازاں ۱۹۶۳ء میں نیشنل کلچرل آرگانائزیشن نے اُنہیں اکھل بھارتیہ شہنائی چکرورتی کے اعزاز سے نوازا۔ اُن کے فن کے کمال کا اعتراف کرتے ہوئے حکومت نے انہیں ۱۹۶۱ء میں پدم شری اور پھر ۱۹۶۸ء میں پدم بھوشن، بعد ازاں ۱۹۸۰ء میں پدم وِبھوشن کے اعزاز سے سرفراز کیا۔ اس کے علاوہ ۱۹۶۵ء میں مدھیہ پردیش حکومت کی طرف سے تان سین ایوارڈ سے نوازا گیا۔ رائل نیپال آرٹ اکیڈمی ایوارڈ سے بھی اُستاد بسم اللہ خاں کو نوازا گیا۔ ۱۷؍جنوری ۲۰۰۱ء کو راجدھانی کے وگیان بھون میں الیکشن کمیشن کی ۵۰؍ سالہ تقریب کے موقع پر بھی اپنی منگل دھؤنی سے اُستاد بسم اللہ خاں نے صدر جمہوریہ، وزیر اعظم اور دیگر معزز مہمان و سامعین کو مسحور کر دیا تھا۔ نیشنل کلچرل آرگنائزیشن کے زیر اہتمام سنگیت سمراٹ تان سین کی جینتی کی تقاریب میں بھی بسم اللہ خاں ہر سال اپنے راگ بیراگی، راگ بھیروی اور کجری سے نوازتے رہے ہیں۔ ۲۵؍ جنوری ۲۰۰۱ء کو شام ساڑھے ۶؍ بجے کے قریب اُستاد بسم اللہ خاں کو اطلاع ملی کہ انہیں اس برس کے بھارت رتن ایوارڈ سے نوازا گیا ہے، اور تبھی مشہور گلوکارہ لتامنگیشکر نے لندن سے اُنہیں فون پر مبارکباد دی اور خاص طور پر اس بات کیلئے خوشی کا اظہار کیا کہ دونوں کو ایک ساتھ ہی یہ ایوارڈ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ راجیو گاندھی سدبھاؤنا ایوارڈ بھی دونوں کو ایک ساتھ ہی دیا گیا تھا۔ 
 انہوں نے اپنے خاص مراسم کی بنا پر شنکر بھٹ اور وجے بھٹ کی فلم ’گونج اُٹھی شہنائی‘ کے ایک گیت کی دُھن بنائی تھی، جس کا مکھڑا تھا ’’جیون میں پیا تیرا ساتھ رہے‘‘۔ ۱۹۵۹ء میں ستیہ جیت رے کی فلم ’جلسہ گھر‘ میں بھی استاد بسم اللہ خاں نے شہنائی بجائی تھی۔ ہدایتکار گوتم گھوش نے اُن کی زندگی پر ایک دستاویزی فلم ’سنگ میل سے ملاقات‘ کے عنوان سے بنائی تھی جو کافی پسند کی گئی۔ ۱۹۷۷ء میں مدراس میں بنی کنڑ فلم ’سنادی اپننا‘ کیلئے اُستاد بسم اللہ خاں نے شہنائی بجائی تھی۔ وہ اس کام کیلئے اپنے دس لوگوں کے گروپ کے ساتھ تقریباً نو دن مدراس میں رہے تھے۔ حالانکہ اس فلم کی موسیقی جی کے وینکٹیش نے ترتیب دی تھی۔ اس فلم کا مرکزی کردار ڈاکٹر راجکمار نے ادا کیا تھا جو دیہی علاقوں میں شہنائی بجانے والا ایک میوزک آرٹسٹ ہے۔ 
ان کے فن کی شہرت اور مقبولیت جب سرحدوں کو پار کرنے لگی تو متعدد ممالک سے انہیں شہنائی کے پروگرام پیش کرنے کی دعوتیں آنے لگیں۔ اس کے بعد اُنہوں نے غیرممالک میں بھی اپنے فن کی جادوگری کا سکہ جما یا۔ ۱۹۶۲ء میں انہوں نے پاکستان اور افغانستان میں کئی پروگرام پیش کیے۔ کامن ویلتھ فیسٹیول میں انہوں نے اپنی شہنائی سے سامعین کو کافی محظوظ کیا۔ ۱۹۶۷ء میں انہوں نے واشنگٹن، نیویارک، لاس ایجلس، بوسٹن اور مونٹریال کے دورے کیے۔ ۱۹۶۹ء میں اٹلی، جرمنی، سوئٹزرلینڈ، آسٹریا، ہالینڈ اور فرانس میں بھی کئی پروگرام پیش کیے۔ ۱۹۶۵ء میں ایک پروگرام کے دوران ایک امریکی نوجوان نے ان کی شہنائی نوازی سے متاثر ہوکر بڑے جوشیلے انداز میں کہا ’’میں جب آئندہ ہندوستان آئوں گا تو چھ ماہ یہاں رہ کر آپ سے شہنائی سیکھوں گا۔ ‘‘ اس پر انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا تھا ’’بھول جائیے میاں ... چھ ماہ میں تو آپ شہنائی پکڑنا بھی نہیں سیکھ سکتے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: ’ ’رامائن‘‘ او ٹی ٹی پر بھی مفت نہیں دیکھی جا سکے گی، فلم کیلئے الگ سے رقم ادا کرنا ہوگی

اُستاد بسم اللہ خاں صوفیانہ مزاج کے ایک سادہ لوح شخصیت کے مالک عام انسان تھے۔ جن لوگوں نے محرم میں انہیں ’’مارا گیا تیر سے بچہ رباب کا‘‘ پر شہنائی بجاتے ہوئے دیکھا ہے، وہ بتا سکتے ہیں کہ اُس وقت اُن کے چہرے پر کیسا درد ہوتا تھا۔ ان کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ انہوں نے شہنائی کو، جو محض شادی کی محفلوں، راج دربار اور مندروں تک محدود تھی، اُسے کلاسیکی موسیقی کا ایک حصہ قرار دیا۔ اپنی فنکارانہ زندگی کے آخری ۵۰؍ برسوں میں انہوں نے تقریباً تمام کلاسیکی موسیقاروں کے ساتھ جگل بندی کی، جن میں پنڈت روی شنکر، استاد ولایت علی خاں اور استاد امجد علی خاں جیسے ارباب موسیقی بھی شامل ہیں۔ 
اُستاد بسم اللہ خاں کی زندگی کا سب سے پہلا بڑا پروگرام ۱۵؍ اگست ۱۹۴۷ء کو جواہر لال نہرو کی خواہش پر لال قلعہ میں پیش کیا گیا تھا۔ پنڈت نہرو نے اُن کو خاص طور پر بلایا تھا اور بتایا تھا کہ اس جلسے میں آگے شہنائی بجاتے ہوئے بسم اللہ خاں کو چلنا تھا اور اُن کے پیچھے صدر جمہوریہ، وزیر اعظم اور دیگر وزراء چلیں گے۔ بسم اللہ خاں اس بات پر برہم ہو گئے کہ وہ کھڑے ہوکر چلتے ہوئے شہنائی نہیں بجا سکتے۔ اُنہوں نے پنڈت نہرو سے کہا کہ کیا آزادی صرف آپ ہی کیلئے آئی ہے؟ یہ ہماری بھی آزادی ہے کہ ہم اس طرح بجانے سے منع کر رہے ہیں۔ نہرو جی نے اُن کو منایا اور کہا کہ بسم اللہ جی، یہ بھی تو آپ کی آزادی ہے کہ آگے آپ چلیں گے اور پیچھے پیچھے ہم سب۔ لہٰذا اُستاد بسم اللہ خاں مان گئے۔ 
۱۹۳۷ء میں کلکتہ کی آل انڈیا میوزک کانفرنس میں شہنائی بجاکر جس جئے یاترا کی ابتداء اُستاد بسم اللہ خاں نے کی تھی، اُس کی انتہا بھی اُن ہی پر جا پہنچی تھی۔ اس کانفرنس میں انہوں نے شہنائی کے مقابلے میں سونے کا تمغہ حاصل کیا تھا۔ 
بسم اللہ خاں بہت ہی خوش مزاج، آزاد خیال اور سادگی پسند انسان ہونے کے ساتھ ساتھ کشادہ دل و دماغ کے مالک تھے۔ وہ بہت ہی سادہ زندگی گزارنے میں یقین رکھنے والوں میں سے تھے۔ وہ ایک مذہبی انسان تھے اور صوم و صلوۃ کے پابند تھے۔ آل رسول سے بسم اللہ خاں صاحب کو بے حد عقیدت تھی۔ محرم وغیرہ کو بھی وہ پوری عقیدت اور احترام سے مناتے تھے۔ 
۱۹۸۱ء میں اُستاد بسم اللہ خاں کو بنارس ہندو یونیورسٹی، مراٹھواڑا یونیورسٹی الٰہ آباد، اور شانتی نکیتن مغربی بنگال کی جانب سے ڈاکٹریٹ کے اعزاز سے نوازا گیا۔ ۱۹۹۴ء میں بھارت شرومنی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ۱۹۷۵ء میں سوویت لینڈ نہرو انعام سے بھی اُستاد بسم اللہ خاں کو نوازا جا چکا ہے۔ ۱۹۹۴ء میں اُترپردیش حکومت نے یش بھارتی اعزاز سے نوازا۔ 
۹۰؍برس کی عمر میں ۲۱؍اگست ۲۰۰۶ء کی شب میں ڈھائی بجے حرکت قلب بند ہو جانے سے اُن کا انتقال ہوا۔ اُن کے جسد خاکی کو پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ۲۱؍بندوقوں کی فوجی سلامی کے بعد بنارس کے قبرستان میں دفن کیا گیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK