ہر ہفتے ۳۶؍گھنٹوں کی پانی کٹوتی سے دشواریوں کا سامنا، فی ٹینکر ۶؍ہزار روپے خرچ ہونے سے گھریلو بجٹ متاثر ہو رہا ہے۔
EPAPER
Updated: October 25, 2026, 12:53 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Dombivli
ہر ہفتے ۳۶؍گھنٹوں کی پانی کٹوتی سے دشواریوں کا سامنا، فی ٹینکر ۶؍ہزار روپے خرچ ہونے سے گھریلو بجٹ متاثر ہو رہا ہے۔
ریاست کے مختلف علاقوں میں پانی کی سپلائی میں کٹوتی کے باعث شہریوں کو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ گنجان آباد علاقوں میں یہ بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ ڈومبیولی کے قریب کھونی اور پلاوا میں پانی کی قلت نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ مہاراشٹر انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن (ایم آئی ڈی سی)اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے پانی کی سپلائی میں کمی کا براہِ راست اثر ہاؤسنگ سوسائٹیوں پر پڑ رہا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ مکین اپنی بنیادی ضرورت پوری کرنے کیلئے مہنگے داموں نجی ٹینکروں سے پانی خریدنے پر مجبور ہیں جس سے نہ صرف گھریلو بجٹ بلکہ سوسائٹیوں کے مالی وسائل پر بھی اضافی بوجھ پڑ رہا ہے۔
ایم آئی ڈی سی اور دیگر میونسپل کارپوریشنوں نے پانی کی فراہمی میں ۱۰؍ فیصد باقاعدہ کٹوتی کا نفاذ شروع کر دیا ہے۔ اس فیصلہ کا سب سے برا اثر ڈومبیولی کے قریب واقع کھونی اور پلاوا کے رہائشی علاقوں پر پڑا ہے۔ پانی کی عدم دستیابی کے باعث اب ہاؤسنگ سوسائٹیاں مکمل طور پر نجی ٹینکروں کے رحم و کرم پر آ گئی ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ نجی ٹینکر مافیا کی جانب سے فی چکر کم از کم ساڑھے ۶؍ ہزار روپے وصول کئے جا رہے ہیں جس سے سوسائٹی کے عہدیداران اور رہائشی سخت اضطراب میں مبتلا ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: پانی بچانے کا پیغام لے کر ۱۹؍ سائیکل سواروں کا کلیان سے سفر کا آغاز
مقامی مکینوں کے مطابق ہر جمعرات کی رات سے ایم آئی ڈی سی کا پانی لگاتار ۳۶ ؍گھنٹوں کیلئے مکمل بند کر دیا جاتا ہے۔ اس بندش کے بعد جب سنیچر کو سپلائی بحال ہوتی ہے تو پریشر اس قدر کم ہوتا ہے کہ سوسائٹی کے زیرِ زمین و بالائی واٹر ٹینک بھرنے میں غیر معمولی وقت لگتا ہے اور اگلے کئی دنوں کی منصوبہ بندی درہم برہم ہو جاتی ہے۔ پینے کا پانی بازار سے خریدنے اور عام استعمال کے لیے مہنگے ٹینکر منگوانے کی وجہ سے عام شہریوں پر زبردست معاشی بوجھ پڑ رہا ہے۔
کراؤن کلسٹر کے بڑے رہائشی کمپلیکس جن میں آرکیڈ، جاسمین اور وائلٹ شامل ہیں، ان میں ہزاروں لوگ رہتے ہیں اتنی بڑی آبادی کیلئے روزانہ درکار پانی کی مانگ سرکاری پائپ لائن سے پوری نہیں ہو پارہی جس کی وجہ سے آئے روز ٹینکر منگوانا مجبوری بن چکا ہے۔ اس بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کھونی پلاوا کے سماجی کارکن مہیش ٹھومبرے نے کہا کہ ہفتہ وار ۳۶؍ گھنٹے پانی منقطع ہونے اور پھر کم دباؤ سے پانی کی فراہمی کے دوہرے عذاب نے سوسائٹیوں کے واٹر مینجمنٹ کو تباہ کر دیا ہے۔ پانی کی اس غیر معمولی قلت اور بھاری اخراجات نے شہریوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔