اداکارہ، کہانی گو، شاعرہ اور اسٹیج فنکار پریہ ملک کا کہنا ہےکہ دس سال قبل بگ باس جیسے بڑے شو میں شرکت کرنا میرے لیے ٹیلی ویژن کی دنیا میں داخل ہونے کا ایک راستہ تھا۔
EPAPER
Updated: October 25, 2026, 12:28 PM IST | Abdul Karim Qasim Ali | Mumbai
اداکارہ، کہانی گو، شاعرہ اور اسٹیج فنکار پریہ ملک کا کہنا ہےکہ دس سال قبل بگ باس جیسے بڑے شو میں شرکت کرنا میرے لیے ٹیلی ویژن کی دنیا میں داخل ہونے کا ایک راستہ تھا۔
پریہ ملک شاعرہ، اداکارہ، کہانی گو اور اسٹیج فنکار ہیں، جنہیں ۲۰۱۵ء میں رئیلیٹی شو بگ باس سیزن ۹؍ میں شرکت کے بعد ملک گیر شہرت ملی۔ تاہم، ان کی اصل تخلیقی پہچان محبت، جدائی، انسانی رشتوں اور سماجی مسائل پر مبنی ان کی شاعری ہے۔ وقت کے ساتھ انہوں نے ٹیلی ویژن کی دنیا سے آگے بڑھ کر اپنی شناخت ایک ایسی شاعرہ کے طور پر قائم کی، جو اپنی تحریروں اور آواز کے ذریعے سامعین کے جذبات سے براہِ راست رابطہ کرتی ہیں۔ اب وہ خود کو بنیادی طور پر اداکارہ کے بجائے شاعرہ سمجھتی ہیں اور اپنی توجہ کتابیں لکھنے، فلمی کہانیاں اور گیت تخلیق کرنے پر مرکوز کرنا چاہتی ہیں۔ پریہ کو بچپن ہی سے مطالعہ، الفاظ اور اسٹیج پر اظہارِ خیال میں دلچسپی تھی۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ وہ تقریباً ۱۲؍ سال کی عمر سے شعر کہہ رہی ہیں ۔ پریہ ملک نے ہندوستان میں ابتدائی پیشہ ورانہ تجربات حاصل کرنے کے بعد آسٹریلیا کا رخ کیا، جہاں انہوں نے ایڈیلیڈ میں ہائی اسکول کی ٹیچر کے طور پر کام کیا۔ وہ تدریس کے ساتھ مزاحیہ فن اور اسٹیج پرفارمنس سے بھی وابستہ رہیں۔ پریہ ملک نے ۲۰۱۵ء میں بگ باس میں وائلڈ کارڈ امیدوار کے طور پر شرکت کی۔ اس سے پہلے وہ آسٹریلیا کے رئیلٹی شو بگ بردر آسٹریلیا کے گیارہویں سیزن میں بھی حصہ لے چکی تھیں۔ انہوں نے مختصر فلم ’’جینا ابھی باقی ہے‘‘ اور ویب سیریز ’’یہ کالی کالی آنکھیں ‘‘ میں بھی حصہ لیا ہے۔ اس کے علاوہ وہ ’’اَن سینسرڈ نیوز‘‘ کی میزبانی بھی کر چکی ہیں۔ نمائندہ انقلاب نے پریہ ملک سے گفتگو کی جسے یہاں پیش کیا جارہا ہے:
آپ خود کو کس حیثیت سے دیکھتی ہیں ؟ اداکارہ، شاعرہ یا مصنفہ؟
ج: میں ہمیشہ خود کو سب سے پہلے شاعرہ مانتی آئی ہوں۔ آج بھی میری یہی شناخت ہے۔ میرے اندر شاعری کا شوق بہت پہلے سے تھا۔ میں تقریباً ۱۲؍ سال کی عمر سے نظمیں لکھ رہی ہوں۔ اس سے بھی پہلے، جب میں چار یا پانچ سال کی تھی، تب سے اسٹیج پر نظمیں سنانا شروع کر دیا تھا۔ اسلئے میں ہمیشہ کہتی ہوں کہ شاعری میری پہلی محبت اور میری بنیادی شناخت ہے۔
کیا یہ درست ہے کہ جب آپ کو اداکاری میں زیادہ مواقع نہیں ملے تو آپ دوبارہ شاعری کی طرف لوٹ آئیں؟
ج: نہیں، ایسا نہیں ہے۔ مجھے خود یہ احساس ہوا کہ مجھے شعرکہنے اور لکھنے میں زیادہ خوشی ملتی ہے۔ آج بھی میرے پاس اداکاری کی پیشکش آتی ہیں، لیکن اب میں خود ان کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کرتی ہوں۔ گزشتہ چند برسوں میں مجھے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی ہے کہ مجھے لکھنا زیادہ پسند ہے۔ جب مجھے اپنے پہلے شوق، یعنی شاعری اور تحریر سے ہی اتنی خوشی اور اطمینان مل رہا ہے تو پھر مجھے کسی دوسری سمت میں بھٹکنے کی کیا ضرورت ہے؟ مجھے اداکاری آج بھی پسند ہے۔ اگر کبھی کوئی اچھا کردار مل جائے تو میں ضرور کام کروں گی، لیکن اب میں ایسا کام نہیں کرنا چاہتی جس میں میرا پورا وقت صرف ہو جائے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’دوران جدوجہد طبی شعبے کا تجربہ میرے لیے بہت مددگار ثابت ہوا ‘‘
اگر آپ کو اداکاری کا موقع ایک بار پھر ملے تو آپ کس قسم کا کردارنبھانا چاہیں گی؟
ج: اگر مجھے کسی فلم یا ڈرامے میں شاعرہ کا کردار ادا کرنے کا موقع ملے تو مجھے بہت زیادہ خوشی ہو گی۔ میں ایسے کردار کا انتظار کر رہی ہوں جس میں شاعری کی روح موجود ہو اور جس کی کہانی میں الفاظ اور جذبات کو خاص اہمیت حاصل ہو۔ میں چاہتی ہوں کہ اگر کبھی اداکاری کروں تو کوئی ایسا کردار ہو جو میری اپنی تخلیقی شخصیت سے بھی تعلق رکھتا ہو۔ میرے لیے یہ ایک دلچسپ تجربہ ہوگا۔
کیا آپ کو لگتا ہے کہ جب کوئی فنکار اپنے کریئر میں ایک خاص مقام حاصل کر لیتا ہے تو اس کے لیے اپنی شرائط پر کام کرنا آسان ہو جاتا ہے؟
ج: ہاں، کسی حد تک ایسا ضرور ہوتا ہے۔ جب کوئی شخص اپنے کام میں پہچان بنا لیتا ہے تو اس کے پاس انتخاب کے زیادہ مواقع آ جاتے ہیں لیکن میرے معاملے میں ایک فرق یہ ہے کہ اداکاری کیلئے وہ جنون کبھی نہیں رہا جو شاعری کیلئے آج بھی موجود ہے۔ کبھی کوئی شاعری کا پروگرام ہوتا ہے اور منتظمین کہتے ہیں کہ ایک چھوٹا سا مشاعرہ ہے، وہاں فلاں شاعر بھی آ رہے ہیں۔ اگر مجھے لگے کہ ان کے ساتھ اسٹیج پر شاعری پیش کرنے کا تجربہ اچھا ہوگا تو میں آج بھی وہاں چلی جاتی ہوں۔
آپ بگ باس جیسے بڑے رئیلیٹی شو کا حصہ رہ چکی ہیں۔ آپ اس شو کو کس نظر سے دیکھتی ہیں؟
ج: میں نے بگ باس کو اس میں شرکت سے پہلے بھی دیکھا تھا۔ مجھے یہ پروگرام اچھا لگتا تھا۔ آج بھی مجھے یہ ایک دلچسپ شو لگتا ہے، اگرچہ میں نے اس کا موجودہ سیزن نہیں دیکھا۔ میرے خیال میں بگ باس ایک طرح کا نفسیاتی تجربہ ہے۔ اس میں آپ انسانوں کے رویوں کے بارے میں بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ جب مختلف مزاج کے لوگ ایک ہی جگہ رہتے ہیں تو ان کے درمیان جو صورتِ حال پیدا ہوتی ہے، اس سے انسانی فطرت کو سمجھنے کے کئی پہلو سامنے آتے ہیں۔ بگ باس ایسا پلیٹ فارم نہیں تھا جہاں میں اپنی شاعری اور تخلیقی صلاحیتوں کو پوری طرح پیش کر سکتی۔ اسی لیے مجھے اپنی اس شبیہ سے باہر نکلنے میں کئی سال لگے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’میری خواہش ہے کہ اپنے کریئر میں کوئی اچھا مزاحیہ کردار بھی ادا کروں‘‘
کیا بگ باس آپ کے کریئر کیلئے ایک اہم موڑ ثابت ہوا؟
ج: بالکل۔ جب میں نے بگ باس میں کام کیا تو اس وقت میرے ذہن میں یہ تھا کہ جو موقع مل رہا ہے، اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ بگ باس بہت بڑا شو تھا اور تقریباً دس سال پہلے اس میں شرکت کرنا میرے لیے ٹیلی ویژن کی دنیا میں داخل ہونے کا ایک راستہ تھا۔ اس وقت مجھے اندازہ نہیں تھا کہ آگے چل کر میری زندگی کس سمت جائے گی۔ مجھےجو بھی مواقع ملے، انہیں ہاتھ سے جانے نہیں دیا لیکن بعد میں مجھے محسوس ہوا کہ میری اصل دلچسپی شاعری میں ہے۔ ۲۰۱۷ءمیں میری ایک نظم سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔ اس کے بعد مجھے یہ نظر آنے لگا کہ شاعری بھی ایک مکمل پیشہ بن سکتا ہے۔
کیا شاعری کو مستقل پیشہ بنانے کے لیے مالی طور پر خود کفیل ہونا بھی ضروری ہے؟
ج: ہاں ! یہ بہت ضروری ہے۔ اگر آپ کسی کام کو اپنے پیشے کے طور پر اپنانا چاہتے ہیں تو آپ کو یہ بھی دیکھنا پڑتا ہے کہ اس سے آپ اپنی زندگی کیسے گزاریں گے۔ جب مجھے یہ محسوس ہونے لگا کہ میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں اور شاعری سے کما سکتی ہوں تو میرے لیے اداکاری کے مواقع کو چھوڑنا آسان ہو گیا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو شاید آج بھی میں اداکاری کر رہی ہوتی۔ ممکن ہے میں اسے اتنے شوق اور جذبے کے ساتھ نہ کرتی، لیکن معاشی ضروریات کیلئے مجھے یہ کام جاری رکھنا پڑتا۔
سوشل میڈیا پر مقبول ہونے کے ساتھ تنقید اور ٹرولنگ کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ آپ اس صورتِ حال سے کیسے نمٹتی ہیں ؟
ج: میرے خیال میں جب آپ عوامی شخصیت بن جاتے ہیں تو یہ سب اس زندگی کا حصہ بن جاتا ہے۔ ہم ایسے دور میں رہ رہے ہیں جہاں سوشل میڈیا کے ذریعے کوئی بھی آپ تک پہنچ سکتا ہے۔ لوگ آپ کے انسٹاگرام پر پیغام بھیج سکتے ہیں، آپ کی تصاویر پر تبصرہ کر سکتے ہیں اور یوٹیوب پر بھی اپنی رائے دے سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے، مشہور ہونے کے ساتھ اس کی قیمت بھی ادا کرنا پڑتی ہے۔ آپ اسے مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتے لیکن اگر آپ کو اپنے کام کی وجہ سے شہرت مل رہی ہے تو اس کے مقابلے میں منفی تبصرے بہت چھوٹی چیز ہیں۔ میں کسی ٹرول کا جواب نہیں دیتی۔ میرا ایک اصول ہے: نہ وضاحت دو، نہ اپنا دفاع کرو۔ میں ایسے لوگوں کے ساتھ بحث کرنے کے بجائے ان کے تبصرے حذف کر دیتی ہوں، انہیں بلاک کر دیتی ہوں ۔
کیا آپ فلموں کیلئے گیت لکھنے میں بھی دلچسپی رکھتی ہیں؟
ج: جی ہاں، میں نے حال ہی میں دو گیت لکھے ہیں۔ ان میں سے ایک گیت فلم کیلئے ہے، جسے منیش ملہوترا کی پروڈکشن سے وابستہ ایک پروجیکٹ میں شامل کیا گیا ہے۔ اس گیت کا نام ’ادھورا‘ ہے اور اسے گلوکار پاپون نے اپنی آواز دی ہے۔ اس کے علاوہ میں نے آنے والے سال کیلئے ایک امیزون سیریز اور زی فائیو کی ایک سیریز کیلئے بھی گیت لکھے ہیں۔ میں چاہتی ہوں کہ مستقبل میں زیادہ گیت لکھوں اور اس شعبے میں اپنی شناخت قائم کروں۔ مجھے لگتا ہے کہ فلمی نغمہ نگاری میں خواتین کی تعداد بہت کم ہے۔ کوثر منیر اُن چند خواتین میں شامل ہیں جن کا نام اس شعبے میں نمایاں طور پر لیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس نغمہ نگاری کے شعبے میں کئی مرد شاعر مسلسل کام کر رہے ہیں، جن میں سوانند کرکرے، ورون گروور، گلزار، جاوید اختر اور ارشاد کامل جیسے نام شامل ہیں۔