• Sun, 25 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھیونڈی: پانی کی شدید قلت سے شہریوں میں شدید ناراضگی

Updated: October 25, 2026, 12:56 PM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi

علی الصباح ۳؍بجے سے میئر کا متاثرہ علاقوں کا دورہ۔ میونسپل کمشنر سے فوری مداخلت کا مطالبہ۔

The Mayor and other public representatives visiting areas affected by water scarcity. Photo: INN
پانی کی قلت سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے میئر اور دیگر عوامی نمائندے۔ تصویر: آئی این این

شہر میں پانی کی کٹوتی کے درمیان وارڈ نمبر ۵؍ اور ۶؍ میں پینے کے پانی کی قلت نے شہریوں کی پریشانی بڑھا دی ہے۔ پانی کی باقاعدہ فراہمی نہ ہونے سے ناراض شہریوں کی شکایت پر میئر نارائن چودھری سمیت عوامی نمائندوں نے علی الصباح تقریباً ۳؍بجے سےمتاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے صورت حال کا جائزہ لیا۔ اس دوران میونسپل کارپوریشن کے محکمۂ آب رسانی کے ایگزیکٹیو انجینئر سندیپ پٹناور اور دیگر ملازمین بھی موجود تھے۔ شہریوں نے پانی کی قلت کا مستقل حل نکالنے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ مقامی شہریوں کا الزام ہے کہ علاقے میں صاف پینے کے پانی کی فراہمی متاثر ہورہی ہے۔ انہوں نے غیر قانونی نل کنکشن اور مبینہ سیاسی دباؤ کے کردار پر بھی شبہ ظاہر کرتے ہوئے معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ پانی کی قلت سے پیدا ہونے والی ناراضگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ عوامی نمائندوں کو رات کے آخری پہر متاثرہ علاقوں میں پہنچ کر شہریوں کی شکایات سننی پڑیں۔ 
کمشنر سے فوری کارروائی کا مطالبہ
ممبئی ہائی کورٹ کی کمیٹی کے رکن اور سماجی کارکن اشوک جین نے میونسپل کمشنر انمول ساگر سے اس معاملے میں فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ باقاعدگی سے پراپرٹی ٹیکس اور پانی کا بل ادا کرنے والے شہریوں کو صاف پانی، اچھی سڑکیں، اسٹریٹ لائٹ اور صاف صفائی جیسی بنیادی سہولتیں فراہم کرنا میونسپل کارپوریشن کی ذمہ داری ہے۔

یہ بھی پڑھئے: پانی بچانے کا پیغام لے کر ۱۹؍ سائیکل سواروں کا کلیان سے سفر کا آغاز

اشوک جین نے مطالبہ کیا کہ کمشنر محکمۂ آب رسانی کے ایگزیکٹیو انجینئر سندیپ پٹناور اور ان کی ٹیم کو پانی کی قلت دور کرنے کیلئے فوری اور مؤثر اقدامات کی ہدایت دیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ محکمۂ آبرسانی کے بعض افسران کی مبینہ ملی بھگت سے والوو کھولنے میں لاپروائی برتی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں شہریوں کو وقت پر پانی نہیں مل پاتا۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر جلد مسئلہ حل کرکے پانی کی باقاعدہ فراہمی یقینی نہیں بنائی گئی تو بڑے پیمانے پر عوامی تحریک شروع کی جائے گی۔ 
ایک دن چھوڑ کر پانی کی سپلائی
دوسری جانب محکمۂ آب رسانی کے ایگزیکٹیو انجینئر سندیپ پٹناور نے وضاحت کی کہ فی الحال پانی کی کٹوتی جاری ہے جس کے باعث متاثرہ علاقے میں ایک دن چھوڑ کر پانی فراہم کیا جارہا ہے۔ ان کے مطابق یہ علاقہ شہر کے آخری سرے پر واقع ہے اس لئے یہاں پانی کا دباؤ کم رہتا ہے۔ ایسی صورت حال سے نمٹنے کے لئے میونسپل کارپوریشن ٹینکروں کے ذریعے بھی پانی فراہم کرتی ہے۔ واضح ہوکہ وارڈ نمبر ۵؍ اور ۶؍ شیواجی چوک، بازار پیٹھ، تین بتی، نظام پورہ، کوٹرگیٹ، بندر محلہ، تلک مندر علاقہ عید گاہ روڈ و دیگر علاقے شامل ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK