فلم ’’گورنر‘‘ کے حوالے سے بڑھتی ہوئی دلچسپی میں مزید اضافہ کرتے ہوئے، فلم سازوں نے ایک نیا ویڈیو جاری کیا ہے جس میں منوج باجپئی ایک خصوصی سلسلے کے تحت ’’گورنر‘‘ کے کردار کو نبھانے کے اپنے تجربات اور اہم اسباق شیئر کرتے نظر آتے ہیں۔
EPAPER
Updated: June 07, 2026, 4:04 PM IST | Mumbai
فلم ’’گورنر‘‘ کے حوالے سے بڑھتی ہوئی دلچسپی میں مزید اضافہ کرتے ہوئے، فلم سازوں نے ایک نیا ویڈیو جاری کیا ہے جس میں منوج باجپئی ایک خصوصی سلسلے کے تحت ’’گورنر‘‘ کے کردار کو نبھانے کے اپنے تجربات اور اہم اسباق شیئر کرتے نظر آتے ہیں۔
منوج باجپئی کی اداکاری سے مزین فلم ’’گورنر‘‘ کی ریلیز قریب آتے ہی اس کے بارے میں جوش و خروش مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ہندوستانی کی اقتصادی تاریخ کے ایک اہم باب سے متاثر اور۱۹۹۱ء کے مالی بحران کے پس منظر میں بنائی گئی یہ فلم اپنے متاثر کن ٹریلر اور دلچسپ کہانی کے باعث پہلے ہی کافی توجہ حاصل کر چکی ہے۔
اس جوش و خروش میں مزید اضافہ کرتے ہوئے، فلم سازوں نے ایک نیا ویڈیو جاری کیا ہے جس میں منوج باجپئی ’’گورنر‘‘ کے کردار سے حاصل ہونے والے اہم تجربات پر روشنی ڈالتے ہیں۔
ویڈیو میں منوج ہندوستان کے ایک عالمی طاقت بننے کے سفر پر گفتگو کرتے ہوئے یاد دلاتے ہیں کہ ۱۹۹۰ء میں ملک کی صورتحال آج سے بالکل مختلف تھی۔ وہ فلم کے مرکزی کردار اور آج کے نوجوانوں کے درمیان مماثلت پیدا کرتے ہوئے طلبہ کو مشاہدہ کرنے، ذمہ داری نبھانے اور ملک کے مستقبل کی تشکیل کے لیے تیار رہنے کی تلقین کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا’’میں فنانس، اکنامکس، مینجمنٹ اوریو پی ایس سی کے تمام طلبہ سے گزارش کرتا ہوں کہ ہوشیار رہیں، کیونکہ آپ ہی قوم کا مستقبل ہیں اور آپ کو بھی گورنر کی طرح باخبر اور چوکس ہونا چاہیے۔ گورنر نے وہ دیکھا جو دوسرے نہیں دیکھ سکے اور اسی وجہ سے ہندوستان کو۱۹۹۰ء میں مالی آزادی حاصل ہوئی۔ آپ مستقبل کے گورنر بنیں۔ ہندوستان کا مستقبل آپ کے ہاتھوں میں محفوظ ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:جب تک بیلٹ پیپر کا استعمال نہیں کیا جاتا انتخابات کا بائیکاٹ کریں: راج ٹھاکرے
ویڈیو شیئر کرتے ہوئے فلمسازوں نے لکھا’’منوج باجپئی بتاتے ہیں کہ ’’گورنر‘‘ تاریخ کے ایک ایسے باب کو دوبارہ زندہ کرتا ہے جس کے بارے میں ہر نسل کو جاننا چاہیے۔‘‘ حقیقی اور غیر معمولی واقعات پر مبنی ’’گورنر‘‘ ہندوستان کی تاریخ کے ایک فیصلہ کن دور کو پیش کرتی ہے، جب ملک ایک بے مثال مالی بحران کا سامنا کر رہا تھا جس نے اس کی استقامت کو کڑی آزمائش میں ڈال دیا تھا۔ غیر یقینی صورتحال اور انتہائی اہم فیصلوں کے اس دور میں، فلم منوج باجپئی کو ایک پُرعزم گورنر کے روپ میں دکھاتی ہے، جسے ملک کو مشکل حالات سے نکالنے کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’’دوستانہ ۲‘‘ کو ایک اور جھٹکا، ہدایت کار ادویت چندن نے فلم چھوڑ دی
ان کی طاقتور اداکاری ان فیصلوں کے بوجھ، ذمہ داری اور عزم کو مؤثر انداز میں پیش کرتی ہے، جنہوں نے ہندوستان کے مستقبل کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔اثر انگیز مکالموں سے مزین یہ غیر معمولی کہانی سن شائن پکچرز کی پیشکش ہے۔ فلم کی ہدایت کاری چنمے منڈلیکر نے کی ہے جبکہ اسے وپل امرت لال شاہ نے پروڈیوس کیا ہے۔ شریک پروڈیوسرآشین اے شاہ ہیں، جبکہ اسکرپٹ سوویندو بھٹاچارجی، سوربھ بھارت، روی اسرانی اور وپل امرت لال شاہ نے تحریر کیا ہے۔ فلم کے گیت جاوید اخترنے لکھے ہیں اور موسیقی امیت ترویدی نے ترتیب دی ہے۔فلم ۱۲؍ جون ۲۰۲۶ء کو سنیما گھروں کی زینت بنے گی۔