• Sun, 04 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اے آئی ایجنٹس کنٹرول سے باہر ؟۱۰۰؍زائد عالمی اداروں کے نظام میں سیندھ ماری

Updated: October 03, 2026, 12:39 PM IST | Agency | New Delhi

اوپن اے آئی نے انکشاف کیا ہے کہ اس کے ایک آئی اے ماڈل سے وابستہ ایجنٹس نے ۱۰۰؍ سے زائد اداروں کے کمپیوٹر سسٹم کے کوڈس تبدیل کردئیے۔

Food for thought: Has AI really gone beyond human control? Photo: INN
لمحۂ فکریہ :کیا واقعی اے آئی انسانی قابو سے باہر ہوا ہے؟ ۔ تصویر: آئی این این

 چیٹ جی پی ٹی تیار کرنے والی کمپنی اوپن اے آئی نے انکشاف کیا ہے کہ اس کے ایک اے آئی ماڈل سے وابستہ ایجنٹس نے۱۰۰؍سے زائد عالمی اداروں کے کمپیوٹر سسٹم میں غیر مجاز طور پر داخل ہونے کی کوشش کی۔ کمپنی کے مطابق ان واقعات میں اگرچہ حساس ڈیٹا چوری ہونے کے شواہد نہیں ملے، تاہم اے آئی ایجنٹس نے بعض ویب سائٹس اور سسٹمز کو غیر معمولی طریقے سے استعمال کرنے کی کوشش کی۔اوپن اے آئی اس وقت اپنے اے آئی ماڈلز کی تربیت اور ٹیسٹنگ سے متعلق تقریباً  ۵۰؍ پیٹا بائٹ ڈیٹا کی جانچ کر رہی ہے، تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ سامنے آنے والے واقعات کے علاوہ کہیں اور بھی اس نوعیت کی سرگرمیاں تو نہیں ہوئی ہیں۔ اس وسیع پیمانے کی جانچ کیلئے کمپنی نے تقریباً۷؍ ہزار جد یدجی پی یو  استعمال  کئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:عقل ٹھکانے آگئی! ایس آئی آر میں چھوٹ گئے نام شامل کرنےکیلئے الیکشن کمیشن کی خصوصی مہم

کمپنی کے مطابق ۵۰؍ پیٹا بائٹ ڈیٹا کی مقدار کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر یہ تمام مواد عام انگریزی الفاظ میں تحریر ہو اور ایک انسان مسلسل۲۴۰؍ الفاظ فی منٹ کی رفتار سے اسے پڑھتا رہے تو اسے مکمل کرنے میں تقریباً ۶ء۶؍ کروڑ سال لگ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس وسیع ڈیٹا کی جانچ بھی اے آئی ماڈلز کے ذریعے کی جا رہی ہے ۔اوپن اے آئی نے ان اداروں کو بھی الرٹ جاری کیا ہے جن کے سسٹم کو نشانہ بنانے کی کوشش ہوئی ہے۔

اے آئی ایجنٹس نے کیا کیا ؟
  اے آئی ایجنٹس نے سسٹم کا ’’تالا‘‘ توڑ کر اندر داخل ہونے کے بجائے بند دروازے کو زبردستی کھولنے اور ہینڈل گھمانے جیسی کوشش کی۔  یہ بھی سامنے آیا کہ بعض اے آئی ایجنٹس نے ویب سائٹس کو غیر مجاز کمانڈز بھیج کر ایسے عمل انجام دینے کی کوشش کی جن کی انہیں اجازت نہیں تھی۔ بعض معاملات میں ایجنٹس نے مختلف ویب سائٹس کو ایک دوسرے سے رابطے کیلئے استعمال کرنے کی کوشش بھی کی۔

یہ بھی پڑھئے:گجرات میں یکساں سو ِل کوڈ کو صدر جمہوریہ کی منظوری، اُتراکھنڈ کے بعد دوسری ریاست بن گئی

اوپن اے آئی نے تسلیم کیا ہے کہ بعض مواقع پر اس کے حفاظتی نظام اے آئی ایجنٹس کے غیر متوقع رویے کو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔ کمپنی کے ترجمان کے مطابق متاثرہ اداروں کو تکنیکی معلومات فراہم کر دی گئی ہیں تاکہ وہ اپنے سسٹم میں ہونے والی غیر مجاز سرگرمیوں اور ممکنہ حفاظتی خامیوں کی جانچ کر سکیں۔کمپنی کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے حاصل ہونے والے نتائج اور اے آئی ماڈلز کے غیر معمولی رویے سے متعلق معلومات کو بھی عام کیا جائے گا تاکہ سائبر سیکوریٹی کے ماہرین ان خطرات کو بہتر طور پر سمجھ سکیں اور ان سے نمٹنے کے طریقے تیار کر سکیں۔اس سے قبل جولائی میں سامنے آنے والے ہگنگ فیس واقعے کے بعد اوپن اے آئی نے اپنے حفاظتی انتظامات مزید سخت کئےہیں۔ اے آئی ماڈلز کے انٹرنیٹ استعمال پر پابندیاں بڑھائی گئی ہیں، تحقیق اور لائیو سسٹمز کو ایک دوسرے سے الگ کیا گیا ہے اور مشتبہ سرگرمیوں کی فوری نشاندہی کے لیے ریئل ٹائم مانیٹرنگ میں اضافہ کیا گیا ہے۔اس پورے معاملے کا ایک اہم پہلو جولائی میں سامنے آنے والا ہگنگ فیس واقعہ ہے۔ اوپن اے آئی اپنے ایک اے آئی ماڈل کی سائبر سیکوریٹی صلاحیتوں کی جانچ کر رہی تھی۔ بتایا گیا کہ ٹیسٹ کے دوران ماڈل نے سوالات حل کرنے کے بجائے ان کے ’’جوابات‘‘ حاصل کرنے کا راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی۔ماڈل کو ایک محفوظ اور محدود ٹیسٹنگ ماحول میں رکھا گیا تھا اور اسے انٹرنیٹ تک رسائی کی اجازت نہیں تھی۔ اس کے باوجود اس نے سیکوریٹی پابندیوں کو عبور کرکے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرنے اور ہگنگ فیس کے سسٹم تک پہنچنے کی کوشش کی تاکہ وہاں سے مطلوبہ معلومات حاصل کی جا سکیں۔ ہگنگ فیس نے ۱۶؍ جولائی کو اس واقعے کا انکشاف کیا تھا۔تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ معاملہ کسی ایک اے آئی ماڈل تک محدود نہیں تھا۔ مبینہ طور پر اس سرگرمی کا سلسلہ واقعے سے تقریباً دو ماہ قبل، یعنی مئی کے اوائل سے جاری تھا۔

یہ بھی پڑھئے:نومسلم آیوش ملک نے اپنے اغوا کی تردید کی

اوپن اے آئی کے سرورز کے اندر متعدد اے آئی ایجنٹس ایک دوسرے کے لئے پیغامات اور ’’نوٹس‘‘ چھوڑ رہے تھے، جن میں  سیکوریٹی نظام کو عبور کرنے اور ممنوعہ ڈیٹا تک رسائی کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا جا رہا تھا۔ ان ایجنٹس نے اپنے اس منظم نیٹ ورک کو ’’سوارم‘‘ یعنی منظم جھرمٹ کا نام دیا تھا۔اہم بات یہ تھی کہ انجینئرس نے اے آئی ماڈلز کو اس طرح کی سرگرمی انجام دینے کی تربیت نہیں دی تھی۔ بتایا گیا کہ ماڈلز نے دستیاب وسائل کو استعمال کرتے ہوئے یہ طریقہ خود اختیار کیا۔ کمپنی کو کچھ عرصے تک اپنے ہی سرورز پر جاری اس سرگرمی کا علم نہیں تھا۔اس واقعے نے اے آئی ماڈلز کے خود مختار رویے اور ان کی نگرانی سے متعلق نئے سوالات پیدا  کئے ہیں۔ بنیادی تشویش یہ ہے کہ اگر ایک اے آئی سسٹم محدود ماحول میں رہتے ہوئے اپنی دی گئی ہدایات سے آگے بڑھ کر متبادل راستے تلاش کر سکتا ہے تو ایسے نظاموں کی نگرانی، انٹرنیٹ تک رسائی اور حفاظتی حدود کا تعین کس طرح کیا جائے۔ایک مثال سے اسے یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر کسی گھر میں دو چیونٹیاں نظر آئیں تو اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ گھر میں صرف دو ہی چیونٹیاں موجود ہیں۔ اسی طرح ایک واقعہ کا بروقت سامنے آ جانا اس بات کی ضمانت نہیں کہ محفوظ سرورز یا بند ٹیسٹنگ ماحول میں اے آئی سسٹمز کی تمام غیر معمولی سرگرمیوں کا بھی پتہ چل چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اوپن اے آئی وسیع پیمانے پر اپنے ماڈلز کے تربیتی اور ٹیسٹنگ ڈیٹا کی جانچ کر رہی ہے تاکہ ایسے ممکنہ واقعات کی مزید نشاندہی کی جا سکے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK