• Thu, 26 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امدادی تنظیموں کی اسرائیلی عدالت سے فلسطین میں کام پر پابندی ختم کرنے کی اپیل

Updated: February 26, 2026, 12:06 PM IST | Gaza

فلسطین میں کام کر رہی ایک درجن سے زائد انسانی ہمدردی کی تنظیموں نے اسرائیل کی سپریم کورٹ میں درخواست کی ہے کہ اسرائیل کی طرف سے ایک متوقع حکم کو روکا جائے، جس کے تحت اسرائیل غزہ، مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں امدادی تنظیموں کو امدادی کار روائیاں روکنے پر مجبور کر سکتا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ایک درجن سے زائد بین الاقوامی انسانی ہمدردی کی تنظیموں نے اسرائیل کی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے کہ ایک متوقع حکم کو روکا جائے جس کے تحت ۳۷؍ غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کو غزہ، مقبوضہ مغربی کنارہ اور مشرقی یروشلم میں اپنی سرگرمیاں بند کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔ تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ فلسطینیوں کیلئے تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے۔ ان تنظیموں میں ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرس (ایم ایس ایف)، آکسفیم، دی نارویجین ریفیوجی کاوٌنسل اینڈ کیئر شامل ہیں۔ انہیں ۳۰؍ دسمبر ۲۰۲۵ء کو مطلع کیا گیا کہ اسرائیل میں ان کی رجسٹریشن کی مدت ختم ہو چکی ہے اور انہیں اپنے فلسطینی عملے کی فہرستیں فراہم کر کے ۶۰؍ دن کے اندر تجدید کرانی ہوگی۔ اگر وہ ایسا نہ کریں تو انہیں یکم مارچ سے غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے، بشمول مشرقی یروشلم، میں اپنی سرگرمیاں بند کرنا ہوں گی۔ اس درخواست کو اپنی نوعیت اور مشترکہ حیثیت کے لحاظ سے غیر معمولی قرار دیا گیا ہے۔ اس میں اسرائیل کی اعلیٰ ترین عدالت سے فوری عبوری حکمِ امتناعی جاری کرنے کی استدعا کی گئی ہے تاکہ مکمل عدالتی جائزے تک تنظیموں کی بندش کو معطل رکھا جائے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ایران کے خلاف خفیہ کارروائی سانحہ کا باعث بن سکتی ہے: اقلیتی لیڈرچک شومر

واضح ہو کہ ۱۷؍ درخواست گزار، جن میں پابندی سے متاثر بعض این جی اوز بھی شامل ہیں، مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ اسرائیلی اقدامات بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت قابض طاقت کی ذمہ داریوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔ این جی اوز کا کہنا ہے کہ عملے کی فہرستیں فراہم کرنے سے مقامی ملازمین کو ممکنہ انتقامی کارروائیوں کا خطرہ ہوگا، انسانی امداد کی غیر جانبداری کے اصول کو نقصان پہنچے گا، اور یورپی ڈیٹا تحفظ قوانین کی خلاف ورزی ہوگی۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’’انسانی ہمدردی کی تنظیموں کو تنازع کے کسی ایک فریق کیلئے معلومات جمع کرنے والا بازو بنا دینا غیر جانبداری کے اصول کے سراسر منافی ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ہارورڈ کے سابق لیکچرر کا دعویٰ، ’’جنت‘‘ کا سراغ پالیا، کائناتی افق کے پار

امدادی تنظیموں پر پابندی
اقوامِ متحدہ کے مطابق ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کے بعد سے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے دوران ۱۳۳؍ امدادی کارکن ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں ایم ایس ایف کے ۱۵؍ ملازمین بھی شامل ہیں۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسرائیل کو عملے کی فہرستیں دینے کے بجائے قابلِ عمل متبادل تجاویز پیش کی ہیں، جن میں ’’آزادانہ پابندیوں کی جانچ‘‘ اور ’’عطیہ دہندگان کی نگرانی میں جانچ کے نظام‘‘ شامل ہیں۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ وہ اجتماعی طور پر غزہ میں خوراک کی نصف سے زیادہ امداد، فیلڈ ہسپتالوں کی ۶۰؍ فیصد سرگرمیوں اور شدید غذائی قلت میں مبتلا بچوں کے تمام اندرونی (ان پیشنٹ) علاج کی معاونت یا عمل درآمد کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: برطانیہ میں خونی بارش کا انتباہ، آسمان سرخ اور نارنجی ہوگا

درخواست گزاروں کے مطابق عملی طور پر نفاذ پہلے ہی شروع ہو چکا ہے، سپلائیز روکی جا رہی ہیں اور غیر ملکی عملے کو ویزے دینے سے انکار کیا جا رہا ہے۔ فلسطینی علاقوں میں ایم ایس ایف کے مشن سربراہ فلپ ریبیرو نے گزشتہ ہفتے کہا، ’’ہم جنوری کے آغاز سے بین الاقوامی عملے کو غزہ کے اندر نہیں لا سکے ہیں۔ اسرائیلی حکام نے نہ صرف غزہ بلکہ مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی داخلے کی اجازت دینے سے انکار کیا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’فی الحال ہم غزہ میں کام جاری رکھے ہوئے ہیں اور جب تک ممکن ہوا اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔‘‘
واضح ہو کہ یہ پابندی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل عمومی طور پر انسانی امدادی اداروں کے حوالے سے اپنا مؤقف سخت کر رہا ہے۔ اس نے ۲۰۲۵ء کے اوائل میں ہی فلسطینی مہاجرین کیلئے اقوامِ متحدہ کی ایجنسی انروا (یو این آر ڈبلیو اے) پر اسرائیل میں پابندی عائد کر دی تھی۔ بین الاقوامی این جی اوز کیلئے موجودہ پابندی کی بنیاد مارچ ۲۰۲۵ء میں فلسطینیوں کے ساتھ کام کرنے والی غیر ملکی تنظیموں کے قواعد میں کی گئی تبدیلی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK