Updated: April 25, 2026, 10:06 PM IST
| Mumbai
بالی ووڈ میوزک کمپوزر امال ملک نے انکشاف کیا ہے کہ ۲۰۰۴ء کی فلم ’’مرڈر‘‘ کا میوزک ابتدا میں ان کے والد دبو ملک کو ملا تھا، لیکن بعد میں انو ملک نے پروڈیوسر سے رابطہ کر کے پورا ساؤنڈ ٹریک مفت میں کرنے کی پیشکش دی اور پروجیکٹ حاصل کر لیا۔ امال نے اس واقعے کو خاندانی اور پیشہ ورانہ کشیدگی کی ایک مثال قرار دیا۔
انو ملک اور اعمال ملک۔ تسویر: آئی این این
معروف میوزک کمپوزر امال ملک نے ایک حالیہ انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ فلم ’’مرڈر‘‘ کا میوزک اصل میں ان کے والد دبو ملک کو آفر ہوا تھا اور وہ اس پر کام شروع کرنے ہی والے تھے۔ امال کے مطابق، اس مرحلے پر ان کے چچا انو ملک نے فلم کے پروڈیوسر مہیش بھٹ سے رابطہ کیا اور پورا میوزک مفت میں کرنے کی پیشکش دی، جس کے بعد پروجیکٹ ان کے حوالے کر دیا گیا۔ امال نے کہا کہ وہ انو ملک کی صلاحیتوں کے معترف ہیں، لیکن ان کا ماننا ہے کہ اگر یہ ’’آگ‘‘ اپنے ہی خاندان کے خلاف استعمال ہو تو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بچپن میں ان کے خاندان کے تعلقات بہتر تھے، لیکن جیسے ہی دبو ملک نے بطور کمپوزر کام شروع کیا، حالات میں مسابقت آ گئی۔امال کے مطابق، ان کے والد کو اس صورتحال سے شدید ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے پہلے بھی الزام لگایا تھا کہ پیشہ ورانہ سطح پر رکاوٹیں ان کے والد کے ڈپریشن کا سبب بنیں۔
یہ بھی پڑھئے: دنیش ہنگو کے وائرل ویڈیو پر تشویش، خاندان نے مالی مشکلات کی خبروں کی تردید کی
انٹرویو میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ انو ملک ایک ’’جنگی گھوڑے‘‘ کی طرح ہیں جو ہر پروجیکٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں، چاہے اس کے لیے کسی کو بھی نظرانداز کرنا پڑے۔ تاہم، اعمال نے یہ بھی تسلیم کیا کہ انو ملک نے کئی یادگار گانے تخلیق کیے ہیں اور ان کی موسیقی سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ واضح رہے کہ ’’مرڈر‘‘ اپنے میوزک کی وجہ سے خاصی مقبول ہوئی تھی، اور اس کے گانے آج بھی بالی ووڈ کے یادگار ٹریکس میں شمار ہوتے ہیں۔امال ملک کے ان بیانات پر ابھی تک انو ملک یا دیگر متعلقہ افراد کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ سوشل میڈیا پر اس انکشاف کے بعد نیپوٹزم اور انڈسٹری میں مقابلے پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔