پنجاب میں لالہ نہال سنگھ اور وید کور کے یہاں ۲۲؍جون ۱۹۳۲ء کو امریش پوری کا جنم ہوا۔ امریش پوری کے تین بھائی اور ایک بہن تھیں، جن کے نام چمن پوری، مدن پوری، ہریش پوری اورچندرکانتا ہیں۔
EPAPER
Updated: October 29, 2023, 10:42 AM IST | Anees Amrohvi | Mumbai
پنجاب میں لالہ نہال سنگھ اور وید کور کے یہاں ۲۲؍جون ۱۹۳۲ء کو امریش پوری کا جنم ہوا۔ امریش پوری کے تین بھائی اور ایک بہن تھیں، جن کے نام چمن پوری، مدن پوری، ہریش پوری اورچندرکانتا ہیں۔
پنجاب میں لالہ نہال سنگھ اور وید کور کے یہاں ۲۲؍جون ۱۹۳۲ء کو امریش پوری کا جنم ہوا۔ امریش پوری کے تین بھائی اور ایک بہن تھیں، جن کے نام چمن پوری، مدن پوری، ہریش پوری اورچندرکانتا ہیں۔ اُن کے دونوں بڑے بھائی، چمن پوری اور مدن پوری بھی اداکاری کرتے تھے جبکہ مشہور گلوکار کے ایل سہگل ان کے چچیرے بھائی تھے۔
امریش پوری نے اپنی ابتدائی تعلیم پنجاب ہی سے حاصل کی اور اعلیٰ تعلیم کیلئے وہ شملہ چلے گئے، جہاں انہوں نے بی ایم کالج سے گریجویشن مکمل کیا۔ طالب علمی کے زمانے ہی سے انہیں تھیٹرسے محبت ہو گئی تھی، یہی وجہ تھی کہ تعلیم مکمل ہوتے ہی امریش پوری تھیٹر سے جڑ گئے۔
۱۹۵۷ء میں ان کی شادی اُرملا دِویکر سے ہوئی۔ فلموں میں آنے سے پہلے وہ کرمچاری راجیہ بیما نگم میں ملازمت کرتے تھے۔ یہاں انہوں نے۲۱؍ سال ملازمت کی۔ یہیں پر اُن کی ملاقات اُرملا دِویکر سے ہوئیجو رفتہ رفتہ الفت میں تبدیل ہو گئی۔ پہلے دونوں کے خاندان والے اس شادی کیلئے راضی نہیں تھے مگر بعد میں دونوں رضامندی ہی سے یہ شادی ہو ئی۔ امریش پوری کے ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہوئے۔ بیٹے کا نام راجیو پوری اور بیٹی کا نام نمرتا پوری ہے۔
۶۰ء کی دہائی میں امریش پوری اسٹیج اور تھیٹر کی دُنیا سے جڑ گئے۔ ۱۹۶۱ء میں ان کی ملاقات پدم وِبھوشن انعام یافتہ ہدایت کار ابراہیم القاضی سے ہوئی۔اس ملاقات نے ان کی زندگی کا رُخ ہی بدل دیا۔ابراہیم القاضی سے ملاقات کے بعد انہیں باقاعدہ ڈراموں میں اداکاری کرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے ستیہ دیو دوبے اور گریش کرناڈ کے لکھے ڈراموں میں بھی اداکاری کی اور اپنی پہچان بنائی۔ رفتہ رفتہ یہ ڈراموں کی دُنیا کے ایک مشہور اداکار بن گئے۔ انہوں نے ۶۰؍ سے زائد فل لینتھ ڈراموں میں کام کیا۔ ایک ڈرامہ ’آدھے ادھورے‘ میں ۵؍ کردار ادا کئے تھے۔ انہیں ۱۹۷۹ء میں سنگیت ناٹک اکادمی کی طرف سے بہترین اداکاری کیلئے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔ امریش پوری کی خوش بختی کا ایک دَور ایسا بھی آیا کہ اُن کی اداکاری کی تعریف سن کر آنجہانی اندرا گاندھی اور سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی جیسی مشہور شخصیات بھی ان کے ڈرامے دیکھنے جاتے تھے۔
۴۰؍ سال کی عمر میں انہوں نے فلمی دنیا میں قدم رکھا۔ انہوں نے اپنے فلمی کریئر کی شروعات ۱۹۷۰ء میں فلم ’پریم پجاری‘ سے کی تھی۔ فلمساز و ہدایت کار دیوآنند کی اس فلم میں مرکزی کرداروں میں دیوآنند، وحیدہ رحمان، اشوک کمار، شتروگھن سنہا اور مدن پوری وغیرہ تھے۔ اس کے بعد کچھ اور فلموں میں امریش پوری نے کام کیا مگر کوئی خاص کامیابی اُن کے حصے میں نہیں آئی۔ اس کے باوجود وہ لگاتار فلموں میں اداکاری کرتے رہے اور رفتہ رفتہ ویلن کے طور پر اُن کی پہچان بن گئی۔ امریش پوری فلموں میں ہیرو بننے کا خواب سجائے ممبئی آئے تھے مگر اپنی دم دار آواز، اونچے قد اور خونخوار چہرے کی وجہ سے ہیرو کی جگہ بہترین ویلن بن گئے۔ان کے دونوں بھائی، مدن پوری اور چمن پوری پہلے ہی سے فلموں میں کام کررہے تھے۔ ان کے تعلقات کی وجہ سےانہیں بھی فلموں میں چھوٹے چھوٹے کردار ملنے شروع ہو گئے تھے۔
۷۰ء سے ۸۰ء کے درمیان انہیں فلم ’ہلچل، ہندوستان کی قسم، نشانت، ڈاکو، منتھن، بھومیکا، بندے، ہمارے تمہارے، جانی دشمن اورلکھن‘ جیسی فلموں میں اداکاری کا موقع ملا۔ ان فلموں میں انہوں نے معاون اداکار کے طور پر کام کیا تھا۔ تب تک ان کی کوئی خاص پہچان نہیں بن سکی تھی۔۱۹۸۰ء میں انہوں نے فلمساز بونی کی فلم ’ہم پانچ‘ میں اداکاری کی تھی جس کے مرکزی کرداروں میں سنجیو کمار، شبانہ اعظمی، متھن چکرورتی، نصیر الدین شاہ اور راج ببر جیسے فنکار تھے۔ یہ فلم باکس آفس پر سُپر ہٹ ثابت ہوئی تھی جس کا فائدہ امریش پوری کو بھی ملا۔اسی سال فلم ’دوستانہ‘ بھی ریلیزہوئی جس کے ہدایت کار راج کھوسلہ اور کہانی نویس سلیم جاوید تھے۔یہ فلم بھی باکس آفس پر کامیاب رہی تھی۔
۱۹۸۱ء میں فلمی پردے کی زینت بنی فلمساز ششی کپور و ہدایت کار شیام بینیگل کی فلم ’کل یگ‘ میں امریش پوری نے کشن چند نام کا کردار ادا کیا تھا۔ اس فلم کو تین فلم فیئر ایوارڈ حاصل ہوئے تھے۔ اس طرح بڑے بینر کی فلمیں کرتے ہوئے ان کی شہرت میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ منموہن دیسائی کی فلم ’نصیب‘بھی ۱۹۸۱ء میں ریلیز ہوئی، جس میں امریش پوری نے ڈان کا کردار کیا تھا۔ ان دونوں ہی فلموں میں ان کی اداکاری کو فلم شائقین نے کافی پسند کیا تھا۔ ۱۹۸۲ء میں ایک انگریزی فلم ’گاندھی‘ میں بھی انہوں نے ایک رول ادا کیا۔
۸۰ء کی دہائی میں امریش پوری اداکاری کی دُنیا میں ایک بڑا نام بن چکا تھا۔ ۱۹۸۷ء میں شیکھر کپور کی ہدایت میں بنی فلم’مسٹر انڈیا‘ان کی زندگی کا سنگِ میل ثابت ہوا۔ انل کپور، شری دیوی، انو کپور، اشوک کمار، اور ستیش کوشک کی اداکاری سے سجی یہ فلم ۱۹۸۷ء کی کامیاب ترین فلم تھی۔ اس فلم میں موگیمبو کے کردار میں امریش پوری کو خوب شہرت حاصل ہوئی۔ فلم ’شعلے‘ کے گبر سنگھ کے بعد اگر کسی ویلن کو شہرت ملی، تو وہ’مسٹر انڈیا‘ کا موگیمبو تھا۔ اس فلم کا مشہور ڈائیلاگ ’موگیمبو خوش ہوا‘ ہر خاص و عام کی زبان پر چڑھ گیا تھا۔
ایک مشہور واقعہ ہے کہ فلم ’انڈیانا جونس اینڈ دی ٹیمپل آف ڈومز‘ کیلئے ہالی ووڈکے مشہور ہدایتکار اسٹیون اسپیل برگ نے آڈیشن لینے کیلئے امریش پوری کوامریکہ بلوایا تو ا انہوں نے صاف انکار کر دیا تھا۔ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آڈیشن لینا ہے تو وہ خود ہندوستان آئیں ۔ آخرکار اسٹیون اسپیل برگ کو ہی ان کے آڈیشن کیلئے ہندوستان آنا پڑا۔ قیاس تھا کہ شاید ہی وہ امریش پوری کو سائن کریں مگر اِتنا کچھ ہونے کے بعد بھی اسٹیون اسپیل برگ نے اُنہیں اپنی فلم کیلئے منتخب کیا۔ اس فلم میں انہوں نے’بھولارام‘ نامی ایک تانترک کا کردار ادا کیا تھا اور پوری دُنیا میں اپنی بہترین اداکاری کا لوہا منوایا تھا۔ اس فلم کیلئے وہ پہلی بار گنجے ہوئے تھے اور بعد کی کئی فلموں میں یہ اُن کا اسٹائل ہی بن گیا تھا۔
ہدایتکار ناصرحسین کی فلم ’زبردست‘ میں امریش پوری بھی تھے۔ اس فلم میں عامر خان اپنے چاچا ناصرحسین کے ساتھ بطور معاون ہدایت کار جڑے ہوئے تھے۔ اُس وقت امریش پوری کو یہ نہیں معلوم تھا کہ ان دونوں کے درمیان کیا رشتہ ہے۔ اُن کیلئے عامر خان ایک نوعمر اور نوتجربہ کار معاون ہدایت کار تھا۔ شوٹنگ کے دوران عامر نے ایک شاٹ کے سلسلے میں انہیں ٹوکا تو امریش پوری نے نظرانداز کر دیا۔ اُس کے بعد عامر نے تین چار بار انہیں یاد دلایا کہ پچھلے شاٹ میں آپ کا ہاتھ کہیں اور تھا اور اب کہیں اور ہے۔ عامر کے کئی بار ٹوکنے پر وہسخت ناراض ہو گئے اورفلم کے سیٹ پر سب کے سامنے ہی انہوں نے عامر کو ڈانٹنا شروع کر دیا ۔لیکن بعد میں جب انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا تو انہوں نے عامر خان سے اپنے اس رویے کیلئے معافی بھی مانگ لی۔
امریش پوری کے اندر ایسی فنکارانہ مہارت تھی کہ وہ جو کردار بھی کرتے تھے، اُس میں جان ڈال دیتے تھے۔ اگر ناظرین کو انہیں ’مسٹر انڈیا‘ کے موگیمبو کے کردار میں دیکھ کر غصہ آیاتھا تو فلم ’دل والے دلہنیا لے جائیں گے‘ میں سمرن کے باپ کے کردار سے ان پر پیار بھی آیا تھا۔ امریش پوری اخبار کا مطالعہ بھی بہت پابندی سے کیا کرتے تھے۔
فلمی پردے پر امریش پوری جتنے سخت نظر آتے تھے، اپنی حقیقی زندگی میں وہ اتنے ہی نرم دل انسان تھے۔ ۳۰؍برس سے زیادہ عرصے تک فلمی دُنیا میں کام کرتے ہوئے انہوں نے چار سو سے زائد فلموں میں اداکاری کی۔ اپنے کرداروں کیلئے وہ جس طرح سے گیٹ اَپ کیا کرتے تھے، وہ بہت کم لوگوں کے حصے میں آیا ہے۔
امریش پوری نے اپنی بہترین اداکاری کی وجہ سے بہت سے انعامات و اعزازات اپنے نام کئے ہیں ۔ ۱۹۷۹ء میں انہیں اسٹیج پر بہترین اداکاری کے اعتراف میں سنگیت ناٹک اکیڈمی ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ اس کے بعد ۱۹۸۶ء میں فلم ’میری جنگ‘ کیلئے بہترین معاون اداکار کا فلم فیئر کا ایوارڈپیش کیا گیا۔ ۱۹۹۴ء میں سڈنی فلم فیسٹیول اور سنگاپور انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں فلم ’سورج کا ساتواں گھوڑا‘ میں بہترین اداکار کا اعزاز انہیں پیش کیا گیا تھا۔ سال ۱۹۹۷ء میں فلم ’گھاتک‘ کیلئے بہترین معاون اداکار کا فلم فیئر کا ایوارڈ دیا گیا۔ ۱۹۹۸ء میں فلم’وراثت‘ کیلئے بہترین معاون اداکار کا فلم فیئرایوارڈ بھی انہوں نے حاصل کیا۔
۱۲؍جنوری ۲۰۰۵ء کو ۷۲؍برس کی عمر میں برین ٹیومر نے امریش پوری کی جان لے لی۔ امریش پوری بھلے ہی آج ہمارے درمیان نہیں ہیں، لیکن ان کی بہترین اداکاری کے حوالےسے لوگ آج بھی انہیں یاد کرتے ہیں۔