Inquilab Logo Happiest Places to Work

کلیان: ۱۳؍ سال سے ہورڈنگز کیلئے کوئی ٹینڈر نہیں!

Updated: August 19, 2026, 2:29 PM IST | Ejaz Abdul Ghani | Kalyan

کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن کی حدود میں ۴۰۰ ؍ہورڈنگز غیر قانونی، شہری انتظامیہ کو ۶۰؍ کروڑ روپے کا نقصان۔

A hoarding installed within KDMC limits. Picture: INN
کے ڈی ایم سی کی حدود میں لگائی گئی ایک ہورڈنگ۔ تصویر: آئی این این

 کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن (کے ڈی ایم سی)کی حدود میں بڑی اشتہاری ہورڈنگز کے کاروبار میں مبینہ بے ضابطگیوں کا ایک بڑا معاملہ سامنے آیا ہے۔ گزشتہ ۱۳؍ برسوں سے ہورڈنگز لگانے کیلئے  مسابقتی بنیادوں پر ٹینڈر جاری نہ کئے جانے کے نتیجے میں شہری انتظامیہ کو تقریباً ۵۰ ؍ سے ۶۰؍ کروڑ روپے کے مالی نقصان کا انکشاف ہوا ہے۔مزید تشویش ناک بات یہ ہے کہ شہر میں موجود تقریباً ۶۰۰؍ بڑی ہورڈنگز میں سے ۴۰۰؍ کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:امریکہ: ڈونالڈ ٹرمپ کی مقبولیت کم ترین سطح پر: ایران جنگ و امیگریشن پرعوامی رائے

تفصیلات کے مطابق ہورڈنگز کے معاملے کی جانچ کے لئے تشکیل دی گئی ایڈہاک کمیٹی کے اب تک ۴؍ اجلاس ہو چکے ہیں۔ کمیٹی کی تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ سال ۲۰۱۴ء کے بعد محکمہ املاک نےہورڈنگزکیلئے کوئی نیا ٹینڈر جاری نہیں کیا بلکہ موجودہ ایجنسیوں کے معاہدوں کی تجدید یا مدت میں توسیع کے ذریعہ کام جاری رکھا گیا۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ شفاف اور مسابقتی ٹینڈرنگ نہ ہونے سے کارپوریشن کو حاصل ہونے والی ممکنہ آمدنی میں بھاری نقصان ہوا۔محکمہ املاک کی جانب سے ابتدائی طور پر کمیٹی کو تقریباً ۲۰۰ ؍غیر قانونی ہورڈنگز کی اطلاع دی گئی تھی تاہم کمیٹی کی مزید چھان بین میں یہ تعداد بڑھ کر تقریباً۔۴۰۰ ؍تک پہنچ گئی۔ یہ بڑی ہورڈنگز کلیان، ڈومبیولی اور ٹٹوالا کے اہم راستوں اور ریلوے اسٹیشنوں کے اطراف اہم مقامات پر نصب ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: سعودی عرب : نایاب پرندے کی نیلامی، کنیڈین باز۳؍لاکھ ۶۴؍ہزار ڈالر میں میں خریدا گیا

کمیٹی کے چیئرمین اور کارپوریٹر دپیش مہاترے کے مطابق ان غیر قانونی ہورڈنگز کے باعث گزشتہ برسوں میں کارپوریشن کو ۵۰؍ سے ۶۰؍ کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ جن مقامات پر اشتہاری بورڈ کے نرخ انتہائی زیادہ ہیں وہاں اتنے طویل عرصے سے ہورڈنگز لگائے جانے کے باوجود کارپوریشن کو متوقع آمدنی کیوں نہیں ملی اس کی تحقیقات ضروری ہے۔ دوسری جانب ہورڈنگز کے سائز سے متعلق بھی سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔بتایا گیا ہے کہ ۱۰۰؍ سے زائد ہورڈنگز مالکان نے صرف ۱۰۰؍ مربع فٹ کے اشتہاری بورڈ لگانے کی اجازت حاصل کی لیکن موقع پر کارپوریشن کو مبینہ طور پر اندھیرے میں رکھتے ہوئے ۲۰۰ ؍مربع فٹ کے ہورڈنگز نصب کر دی گئیں۔فی الحال وارڈ کی سطح پر قانونی اور غیر قانونی ہورڈنگز کی نشاندہی اور ان کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔کے ڈی ایم سی نے غیر قانونی ہورڈنگز کے مالکان سے واجب الادا فیس اور دیگر بقایا جات وصول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ غیر قانونی ہورڈنگز کو ہٹانے کیلئے ٹینڈر کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ ایک ہورڈنگ کو منہدم کرنے پر تقریباً ۲؍ لاکھ روپے کا خرچ آنے کا اندازہ ہے۔کمیٹی نے تجویز دی ہے کہ یہ بوجھ کارپوریشن کے خزانے پر ڈالنے کے بجائے ٹھیکیدار کو ہورڈنگ ہٹانے کے بعد اس کا اسکریپ اپنے پاس رکھنے کی اجازت دی جائے تاکہ انہدام کے اخراجات اسی سے پورے کئے جا سکیں۔ اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر وندنا گڑوے نے کہا کہ کارپوریشن کی حدود میں تمام غیر قانونی ہورڈنگز کے خلاف کارروائی کی جائے گی، اس سلسلے میں ایڈہاک کمیٹی نے فیصلہکر لیاہے اور ہورڈنگز ہٹانے کیلئے ٹینڈر کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK