Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’جنتر منتر پرکارروائی میں کوئی مرا نہیں، اسلئے دہلی پولیس کی تعریف ہونی چاہئے‘‘

Updated: August 19, 2026, 1:54 PM IST | Agency | New Delhi

مرکزی وزیر کرن رجیجو کی عجیب وغریب منطق، یہ دعویٰ بھی کیا کہ فائرنگ تو دور ایک لاٹھی بھی نہیں چلی، صرف مظاہرین نے پارلیمنٹ مارچ شروع کیا توانہیں روکا گیا۔

Kiran Rijiju. Picture: INN
کرن رجیجو۔ تصویر: آئی این این

جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کے دوران  ۲۰؍ جولائی کو مظاہرین کے خلاف پولیس کی پرتشدد کارروائی کا مرکزی وزیر کرن رجیجو نے یہ کہہ کر دفاع کیا ہے کہ اس کارروائی میں  ’’ایک بھی شخص نہیں مرا۔‘‘انہوں نے کہا کہ اس کیلئے ’’دہلی پولیس کی تعریف ہونی چاہئے۔‘‘دلچسپ بات یہ ہے کہ دہلی پولیس خود سپریم کورٹ  میں داخل کئے گئے حلف نامہ میں اعتراف کرچکی ہے کہ اس کی کارروائی میں ۲۰۰؍ مظاہرین زخمی ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: بی جے پی آئی ٹی سیل کےعہدیدار اپنا ’آن لائن ماضی‘ صاف کرنے میں مصروف

مرکزی وزیر نے بہار کے سیوان ضلع میں مظاہرین کے خلاف اے کے ۴۷؍ کے استعمال کی بھی تردید کی جبکہ بہار سرکار سپریم کورٹ میں اس کا اعتراف کرچکی ہے۔ دہلی کے حوالے سے کرن رجیجو نے دعویٰ کیا کہ ایک بھی شخص شدید طور پر زخمی نہیں ہوا اور کسی کی ہڈی نہیں  ٹوٹی جبکہ آر ٹی آئی کے جواب میں ۱۰؍ افراد کے پیلٹ گن سے زخمی ہونے کی تصدیق ہوچکی ہےا ور ۲۰؍ جولائی کی پولیس کارروائی کے بعد جنتر منتر پر متعدد نوجوان  بچے بچیاں ہڈیاں ٹوٹ جانے کی وجہ سے  پلاسٹر لگا کر پہنچے تھے۔ خبر رساں ایجنسی اے این آئی کو دیئے گئے انٹرویو میں اس سوال پر کہ ’گولی تو چلی ہے‘، رجیجو نے کہا کہ ’’ کہاں گولی چلی ہے؟...ایک بھی شخص نہیں مرا، کسی کی بھی ہڈی نہیں ٹوٹی، ایک شخص بھی سنگین حالت میں  اسپتال داخل نہیں ہوا۔‘‘ انہوں نے گفتگو کے دوران ایک موقع پر یہ بھی کہا کہ مظاہرین کے خلاف ’’ایک  لاٹھی بھی نہیں چلی‘‘ صرف جب وہ پارلیمنٹ کی طرف مارچ کرنےلگے تو پولیس نے انہیں روکنے کی کوشش کی۔  انہوں نے کہا کہ ’’ یہ صحیح ہے نا کہ ایک بھی آدمی نہیں مرا،تو پھر کیا ہمیں پولیس کی تعریف نہیں کرنی چاہئے؟ انہوں نے سب کچھ اتنے اچھے سے سنبھالا پھر بھی ہم ان پر تنقید کررہے ہیں؟‘‘

یہ بھی پڑھئے: جھارکھنڈ میں مظاہرین نے سرکار کا شکریہ ادا کیا لیکن احتجاج جاری

’’ دماغ سے خالی یہ لوگ ہی  سب سے بڑا خطرہ ہیں‘‘

دہلی  پولیس کے اس دفاع پر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ ’’پارلیمنٹ سے آدھاکلومیٹر کی دوری پر پُرامن طلبہ پر پیلٹ گن چلی، کیل لگی لاٹھیاں برسیں، ایک بچے کی آنکھ ضائع ہوئی ، ایک کا کان کٹ گیا۔ کیا اس کی تعریف ہونی  چاہیے؟... اس حکومت کا بنیادی منتر ہی جھوٹ اور تشدد ہے۔ پہلے بچوں پر لاٹھیاں برساؤ، پھر کہہ دو کہ کچھ ہوا ہی نہیں...اس ملک کیلئے سب سے بڑا خطرہ یہی دماغ سے خالی لوگ ہیں جنہیں نہ اپنی غلطی دکھائی دیتی ہے اور نہ دکھانے پر مانتے ہیں۔ ملک کے بچوں سے جھوٹ مت بولیے۔ ان کے پاس آنکھیں بھی ہیں اور یادداشت بھی۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK