نتن نبین کی قیادت میں بی جےپی کی نئی ٹیم کے اعلان پر جن تبدیلیوں نے سب سے زیادہ توجہ حاصل کی ان میں امیت مالویہ کا بی جےپی آئی ٹی سیل کے سربراہ کے عہدہ سے ہٹایا جانا سرفہرست ہے۔
EPAPER
Updated: August 19, 2026, 2:12 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai
نتن نبین کی قیادت میں بی جےپی کی نئی ٹیم کے اعلان پر جن تبدیلیوں نے سب سے زیادہ توجہ حاصل کی ان میں امیت مالویہ کا بی جےپی آئی ٹی سیل کے سربراہ کے عہدہ سے ہٹایا جانا سرفہرست ہے۔
نتن نبین کی قیادت میں بی جےپی کی نئی ٹیم کے اعلان پر جن تبدیلیوں نے سب سے زیادہ توجہ حاصل کی ان میں امیت مالویہ کا بی جےپی آئی ٹی سیل کے سربراہ کے عہدہ سے ہٹایا جانا سرفہرست ہے۔ ۲۰۱۵ء سے وہ یہ ذمہ داری سنبھال رہے تھے۔ انہوں نے آن لائن پلیٹ فارمس کو بی جےپی کیلئے طاقتور ہتھیار میں تبدیل کیامگر ۱۱؍ سال بعد انہیں اچانک ہٹا کر چھتیس گڑھ سے تعلق رکھنے والے دیپک مہسکے کو ذمہ داری سونپ دی گئی۔ پریتی گاندھی (مہاراشٹر)، شیوانند دویدی (دہلی)، آلوک بھٹ (اتراکھنڈ) اور ارون یادو (ہریانہ) کو ان کا معاون (کو کنوینر) بنایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل میں انتخابات کی تیاریاں ، لیکوڈ پارٹی نے امیدواروں کی فہرست جاری کی
مالویہ کو ہٹانے کی بی جے پی نے کوئی وجہ نہیں بتائی تاہم سیاسی حلقوں میں چہ میگوئیاں ہورہی ہیں کہ جین زی کے احتجاج میں سوشل میڈیا کے محاذ پر بی جےپی کی شرمناک ناکامی اس کی وجہ ہے جس کے پیش نظر وہ اپنی ڈجیٹل حکمت عملی تبدیل کرنے پر مجبور ہوئی۔ یہ بات تو واضح ہے کہ جین زی کے احتجاج میں بی جےپی آئی ٹی سیل کی ناکامی سے پارٹی اعلیٰ کمان خوش نہیں تھا۔ خاص طور سے انسٹا گرام پر جس طرح وزیراعظم نریندر مودی کو براہ راست نشانہ بنایاگیا اور اس کے خلاف بی جےپی کا بیانیہ جس طرح ناکام ہوا اس کے بعد ہی سے امیت مالویہ کے تعلق سے یہ اطلاعات آرہی تھیں کہ انہیں ہٹایا جانا طے ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ اس ناکامی پر برہمی کااظہار صرف پارٹی سطح پر نہیں کیاگیا بلکہ آر ایس ایس نے بھی تشویش کا اظہار کیا۔ سنگھ پریوار کے نظریہ ساز رتن شاردا نے تنقید کی تھی کہ زیر بحث آئی ٹی سیل زمینی حقائق سے لاعلم اور لاتعلق تھا۔وہ اس سے پہلے بھی ’’عام شہریوں کی ٹرولنگ‘‘ پر امیت مالویہ کو نشانہ بناچکے ہیں۔ ۲۰۲۴ء میں بجٹ پر سوال اٹھانے والے ہر شخص کی ٹرولنگ پر شاردا نے نشاندہی کی تھی کہ ’’یہ طرز عمل بہت سنگین مسئلہ ہے۔ بجٹ کی اچھی باتوں کو آسان اور عام فہم انداز میں بتانے کے بجائے بی جے پی آئی ٹی سیل عام لوگوں کی ٹرولنگ پر اتر آتا ہے۔‘‘ انہوں نے امیت مالویہ کو مخاطب کرکے کہاتھا کہ ’’ لوگوں کے خدشات کا جواب دیں، ان کی توہین نہ کریں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ’’جنتر منتر پرکارروائی میں کوئی مرا نہیں، اسلئے دہلی پولیس کی تعریف ہونی چاہئے‘‘
دی پرنٹ سے بات کرتے ہوئے بی جےپی کے ایک لیڈر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ’’ہمیشہ جارحیت نہیں چلتی، تھوڑی لاجک کا بھی استعمال ہونا چاہئے۔‘‘مذکورہ لیڈر نے تصدیق کی کہ حالیہ کچھ واقعات کی وجہ سے پارٹی کی قیادت مالویہ سے خوش نہیں تھی۔اس ناراضگی کی وجہ ان کے کچھ ایسے پوسٹ بھی تھے جو ملک کی خارجہ پالیسی کیلئے نقصاندہ ثابت ہوسکتے تھے۔ اس اعتراف کے باوجود کہ سوشل میڈیا پر بیانیہ طے کرنے میں مالویہ ماضی میں بہت کامیاب رہے ہیں ، بی جے پی کا ایک طبقہ یہ مانتا ہے کہ انہوں نے کئی بار’’حدیں پار کیں۔‘‘ بی جےپی کے ایک اور لیڈر کے مطابق ’’کچھ وقار باقی رہنا چاہئے اور ایک حد سے نیچے نہیں گرنا چاہیے۔‘‘ مالویہ کے تعلق سے انہوں نے اسے بھی شرمناک قرار دیا کہ ’’کئی بار ان کے پوسٹ فیک نیوز قرار پائے اور جھوٹ پھیلانے پر سوشل میڈیا پر ان کی باقاعدہ نشاندہی کی گئی۔‘‘ مذکورہ لیڈر کے مطابق’’ اسے بڑی حدتک نظر اندا زکیاگیا مگر یہ معمول تو نہیں بن سکتا۔ ‘ ‘ستم بالائے ستم، جین زی کا حالیہ احتجاج مالویہ کیلئے فیصلہ کن ثابت ہوا۔ زعفرانی پارٹی کے ایک اور لیڈر نے بتایا کہ’’ اس میں کوئی شک نہیں کہ جین زی اور بی جے پی کے درمیان خلا پیدا ہو گیا ہے۔سوشل میڈیا پر ہم نوجوانوں سے جڑنے کیلئے اب بھی پرانے طریقے استعمال کر رہے ہیں۔ انسٹاگرام پر بھی ہماری کارکردگی اچھی نہیں۔ نوجوانوں تک پہنچنے کیلئے تیارکئے گئے نئے پوسٹس کا اثر بھی الٹا ہوا اور وہ بھی جین زی کی تنقید اور مزاح کا موضوع بن گئے۔‘‘جین زی کے احتجاج سے یہ واضح ہوجانے کے بعد کہ سوشل میڈیا پرپرانی جارحانہ حکمت عملی نئی نسل کو متاثر نہیں کررہی ہے، پارٹی کیلئے نئی ڈجیٹل حکمت عملی کیلئے نئی ٹیم ضروری تھی۔ مجموعی طور پر امیت مالویہ کا ہٹایا جانا نوجوان نسل تک پہنچنے کیلئے اسی نئی ڈجیٹل حکمت عملی کی تلاش کی کوشش ہے۔