• Mon, 26 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

’’مظفرعلی سے میں نے سیکھا کہ پُرسکون اور مطمئن رہنے سے کچھ مسائل خود ہی حل ہوجاتے ہیں‘‘

Updated: November 19, 2023, 12:34 PM IST | Abdul Karim Qasim Ali | Mumbai

اداکارہ اور گلوکارہ انیشامدہوک کے مطابق ’آنندا‘ میں ان کا کردار’ امراؤ جان‘ جیسا ہی ہے، جس میں انہوں نے رقص بھی کیاہے اور آواز کابھی بہت اچھا استعمال کیا ہے، مشہور ہدایت کار مظفر علی کے ساتھ کام کرنے کو اپنی خوش بختی سے تعبیر کیا۔

Actress Aneesha Madhok with famous director Muzaffar Ali. Photo: INN
مشہور ہدایت کار مظفر علی کے ساتھ اداکارہ انیشا مدہوک۔ تصویر : آئی این این

کینیا میں پیدا ہونے والی اداکارہ اور گلوکارہ انیشا مدہوک روایتی انداز کو پسند کرتی ہیں ۔ وہ لاس اینجلس میں رہیں اور ہالی ووڈ کی فلم ’بَلی ہائی ‘ میں کام کیا جس کی کہانی کا مرکز ایک لڑکی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے میوزک ویڈیوز اور اوٹی ٹی پلیٹ فارمس کے چند شوز میں کام کیا۔ اس وقت وہ معروف ہدایتکار مظفر علی کےپلے میں بھی کام کررہی ہیں ۔ انہوں نے ایک شارٹ فلم بھی بنائی ہے جس کی کہانی گھریلو تشدد کو پیش کرتی ہے۔ اس فلم میں انہوں نے ہدایتکاری کے ساتھ اداکاری بھی کی ہے۔ نمائندہ انقلاب نےانیشا مدہوک سے بات چیت کی جسے یہاں پیش کیا جارہا ہے:
آپ اپنے پلے آنندا کے بارے میں کچھ بتائیں ؟
 ج: آنندا نیلوفرکریم بھائی کا لکھا ہوا پلے ہے۔نیلوفر شہناز حسین کی بیٹی ہیں ۔انہوں نے بہت ہی اچھا پلے لکھا ہے۔اس ڈرامے کو مظفر علی نے ڈائریکٹ کیا ہے، جس کا نریشن کبیر بیدی کریں گے۔ آنندا دراصل نیلوفر کریم بھائی کی کتاب پر مبنی کہانی ہے ۔ 
ہدایتکارمظفر علی کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ کیسا رہا؟
 ج:مـظفرعلی کے بارے میں سبھی جانتے ہیں کہ وہ کتنے بڑے ہدایتکار ہیں اور انہوں نے بالی ووڈ کوکیسی کیسی کامیاب فلمیں دی ہیں ۔ میرا اور ان کا ایک روحانی رشتہ بن گیا تھا۔ یہاں تک کہ ان کی بیٹی بھی کہتی تھی کہ میں ان کی روحانی بیٹی ہوں ۔ ان کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ بھی اچھا رہا۔ ان کے ساتھ رہتے ہوئے میں نے ایک بات سیکھی کہ آدمی کو پُر سکون اور مطمئن رہنا چاہئے اس سے اس کے سارے مسائل حل ہوجاتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی اسے ایک شاہانہ رویہ بھی اختیار کرنا چاہئے جس سے وہ اپنی شناخت قائم کرسکے۔ آنندا میں میرا کردار امراؤ جان جیسا ہی ہے اور اس میں میں نے رقص بھی کیاہے۔ اس کے ساتھ ہی آواز کابھی بہت اچھا استعمال ہے۔ میں بہت خوش نصیب ہوں کہ مجھے مظفر علی صاحب کے ساتھ کام کا موقع ملا اور میں اسی طرح کے رول ادا کرنے کی خواہشمند ہوں ۔ اس کے ساتھ ہی انڈسٹری میں خوبصورت تبدیلی بھی لانا چاہتی ہوں۔
 کیا آپ نے ایرانی شوبز انڈسٹری میں بھی کام کیاہے؟
 ج:جی ہاں میں نے ایرانی شوبز انڈسٹری کیلئے بھی کام کیاہے ۔ وہاں کے اداکاروں کے سامنے کام کرنا بہت مشکل ہوتاہے کیونکہ ان کی پرفارمنس بہت حقیقی ہوتی ہے۔ ان کی اداکاری دیکھ کر میں نے بھی بہت کچھ سیکھا تھا۔ وہاں کی کہانیاں بھی خاصی دلچسپ ہوتی ہیں اور انہیں دیکھنے کا دل بھی کرتاہے۔ وہاں کئی اچھے اور تجربہ کار ہدایتکار موجود ہیں ۔ ماجد ماجیدی کانام بہت مشہور ہے جن کی فلمیں بین الاقوامی سطح پر بہت پسند کی جاتی ہیں اور انہیں ناقدین کی طرف سے بھی پزیرائی ملتی ہے ۔ وہاں کام کرنے سے مجھے فارسی زبان بھی آگئی تھی۔ وہاں کا تجربہ بہت اچھا تھا۔ 
آپ ممبئی کب آنے والی ہیں ؟
 ج:فی الحال امید کم ہے کیونکہ میں اس وقت پنجاب میں ہوں اور یہاں بہت مصروف ہوں ۔حالانکہ مجھے ممبئی سے بہت سے فلمسازوں اور ہدایتکاروں کی پیشکش آرہی ہے لیکن جس طرح کی فلمیں اور ویب شوز ممبئی میں بنائے جا رہے ہیں وہ میرے لئے قابل قبول نہیں ہے۔ ان میں فحاشی اور عُریانیت بہت ہے۔ بالی ووڈ کی ہیروئنس بھی کم کپڑوں کو فیشن کہہ رہی ہیں جوکہ صحیح نہیں ہے۔ میں ہندوستانی روایت کو پسند کرتی ہوں اور اس طرح کے رول کرنا چاہتی ہوں جس میں عورت کی عزت ہوتی ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ میں انڈسٹری میں تبدیلی لاؤں لیکن یہ اکیلے ممکن نہیں ہے، اسلئے میں پنجابی فلموں میں کام کررہی ہوں ۔پنجاب میں شلوار قمیص کا کلچر آج بھی موجود ہے اور لوگ اسے پسند کرتے ہیں ۔
کیاپنجابی فلموں سے آپ کو موقع ملنے کا امکان ہے ؟
 ج: میں اس وقت پنجابی فلموں میں کام کر رہی ہوں ۔ اس کے ساتھ ہی میں اسکرپٹ بھی لکھ رہی ہوں ۔ میں نے فیصلہ کیاہے کہ میں اپنی لکھی ہوئی اسکرپٹ پرفلمیں بناؤں اور اس میں اداکاری کرتے ہوئے اپنے لئے نئی راہیں تلاش کروں ۔ میں ثابت کروں گی کہ مجھ جیسی روایتی اداکاروں کو بھی لوگ پسند کرتے ہیں جو میرے کپڑے یا چہرے کو نہیں بلکہ میرے فن کے مداح ہیں ۔ میرے نزدیک لُک اہمیت نہیں رکھتا بلکہ میں اپنی صلاحیت کی بنیاد پر بالی ووڈ میں آنا چاہتی ہوں ۔ بہرحال میری طرف سے کوشش جاری ہے۔
کیا آپ نے کوئی پنجابی شارٹ فلم بھی بنائی ہے؟
 ج:جی ہا ں میں نے ایک پنجابی شارٹ فلم بھی بنائی ہے جس کی کہانی میں نے خود لکھی ہے اور اس میں اداکاری بھی کی ہے۔ اس کی ہدایتکار بھی ہوں ۔اس فلم کا موضوع گھریلو تشدد ہے لیکن یہ صرف لڑکیوں اور عورتوں کے ساتھ نہیں ہوتابلکہ مردوں اور لڑکوں کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔ کوئی بھی فرد اس کا شکار ہوسکتاہے۔ آج کے ماحول میں صرف لڑکیاں ہی تشدد کا شکار نہیں ہورہی بلکہ مردبھی ہورہے ہیں ۔ میں یہ پیغام دینا چاہتی ہوں کہ اس آلودہ ماحول میں ہم محبت کے ذریعہ اس مسئلہ کو حل کرسکتے ہیں ۔
بلی ہائی کی کامیابی پر کچھ کہنا چاہیں گی؟ 
 ج:میں بہت خوش ہوں کہ میری پہلی ہالی ووڈ فلم اتنی کامیاب رہی۔ میں نے اس فلم میں ایک مسلم لڑکی کا کردار ادا کیا تھا جوکہ حجاب پہنتی ہے، اس رول کی تیاری میں نے کافی محنت سے کی تھی جس کی وجہ سے اس فلم کا نام ہالی ووڈ کی بڑی فلموں کے ساتھ لیا جاتاہے۔ میں امید کرتی ہوں کہ اس طرح کے چیلنجنگ رول نبھاتے ہوئے میں آگے بڑھوں اور بالی ووڈ تک پہنچوں۔
کیا آپ ویڈیو البم بھی بناتی ہیں ؟ 
 ج:میں ہرفن مولا اداکار ہوں ۔ میں میوزک البم بھی بناتی ہوں ، اس میں گلوکاری بھی کرتی ہوں اور ایکٹنگ بھی۔ میرے نزدیک ایک اچھا فنکار وہ ہے جسے سب کچھ آتاہو۔ وہ اچھی اداکاری کرے، اچھی آواز میں گیت گائے، ہدایتکاری اور فلمسازی بھی کرے ، میں ان سبھی میں ماہر افراد کو ہی اچھا آرٹسٹ تسلیم کرتی ہوں۔ 
کیا انڈسٹری میں ایسا کوئی اداکارموجود ہے؟ 
 ج: میرے خیال سے آیوشمان کھرانہ میں یہ ساری صلاحیتیں موجود ہیں۔ وہ اچھی اداکاری کرنے کے ساتھ موسیقی کی بھی اچھی معلومات رکھتے ہیں۔ وہ اپنے گیت خود گاتے ہیں۔ وہ موسیقار بھی ہیں اور اپنے نجی البم خود ہی کمپوز کرتے ہیں ۔ میرے نزدیک آج کی تاریخ میں آیوشمان کھرانہ ایک بہترین فنکارہیں۔ 
کریئر یا زندگی کا کوئی ہدف آپ نے طے کیاہے ؟
 ج:جی ہاں ، میں نے ہدف طے کیاہے اور کام بھی شروع کردیا ہے۔ ہماری فیملی پنجابی ہے لیکن ہماری جڑیں ایران سے جڑی ہیں اسلئے میں پنجابی ،فارسی، ہندی اور انگریزی آسانی سے بول لیتی ہوں۔ ساتھ ہی اردو بھی بولنے کی کوشش کرتی ہوں۔ میں سبھی کو متحد کرنا اور ان کے درمیان ذات اور مذہب کا فرق مٹادینا چاہتی ہوں۔ آج جس طرح کا ماحول ہے وہ ہماری اگلی نسلوں کیلئے اچھا نہیں ہے، اسلئے ہمیں آج ہی سے بہتر سوچنا اور کرنا چاہئے تاکہ اس کا اثر ابھی سے شروع ہواور اگلی نسلوں تک اس کا فائدہ پہنچے۔ میری کوشش ہے کہ میں اپنے مقصد میں کامیاب رہوں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK