مغربی کنارے میں اسرائیلی توسیع کی اقوام متحدہ کے ۸۵؍ مذمتی ارکان میں ہندوستان شامل نہیں ہے، جبکہ وزیر اعظم مودی اسرائیلی دورے کی تیاری کررہے ہیں،۲۰۱۷ء کے ان کے متنازع دورے کے بعد یہ ان کا اسرائیل کا دوسرا دورہ ہے۔
EPAPER
Updated: February 19, 2026, 10:15 PM IST | Geneva
مغربی کنارے میں اسرائیلی توسیع کی اقوام متحدہ کے ۸۵؍ مذمتی ارکان میں ہندوستان شامل نہیں ہے، جبکہ وزیر اعظم مودی اسرائیلی دورے کی تیاری کررہے ہیں،۲۰۱۷ء کے ان کے متنازع دورے کے بعد یہ ان کا اسرائیل کا دوسرا دورہ ہے۔
ہندوستان ان۸۵؍ اقوام متحدہ کے رکن ممالک میں شامل نہیں ہے جنہوں نے اسرائیل کی مقبوضہ مغربی کنارے میں توسیع کی شدید مذمت کی ہے۔ واضح رہے کہ وزیراعظم نریندر مودی اپنے متنازع ۲۰۱۷ءکے دورے کے بعد اسرائیل کا دوسرا دورہ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس دورے کا حال ہی میں ایپسٹین فائلوں میں حوالہ دیا گیا تھا۔بعد ازاں اقوام متحدہ کے۸۵؍ رکن ممالک، عرب لیگ، اسلامی تعاون کی تنظیم اور یورپی یونین نے ساتھ مل کر ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں اسرائیل کے یک طرفہ فیصلوں اور اقدامات کی شدید مذمت کی گئی جو مقبوضہمغربی کنارے میں اسرائیل کی غیر قانونی قبضہ کو وسعت دینے کے لیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ’’ ایسے اقدامات اسرائیل کے بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ داریوں کے خلاف ہیں اور انہیں فوری طور پر واپس لیا جانا چاہیے،‘‘ اور کسی بھی قسم کی الحاق کی شدید مخالفت کا اعادہ کیا۔ان ممالک نے متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور دیرپا امن کی حمایت کا اعادہ کیا، جس میں فلسطینی خود ارادیت کا احترام اور۱۹۶۷ء سے مقبوضہ علاقوں کی آبادیاتی حیثیت شامل ہے۔بیان میں کہا گیا،’’ہم دوبارہ تاکید کرتے ہیں کہ متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں، میڈرڈ کے حوالوں، بشمول زمین کے بدلے امن کے اصول، اور عرب امن اقدام کی بنیاد پر منصفانہ اور دیرپا امن، ۱۹۶۷ء سے شروع ہونے والی اسرائیلی قبضے کا خاتمہ اور دو ریاستی حل کا نفاذ، جہاں دو جمہوری ریاستیں، ایک آزاد اور خودمختار فلسطین اور اسرائیل، ۱۹۶۷ء کی لائنوں کی بنیاد پر، یروشلم سمیت، محفوظ اور تسلیم شدہ سرحدوں میں امن اور سلامتی کے ساتھ ساتھ رہیں، علاقے میں سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے کا واحد راستہ ہے۔‘‘
بیان پر دستخط کرنے والے ممالک میں الجزائر، اینڈورا، آسٹریلیا، آسٹریا، بحرین، بنگلہ دیش، بیلاروس، بیلجیئم، برازیل، برونائی دارالسلام، کینیڈا، چاڈ، چین، کولمبیا، کیوبا، قبرص، شمالی کوریا، ڈنمارک، جبوتی، مصر، ایل سلواڈور، ایسٹونیا، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، یونان، گیانا، آئس لینڈ، انڈونیشیا، آئرلینڈ، اٹلی، جاپان، اردن، کویت، کرغیزستان، لیٹویا، لبنان، لائبیریا، لیختنسٹائن، لتھوانیا، لکسمبرگ، ملائیشیا، مالدیپ، مالٹا، موریطانیہ، ماریشس، میکسیکو، مراکش، موزمبیق، نمیبیا، نیدرلینڈز، نیوزی لینڈ، ناروے، عمان، پاکستان، پولینڈ، پرتگال، قطر، جنوبی کوریا، روسی فیڈریشن، سان ماری نو، ساؤ ٹومے اور پرنسپے، سعودی عرب، سینیگال، سلوواکیہ، سلووینیا، صومالیہ، جنوبی افریقہ، اسپین، سوڈان، سویڈن، سوئٹزرلینڈ، شام، تاجکستان، گیمبیا، ترکیہ، یوگنڈا، متحدہ عرب امارات، تنزانیہ، برطانیہ، یوراگوئے، وانواتو، وینزویلا، یمن اور زمبابوے شامل ہیں۔
دراصل اسرائیلی حکومت نے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقہ میں زمین کی رجسٹریشن شروع کرنے کا منصوبہ منظور کیا ہے، جو ریاست کےبڑے علاقوں کوحکومت کی ملکیت قرار دینے کی اجازت دے گا اور فلسطینیوں پر اپنی زمین کی ملکیت ثابت کرنے کا بوجھ ڈالے گا۔ یہ۱۹۶۷ء سے ویسٹ بینک پر اسرائیلی قبضے کے بعد پہلی بار ہے کہ ایسی زمین کو رسمی طور پر اسرائیلی ریاستی جائیداد کے طور پر رجسٹر کیا جائے گا۔اس فیصلے پر علاقائی مذمت ہوئی ہے، فلسطینی اتھارٹی نے اسے ’’عملی الحاق‘‘ قرار دیا اور خبردار کیا کہ یہ دہائیوں سے جاری آبادکاری کی توسیع کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی میں رسمی شکل دے رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام فلسطینیوں کے خود ارادیت کے حق کو کمزور کردے گا اور مقبوضہ علاقوں پر اسرائیلی کنٹرول کو مزید مستحکم کرے گا۔اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی امور کے لیے کوآرڈینیشن آفس (OCHA) کے مطابق، 2025 میں مقبوضہ ویسٹ بینک میں کم از کم ۳۷۱۳۵؍فلسطینی بے گھر ہوئے، جو ریکارڈ کی بلند ترین سالانہ تعداد ہے۔ UNRWA نے رپورٹ کیا کہ اسرائیلی فوجی کارروائیوں سے جنین، طولکرم اور نور شمس کے شمالی کیمپوں سے۳۳۳۶۲؍ فلسطینی بے گھر ہوئے، جبکہ گھروں کی مسماری، یہودی آباد کاروں کی تشدد اور رسائی کی پابندیوں سے ہزاروں مزید بے گھر ہوئے۔حالیہ برسوں میں یہودی آباد کاروں کا تشدد بھی بڑھ گیا ہے۔مقبوضہ مغربی کنارے میں تقریباً ۳۳؍ لاکھ فلسطینی رہتے ہیں، جبکہمغربی کنارہ اور مشرقی یروشلم میں تقریباً۷؍ لاکھ اسرائیلی آباد کار آباد ہیں۔ تاہم یہ آبادکاریاں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی سمجھی جاتی ہیں۔جبکہ ۲۰۲۴ء میں، عالمی عدالت انصاف نے فیصلہ دیا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی زمین ضبطی اور آبادی کی منتقلی مکمل طور پر باطل ہے اور اس کی طویل قبضہ کو جتنی جلدی ممکن ہوختم کیا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات کا اعادہ کیا
بعد ازاں نریندر مودی کی قیادت والی حکومت کے تحت ہندوستان کی اسرائیل کے تعلق سے پالیسی میں نمایاں تبدیلی آئی ہے، جو تاریخی طور پر فلسطین کی مضبوط حمایت سے مختلف ہے۔ اگرچہ ہندوستان سرکاری طور پر دو ریاستی حل اور فلسطینی ریاست کی حمایت کرتا ہے، لیکن۲۰۱۴ء سے بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے تحت اسرائیل کے ساتھ اسٹریٹجک، دفاعی اور معاشی روابط نمایاں طور پر گہرے ہوئے ہیں۔حالانکہ ہندوستان۱۹۸۸ء میں فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے والے پہلے غیر عرب ممالک میں شامل تھا۔ لیکن ۲۰۱۴ء کے بعد دونوں ممالک نے دفاعی تعاون میں مضبوط اسٹریٹجک پارٹنرشپ قائم کی ہے۔ اسرائیل ہندوستان کا ایک بڑا ہتھیار سپلائر بن گیا ہے، اے آئی،سائبر سیکیورٹی، زراعت اور انسداد دہشت گردی میں تعاون بڑھ رہا ہے۔اگرچہ ہندوستان نے فلسطینی حقوق اور یہودی آبادکاریوں کے خلاف کچھ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی حمایت کی، لیکن اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی شدید مذمت سے گریز کیا۔اس تبدیلی پر کارکنوں اور حزب اختلاف نے تنقید کی ہے کہ حکومت ہندوستان کی روایتی فلسطین حامی پوزیشن سے ہٹ کر اسرائیل کے قریب ہو رہی ہے۔صحافی انوشا روی سود نے حکومت کی پوزیشن کو ’’اخلاقی طور پر دیوالیہ پن‘‘ قرار دیا۔